October 14th, 2019 (1441صفر14)

بھارتی دہشت گردی اور امت مسلمہ کا کلسٹر

 

مقبوضہ کشمیر میں کیا ہورہا ہے۔ کیا یہ محض بھارتی جنون ہے جو اس پر 72 برس سے طاری ہے یا اس تازہ جنون کی پشت پر کوئی اور چیز ہے۔ پاکستان کشمیر کا دعویدار ہے لیکن مدعی اس قدر سست ہے کہ جب بری طرح تشدد کیا جاتا ہے کشمیریوں کو لہولہان کر دیا جاتا ہے تو ایک بیان داغ دیا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ سید علی گیلانی نے وہ کہہ دیا جو شاید ان کی جانب سے آخری بات تھی۔ انہوں نے کہا ہے کہ مسلمانو! ہم مر گئے اور تم خاموش رہے تو اللہ کے سامنے جواب دینا ہوگا۔ اگر سید علی گیلانی یہ پیغام نہ بھی دیتے تو امت مسلمہ کو اللہ کے سامنے جواب دینا ہوگا۔ بھارتی فورسز نہتے عوام پر کلسٹر بم پھینک رہی ہیں۔ پاکستانی حکومت کی جانب سے صرف مذمت، سخت احتجاج اور بھارت کو تنبیہ سے آگے کچھ نہیں کرسکتی۔ جب سے امریکی صدر ٹرمپ نے مسئلہ کشمپر پر ثالثی کی پیشکش کی ہے اس کے بعد سے نریندر مودی کا دماغ حد سے زیادہ خراب ہو گیا بھارتی وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ نریندر مودی مذاکرات کے بغیر مسئلے حل کرانا جانتے ہیں۔ اس کے بعد سے کشمیر میں بھارتی مظالم میں اضافہ ہوگیا۔ وادی میں دس ہزار فوجی بھی بھیج دیے۔ اب کلسٹر بم بھی مار دیے گئے۔ شاید یہ طریقہ ہے مذاکرات کے بغیر مسائل حل کرنے کا۔ بھارتی حکوم نے مقبوضہ کشمیر سے سیاحوں اور ہندو یاتریوں کو فوراً نکلنے کی ہدایت کی ہے۔ غرض مقبوضہ کشمیر اور کنٹرول لائن پر جنگ کی حالت پید اہوگئی ہے۔ پاکستانی فوج کے ترجمان اور دفتر خارجہ اور وزیر خارجہ نے ردعمل میں کہا ہے کہ بھارت آگ سے کھیل رہا ہے یہ خطرناک کھیل ہے۔ بھارتی عمل جنیوا کنونشن کی خلاف ورزی ہے۔ اب پاکستانی میڈیا پر کلسٹر بموں، جنیوا کنونشن اور اس بم کے نقصانات پر بحث شروع ہوجائے گی لیکن عملی طور پر پاکستانی حکومت نے کوئی ایسا قدم نہیں اٹھایا ہے جس سے بھارت کی کشمیریوں پر زیادتیاں بند ہو سکیں۔ بھارتی فوج کو جن مجاہدین نے لگام دے رکھی تھی ان کو بھی پاکستان نے دہشت گرد قرار دینا شروع کردیا ہے۔ جو کشمیر کی بات کرے اسے پاکستان میں بھی دہشت گرد تصور کیا جانے لگا ہے۔ امن کی آشا کی بات کرنے والے مسلسل کشمیریوں کو آگ و خون میں نہلا رہے ہیں۔ ان کے گھر اجاڑ رہے ہیں اور ہمارے حکمران اقوام متحدہ میں استصواب رائے کی قرارداد کو چھیڑنے کے لیے بھی تیار نہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ شملہ میں پیپلز پارٹی کے بانی کشمیر کو دو طرفہ تنازع تسلیم کرکے دو طرفہ مذاکرات سے حل کرنے پر اتفاق کرکے آگئے تھے اب اقوام متحدہ کی بات شروع ہوتے ہی بھارت دو طرفہ معاملہ قرار دے کر کشمیر کے معاملے سے عالمی برادری کو الگ کر دیتا ہے۔ بات دراصل یہ ہے کہ یہ نام نہاد عالمی برادری مسلمانوں کے قتل عام پر کبھی جنبش نہیں کرتی۔ اسے تو توہین رسالت کی مجرمہ آسیہ مسیح کی فکر ہوتی ہے۔ قادیانی اقلیت کی فکر ہوتی ہے۔ بھارت میں مسلمانوں کو جے رام نہ کہنے پر جلا ڈالنے پر دنیا کو سانپ سونگھ جاتا ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں پیلٹ گن کے استعمال پر انسانی حقوق کی تنظیمیں سوتی رہتی ہیں پھر مہینوں بعد اپنی رپورٹ میں تشویش ظاہر کرتی ہیں۔ لیکن بھارت کے ہاتھ بھی اسرائیل کی طرح نہیں پکڑے جاتے۔ اسے کسی قسم کی عالمی پابندیوں کا خوف نہیں۔ کوئی مسلمان ملک ایٹم بم بنا لے یا کوئی میزائل یا طیارے خرید لے تو اسے محض یہ سامان خریدنے پر ٹرمپ بہادر دھمکیاں دیتے ہیں اور پیلٹ گنوں اور کلسٹر بموں کے استعمال پر صرف زبانی جمع خرچ کوئی پابندی کوئی رکاوٹ کچھ نہیں۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ عالم کفر ایک ہے بلکہ اصل سبب یہ ہے کہ عالم اسلام ایک نہیں ہے۔ سب نے اپنی اپنی الگ دکان بنا رکھی ہے۔ امریکی کاسہ لیسی میں ایک دوسرے سے بڑھ گئے ہیں۔ افسوس ناک امر یہ ہے کہ کشمیر پاکستان کا مسئلہ ہے اور پاکستانی حکمران ہی بودے بنے ہوئے ہیں۔ جہاد کے نام سے ایسے بدکتے ہیں جیسے یہ کوئی غلط چیز ہے۔ حالانکہ بھارت کی لاکھوں کی افواج کو ناکوں چنے چبوانے والا یہ جہاد ہی تھا۔ ہمارے حکمرانوں نے جہاد سے روگرانی کی اور اب ٹرمپ کی ثالثی کی طرف نظریں ہیں۔ میر کیا سادہ ہیں… بھلا ٹرمپ پاکستان کے لیے کسی مسئلے میں ثالثی کرے گا۔ اس کی ثالثی تو عالمی بینک کی طرح ہوگی کہ کشمیر کو بھارت کا حصہ قرار دے دے گا اور پاکستان کو کشمیر میں ہونے والے نقصانات کا جرمانہ ادا کرنے کا حکم۔
کشمیر کا مسئلہ سب سے زیادہ پاکستانی حکمرانوں نے خراب کیا ہے۔ پاکستان میں ہر حکمران کشمیر پر مختلف موقف اختیار کرتا ہے کبھی جنرل پرویز کشمیر پر تھرڈ آپشن کی بات کرتے ہیں تو کبھی بے نظیر، راجیو کی آمد پر کشمیر ہائوس کے بورڈ اترواتی ہیں اور کبھی نواز شریف گجرات کے قسائی دہشت گرد مودی کو ویزے کے بغیر ذاتی مہمان کے طور پر اپنے گھر بلا لیتے ہیں اور اب عمران خان ملاقات کے لیے بے چینی کا مظاہرہ کرکے پاکستان کی بے عزتی کروا چکے ہیں کہ کسی طرح وہ دعوت دے دے… اب عالم اسلام کیا کرے گا۔ وہ وقت گزر گیا جب عالم اسلام فلسطین کے لیے ایک ہو جاتا تھا اور پورے عالم اسلام میں کوئی ملک نہیں بچتا تھا جہاں کشمیر کے لیے آواز نہ اٹھتی ہو اور فلسطین کے لیے جلوس نہ نکلتا ہو۔ لیکن یہی عالم اسلام جو کسی زمانے میں کلسٹر بم تھا اب ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا ہے۔سعودی عرب اور ایران کی لڑائی، سعودی عرب اور یمن کی لڑائی، عراق اور عربوں کی لڑائی، شام میں کون کس سے لڑ رہا ہے اس کا پتا ہی نہیں چل رہا۔ مصر میں اخوان کو کچل کر رکھ دیا گیا۔ باقی اسلامی ممالک تو قابل ذکر بھی نہیں۔ لے دے کر ترکی سے آواز اٹھتی ہے۔ تو اس پر بھی اسلامی ممالک سے ہی اعتراض اٹھتا ہے مدعی سست ہو تو کوئی دوسرا کیا کرے گا۔ اب اے پی سی بلائی جائے گی پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلایا جائے گا۔ تقریریں کی جائیں گی اور پھر خاموشی… عالم اسلام کا کلسٹر بکھر چکا ہے۔ جس روز یہ متحد ہو گئے ایک آواز ہو گئے تو پھر کسی کا کلسٹر بم کام نہیں کرے گا۔ لیکن اس کے لیے ان ممالک میں دلیر، اسلامی اور حقیقی قیادت کی ضرورت ہے جب تک حقیقی اسلامی قیادت نہیں آئے گی۔ ہندوئوں کے مندروں کی گھنٹیاں بند ہونے کی دھمکی بے کار ہے۔ ایٹم بم کی بھی کوئی وقعت نہیں اور لاکھوں کی تعداد میں فوج کی بھی اہمیت نہیں۔ ورنہ 34 ملکی افواج ہی کچھ کرسکتی ہوں تو کر ڈالتیں۔ پاکستان نے الٹی سمت میں بہت زیادہ سفر کرلیا ہے جب تک درست راستے پر نہیں آئیں گے پریشان ہی رہیں گے۔

بشکریہ جسارت