November 13th, 2019 (1441ربيع الأول16)

سقوط کشمیر اور پاکستان کا کردار

 

آخرکار بھارتی حکومت نے مقبوضہ جموں و کشمیر پر اپنا قبضہ مکمل کرلیا ۔ انا للہ وانا الیہ راجعون ۔ سقوط کشمیر کی خبریں کئی روز سے آرہی تھیں جبکہ دو دن قبل اس کی تصدیق ہوگئی تھی کہ مودی نے کشمیرکی متنازع حیثیت ختم کرنے کے لیے پیر کو بھارتی پارلیمنٹ کے اجلاس میں بل پیش کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس کے لیے بی جے پی کے تمام اراکین پارلیمنٹ کو لازمی طور پر اپنی حاضری یقینی بنانے کی ہدایات جاری کی گئی تھیں۔ کسی بھی قسم کے ناخوشگوار واقعے سے بچنے کے لیے تمام بھارتیوں اور غیر ملکیوں کو مقبوضہ کشمیر فوری خالی کرنے کے احکامات جاری کردیے گئے تھے جبکہ وادی میں اضافی بھارتی فوج بھی تعینات کردی گئی تھی ۔ مقبوضہ جموں و کشمیر یوں تو بھارت کے تسلط ہی میں تھا مگر عالمی طور پر اس تسلط کو تسلیم نہیں کیا گیا تھا اور یہ متنازع علاقہ ہی تصور کیا جارہاہے ۔ بھارتی حکومت نے وادی کو بھارت میں ضم کرنے کے اعلان کے بعد اب اس کی متنازع حیثیت ختم کرنے کی کوشش کی ہے ۔ مودی حکومت نے خود بھارتی آئین کو پامال کر کے شق 370 ختم کر دی جو کشمیر کو علیحدہ حیثیت دیتی ہے ۔مقبوضہ کشمیر میں سات لاکھ سے زاید بھارتی سینا کی موجودگی کے باوجود کشمیری آزادی کے نعرے بلند کرتے رہے ہیں اور انہوں نے ان نعروں کی قیمت بھی ادا کی ہے ۔ یہ پاکستان کی ذمہ داری تھی کہ وہ کشمیر میں بسنے والوںکو بھارتی تسلط سے آزادی دلاتا مگر پاکستان کا کردار کشمیر کی آزادی کے سلسلے میں مایوس کن ہی رہا ۔ گزشتہ کئی عشروں سے پاکستان نے کشمیر کے مسئلے کو پس پشت ڈال رکھا تھا اور اس کے بجائے بھارت سے امن کی آشا کی بات کی جاتی رہی ۔ بھارت نے اس سے خوب فائدہ اٹھایا اور اب اپنے قدرتی اتحادی اسرائیل کے ساتھ مل کر کشمیر میں وہی کھیل کھیلا جو اسرائیل فلسطین میں کھیل رہا ہے ۔ بھارت کی جانب سے آنے والی ان اطلاعات کے باوجود کہ کشمیر کو بھارت کے ساتھ ضم کرنے کا اقدام کیا جارہا ہے ، پاکستان کی جانب سے کوئی جوابی پیش قدمی نہیں دکھائی دی ۔ بس جواب میں خوخیاتے رہے اور دھمکاتے رہے کہ ہماری طرف ٹیڑھی آنکھ سے نہیں دیکھنا ۔ بھارت کو فی الحال پاکستان کو ٹیڑھی آنکھ سے دیکھنا بھی نہیں تھا ، اس لیے اس پر پاکستان کی سرگرمیوں سے کوئی اثر نہیں پڑا ۔ اگر یہی کام پاکستان کررہا ہوتا تو بھارت کی جانب سے کیا کچھ نہیں ہوجاتا ۔ وہ اب تک پاکستان پر چہار طرف سے حملہ آور ہوچکا ہوتا اور معاملہ بین الاقوامی فورم پر اٹھ چکا ہوتا مگر پاکستان کی جانب سے امن کی بے جواز پالیسی کے سبب پاکستان اپنے ایک اہم علاقے سے ہاتھ دھو بیٹھا ہے ۔ یہ وہ علاقہ ہے جہاں سے پاکستان آنے والے سارے دریا پھوٹتے ہیں جن پر بھارت پہلے سے بند بنا کر پاکستان کو خشک سالی اور سیلاب سے دوچار کرتا رہا ہے ۔ پاکستان کے ارباب اختیار کو سمجھنا چاہیے کہ یہ احمقانہ سلوگن ہے کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں ۔ جنگ یقینا کسی مسئلے کا حل نہیں مگر یہ مسئلے کے حل کی طرف ضرور لے جاتی ہے ۔ فلسطینی اسرائیل کے ساتھ اور کشمیری اگر بھارت کے ساتھ معرکے کی وہی صلاحیت رکھتے ہوتے جو طالبان کے پاس ہے تو امریکا کی طرح اسرائیل اور بھارت بھی مذاکرات کی میز پر بیٹھے اپنے زخم چاٹ رہے ہوتے ۔ اگر طالبان بھی محض احتجاج کی راہ اختیار کرتے تو ان کا حال بھی وہی ہوتا جو اسرائیل نے فلسطین کے ساتھ کیا ہے ۔ اگر پاکستان پلوامہ واقعے کے بعد بھارتی دراندازی کا مسکت جواب نہ دیتا تو کیا بھارت باز آسکتا تھا ۔ ہر جگہ امن کی خواہش کام نہیں آتی ہے اور لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے ۔ اگر پاکستان بھارتی ایٹمی دھماکوں کے جواب میں ایٹمی دھماکے نہ کرتا تو اب تک بھارت پاکستان کو ہڑپ نہ کرتا تو بھی اس کی حیثیت کو بھوٹان سے کمتر کرچکا ہوتا ۔ اگر کوئی ملک اپنا دفاع نہیں کرنا چاہتا اور دشمن کی جارحیت کے سامنے بھی امن کی رٹ لگانااسے پسند ہے تو پھر اس ملک کو فوج رکھنے کا کوئی حق نہیں ۔ بہتر ہے کہ سوئٹزرلینڈ کا ماڈل اپنا لیا جائے ۔ کشمیری اب بھی پرامید ہیں کہ کوئی محمد بن قاسم ان کی مدد کو پہنچے گا مگر پاکستان کی دوڑ دھوپ دیکھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان کی امیدیں بے سود ہیں ۔ پاکستان اپنے عوام کے جذبات کو ٹھنڈا کرنے کے لیے دوڑ دھوپ ضرور کرے گا یعنی پہلے اسلامی ممالک کی تنظیم کے پاس جائے گا ، پھر اقوام متحدہ کی جنرل کونسل اور پھر سلامتی کونسل میں روئے دھوئے گا ۔ مگر ان عالمی فورموں پر آج تک کون سا مسئلہ حل ہو اہے جو اب حل ہوجائے گا۔ سب تقریریں کریں گے اور ایک مذمتی قرارداد منظور ہوجائے گی اور بس ۔ پاکستان نے اعتماد سازی کے اقدامات کے نام پر بھارت کے ہر املا پر عمل کیا ۔ حافظ سعید اور ان کی جماعت پر پابندی لگائی ، انہیں گرفتار کیا ، کشمیری مجاہدین کو دہشت گرد قرار دیا ، کلبھوشن کو فوری طور پر سزا دینے کے بجائے معاملہ لٹکا کر رکھا کہ بھارت اس پر اپنے دوستوں کے ذریعے میدان ہموار کرسکے ، کرتار پور کا راستہ یکطرفہ کھولا اور اس کے لیے راتوں رات راستے بھی بنا ڈالے ، بھارت کو سلامتی کونسل کی نشست کے لیے نہ صرف خود ووٹ دیا بلکہ اپنے دوست ممالک کو بھی پیغام بھیجا کہ بھارت کو سلامتی کونسل کا رکن بنانے پر پاکستان کو کوئی اعتراض نہیں ہے ۔ پاکستان نے بھارت کو خوش کرنے کے کون کون سے اقدامات نہیں کیے ۔ اس کا جواب بھارت نے یہ دیا کہ پلوامہ حملے کا الزام لگا کر پاکستانی سرزمین پر حملہ کردیا ۔ اور اب پاکستان کی مستقل منمناہٹ کو دیکھتے ہوئے بھارت نے کشمیر کو ضم کرنے کا اعلان ہی کردیا ہے ۔ اسی بھارت کی اس وقت آواز بھی بلند نہیں ہوئی تھی جب چین نے ڈوکلام کے علاقے میں قبضہ کرکے بھارتی فوجیوں کو چلتا کردیا تھا ۔ پاکستانی قیادت کو چاہیے کہ وہ تاریخ سے سبق حاصل کرے ۔ بدر ، احد اور یرموک کے غزوات نہ ہوتے تو مسلمان ختم ہوچکے ہوتے ۔ ہدایت بھی یہی ہے کہ گھوڑے تیار رکھو کہ گھوڑوں کی سموں کے زمین پر پڑنے والی ضربوں سے اڑنے والی دھول کی قسم رب العالمین نے بھی اپنی مقدس کتاب میں کھائی ہے ۔ریلیوں اور احتجاجی مظاہروں کی صورت میں ہونے والے ماتمی جلسوں کا کچھ حاصل حصول نہیں ہے ۔ ابھی نہیں یا پھر کبھی نہیں کے مصداق فوری فیصلے کرنے ہوں گے ۔ تاہم کچھ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پاکستان کی اعلیٰ قیادت کشمیر کے حل کے لیے کیے جانے والے مودی کے فیصلے سے متفق نہیں تو حامی ضرور ہے اور دوڑ دھوپ اور دھمکیاں محض خانہ پری ہیں ۔ اگر ایسا ہی ہے تو انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ تاریخ انہیں کبھی معاف نہیں کرے گی اور تاریخ کی کتابوں میں ان کا نام میر جعفر اور میر صادق کے ساتھ ہی لکھا جائے گا ۔ کشمیری تو کل بھی جدوجہد کررہے تھے اور آئندہ بھی کرتے رہیں گے ۔ بھارتی جبر و تشد د کے سامنے انہوں نے پہلے بھی سر تسلیم خم نہیں کیا تھا اور اب بھی وہ ہر قسم کی قربانی کے لیے تیار ہیں مگر جس طرح تمام مسلم ممالک نے اپنے کشمیری بھائیوں کو پیٹھ دکھائی ہے ، اس کے بعد سے پوری دنیا میں مسلمان مزید ابتلا کا شکار ہوں گے ۔ میانمار جیسا ملک دھڑلے کے ساتھ روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی کررہا ہے ۔ چینی صوبے سنکیانگ میں دس لاکھ سے زاید مسلمان زیر حراست ہیں اور انہیں جبری طور پر اپنا مذہب چھوڑنے پر مجبور کیا جارہا ہے ۔ فلسطینی پہلے ہی لاچار ہیں ایسے میں پاکستان کی جانب سے خاموشی سے دنیا بھر میںمسلمانوںپر مظالم کرنے والوں کی حوصلہ افزائی ہوگی ۔ عمران خان اور ان کے لانے والوں کو نوشتہ دیوار پڑھ لینا چاہیے کہ بھارت کے لیے اعتماد سازی کے اقدامات کا اب وقت گزرچکا ۔ انہیں اب پاکستانی قوم کی اعتماد سازی کے لیے اقدامات کرنے ہوں گے ۔ پاکستانیوں کے دل اپنے کشمیری بھائیوں کے ساتھ دھڑکتے ہیں اور وہ پاکستان کی شہ رگ کشمیر کو آزاد کروانے کے لیے ہر ممکن اقدام کے لیے تیار ہیں ۔ اگر عمران خان نے پاکستانی عوام کے جذبات نہیں سمجھے تو جذبات کا یہ سیلاب انہیں بہاکر بھی لے جاسکتا ہے اور ثالثی کرانے والے امریکا کا محکمہ خارجہ کہتا ہے کہ یہ بھارت نے کیا ہے یہ ہمارا اندرونی معاملہ ہے ۔

                 بشکریہ جسارت