October 20th, 2019 (1441صفر21)

انٹرویو شاہین ضیأ

 

انٹرویو: غزالہ عزیز
نمائندہ جسارت: آپ کو حاجی کیمپ میں عازمین حج کو تربیت دیتے ہوئے کتنا عرصہ گزرا ہے؟
شاہین ضیا: ہم نے یہ سلسلہ 2004ء میں شروع کیا تھا۔ اس وقت ہم نے خود اس کام کا بیڑا اٹھایا تھا۔ یہ فیصلہ قرآن انسٹی ٹیوٹ کی انتظامیہ کی جانب سے کیا گیا تھا۔ پھر بعد میں یعنی تقریباً 3 سال پہلے سعودی حکومت کی جانب سے ہدایات میں بھی حاجیوں کی تربیت کے لیے کہا گیا ۔
2016ء میں قومی اسمبلی کی رکن عائشہ سید کی دعوت پر میں پارلیمنٹ گئی جہاں ہم نے اس حوالے سے بہت سی تجاویز دیں۔ لہٰذا ہماری تجاویز کی روشنی میں انہوں نے 2017ء میں اس چیز کو مشروط کر دیا کہعازمین حج کی تربیت لیں گے تو انہیں پاسپورٹ اول ترجیح میں دیں گے۔ اگر انہوں نے حاضری کے رجسٹر میں اپنی حاضری لگائی ہے ۔
ہمارے پروگرام حاجی کیمپ میں حج سے قبل ایک ماہ تک ہر روز ہوتے ہیں۔ 4، 4 دن غربی، شرقی، وسطی، بن قاسم وغیرہ کے ہوتے ہیں۔ یعنی روزانہ لوگ الگ ہوتے ہیں۔ بعض لوگ بہت زیادہ دلچسپی لیتے ہیں اور پوچھتے ہیں کہ کیا ہم کل دوبارہ آ سکتے ہیں؟ توہم کہتے ہیں کہ باری تودوسروں کی ہے لیکن آپ بھی آ سکتے ہیں ۔ اس موقع پر ہماری جانب سے شرکا کو لنچ بکس بھی دیے جاتے ہیں۔
ہم لوگوں کو قرآن انسٹی ٹیوٹ کی طرف سے ہونے والے حج تربیت گاہ کا شیڈول بھی دے دیتے ہیں۔ اس کا فائدہ یہ ہوا کہ پورے شہر میں ہونے والی ہماری تربیت گاہوں میں حاضری دگنی ہو گئی۔ ہم اپنے شیڈول میں انہیں ان کے گھر کے قریب ہونے والی حج تربیت گاہ کا پتا اور اوقات بتاتے ہیں۔ا س کے علاوہ ہم کوششیں کرتے ہیں کہ جس دن شرقی کے لوگ آئیں تو شرقی ہی کا ٹرینر اور تربیت دینے والی مدد گار ساتھی ہوں۔ اس طرح ان کا آپس کے تعلق بھی مضبوط ہوتا ہے۔ بعض دفعہ جان پہچان رشتے داری یا ہم آہنگی بھی نکل آتی ہے ۔
ہم حاجیوں سے یہ بھی پوچھتے ہیں کہ وہ پاکستانی حکومت سے کیا چاہتے ہیں۔ اس کے لیے ہم ان کو ایک فارم دیتے ہیں۔ وہ لوگ اس فارم کو پُر کرتے ہیں۔ پھر ہم اسے مرتب کرتے ہیں اور لوگوں کی ضرورت کے مطابق حکومت کو سفارشات فراہم کرتے ہیں۔مثال کے طور پر حج ٹریننگ کو پاسپورٹ سے مشرط کرنے کی تجویز ہم نے دی تھیجس پر 2 سال پہلے عمل کیا گیا اور اب حاجی ٹریننگ لیتے ہیں اور اگر ضرورت محسوس کرتے ہیں یا شوق بڑھتا ہے تو مزید علم حاصل کرنے کے لیے قریبی مدارس میں جاتے ہیں ۔
نمائندہ جسارت: کیا سعدوی حکومت تربیت کے معاملے میںپاکستانی حاجی سے غیر مطمئن تھی؟
شاہین ضیا: جی ہاں! اس سلسلے میں سعودی حکومت کو کئی مسائل ہوتے ہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ پاکستان سے آنے والے عازمین کو دین کی ٹھیک طرح سے سمجھ نہیں ہوتی۔ وہاں پاکستان ہائوس کے منتظم نے ایک واقعہ بتایا تھا کہ پاکستان کے حاجی دینی علم سے اتنے نا بلد ہوتے ہیں کہ ایک دفعہ پاکستان سے 4 خواتین ایک مرد آئے تھے۔ ہم نے انہیں 5 بستروں کا کمرہ دیا۔ انہوں نے اس پر خوب شور مچایا کہ یہ مرد ہمارے کمرے میں نہیں رہے گا، اس کو الگ کمرہ دیں۔ ہم نے انہیں کہا کہ یہ آپ کا محرم ہے، آپ کے ساتھ ہی رہے گا۔ کہنے لگیں یہ ہمارا محرم نہیں، ہمارا ڈرائیور ہے ہم اس کے ساتھ حج کرنے آئے ہیں۔ یعنی ان کو علم ہی نہیں تھا کہ محرم کے بغیر ان کا حج نہیں ہو گا ۔
نمائندہ جسارت: ایک سوال یہاں یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر کسی کا کوئی محرم مرد نہ ہوتا تو وہ عمرہ اور حج کیسے کریں؟
شاہین ضیا: اس معاملے میں ایک فقہی اجازت یہ ملتی ہے کہ کوئی ایسا گروپ جس پر ان کو اعتماد ہو، رشتے داری ہو یا جان پہچان ہو اور اس گروپ میں ان خواتین کے محرم موجود ہوں تو وہ خواتین جن کے محرم نہ ہوں وہ ان کے ساتھ جا سکتی ہے لیکن عمر کم از کم 50 سال ہونی چاہیے۔ یعنی نوجوان نہ ہوں ۔
کچھ برس پہلے 45 سال کی خواتین کو گروپ کی شکل میں حج اور عمرے کی اجازت علما سے فتویٰ لے کر حکومت کی طرف سے دی گئی تھی لیکن بعد میں کچھ قباحتیں سامنے آنے کے بعد یہ اجازت ختم کر دی گئی ۔
نمائندہ جسارت: آپ نے حج تربیت کے سلسلے میں پاکستان میں کہاں سے تربیت حاصل کی ہے؟
شاہین ضیا: اسلام آباد میں اسلامی انٹر نیشنل یونی ورسٹی ہے۔ ان کا ادارہ دعوۃ اکیڈمی ہے ۔ اس میں حج تربیت کے لیے ڈپلوما کورس کرایا جاتا ہے جس کے لیے مدارس سے تعلیم شرط ہوتی ہے۔ میں نے 2004ء میں یہ کورس کیا تھا ۔ اس وقت آخر میں انہوں نے تجاویز مانگی تھیں، میں نے اس سلسلے میں انہیں تجویز دی تھی کہ آپ شہروں کے نگراں بنائیں ورنہ یہ حاجیوں کی تربیت کا کام ٹھیک سے نہیں ہو پائے گا۔
اس تجویز پر انہوں نے عمل کیا اور مجھے سب سے پہلے کراچی میں حکومت کی طرف سے ٹرینر نامزد کیا۔ یہاں میں نے اس کام کے لیے با قاعدہ گروپ بنایا۔ اگلے سال انہوں نے مجھے سکھر بھیج دیا۔ وہاں میں نے یہی کام کیا ۔ یہ کام میرے لیے اس لیے بھی آسان رہا کہ دعوۃ اکیڈمی جو ڈپلوما کورس کراتی ہے، اس کے لیے مجھے وہاں 8 دن کے لیے بلاتی ہے میں تربیت دیتی ہوں۔ لہٰذامجھے کراچی اور سکھر میں اس کام کو کرنے میں مشکل نہیں ہوتی ۔ اب میں مدارس کی معلمات کو حاجیوں کی ٹریننگ کے لیے تربیت دے کرانہیں ٹرینر کے طور پر حاجی کیمپ میں مقرر کرتی ہوں۔ یہ کام پورے ملک میں ہو رہا ہے۔ ہمارے پاس پاکستان کی ہر زبان میں ٹریننگ دینے والی حج ٹرینرموجود ہیں۔ اس طرح حاجیوں کو حج سے قبل مختلف شہروں کے حاجی کیمپ میں تربیت دی جاتی ہے ۔
اس وقت ما شاء اللہ پاکستان کے تقریباً ہر شہر میں ہم نے یہ سلسلہ شروع کر دیا ہے۔ کراچی کے بعد سب سے زیادہ منظم حرم فورم ملتان کا ہے، جہاں حمیرا یاسمین ہیں، اسلام آباد میں شگفتہ عمر موجود ہیں، لاہورمیں فہمیدہ گل، ، کے پی کے میں جمیلہ احمد اور بلوچستان میں عابدہ ندیم حرم فورم کی نگراں ہیں ۔
اہم بات یہ ہے کہ مجھے دعوۃ اکیڈمی کے نگراں نے بتایا کہ کراچی میں احسن آباد میں دعوۃ اکیڈمی موجود ہے۔ حج ٹرینر کا ڈپلوما وہاں بھی کرایا جاتا ہے۔ یعنی احسن آباد میں واقع دعوۃ اکیڈمی میں یہ کورس کروایا جاتا ہے اور سند اسلام آباد سے جاری کی جاتی ہے۔ میں وہاں اب تک دو کورس مکمل کروا چکی ہوں ۔ چونکہ پورے ملک میں حاجیوں کو تربیت دی جاتی ہے لہٰذا ہمارے پاس پاکستان کی تمام زبانوں کے حج ٹرینر موجود ہیں جو اپنے اپنے علاقوں اور شہروں میں حاجیوںکی تربیت کرتے ہیں ۔
نمائندہ جسارت: جب آپ حاجیوں کو حج کی عملی ادائیگی کی تربیت دیتی ہیں تو کیا ان کی باطنی تربیت کا اہتمام کرتی ہیں؟
شاہین ضیا: جی بالکل! مثلاً یہ تو بتایا ہی جاتا ہے کہ طواف کیسے کریں گے۔ خود حاجیوں کو بھی اس کی فکر ہوتی ہے لیکن یہ نہیں بتایا جاتا کہ خانہ کعبہ کا طواف آپ کیوں کریںگے؟ احرام کے مخصوص دو کپڑے مرد اور عورت سر کی اوڑھنی کیوں پہنتی ہے۔ یہ ہم بتاتے ہیں۔ حج میں حکم ہے کہ اللہ کے گھر کے لیے ہر شے چھوڑ دو۔ گھر بار ، عمدہ پسندیدہ لباس سب چھوڑ کر ہر آزمائش سے گزرنے کی تیاری کر لو اور پھر اس حاصل ہونے والی تربیت کو اللہ کے نائب بن کر اللہ کی زمین پر اسلامی نظام قائم کرنے کے لیے استعمال کرو۔ یہ امت مسلمہ کا شعار ہے۔ حج امت کی تربیت کے لیے ایک کورس ہے تاکہ اس کے کے مجاہد تیار کیے جاسکیں۔
نمائندہ جسارت: پہلے کے حاجی اور آج کے حاجی میں کیا فرق ہے؟
شاہین ضیا: پہلے کے حاجی (تربیت سے پہلے) جب یوں ہی چلے جاتے تھے تو وہ سوچتے تھے کہ ہمار معلم ہو گا اور جیسا وہ کہے گا ہم کر لیں گے۔ اس سے پوچھ پوچھ کر مناسک حج کی ادائیگی کریں گے لیکن وہاں جا کر وہ ہاتھ نہیں لگتا تھا۔ وہاں ان سے حج کی ادائیگی میں چھوٹی اور بڑی غلطیاں سر زد ہوتی تھیں۔ بعد میں وہ دم دیتے تھے یا فدیہ دیتے تھے۔ اب یہ ہے کہ سعودی حکومت کی طرف سے باقاعدہ ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ پاکستان سے حاجی سیکھ کر آئے۔ مناسک حج کے بارے تربیت لے کر آئے۔ لہٰذا جب سے یہ ہدایات آئی ہیں، اس کے بعد سے وہ لوگ ہمیں آڈیٹوریم مائیک وغیرہ دیتے ہیں۔ اس سے پہلے جب ہم یہ کام کرتے تھے تو حاجیوں کو حج کی تعلیم دینے کے لیے جاتے تھے تو وہ لوگ وہاں ہمیں بیٹھنے کے لیے کرسی بھی نہیں دیتے تھے، لائٹ بند کر دیتے تھے، پنکھے بند کر دیتے تھے، ہمیں بولنے نہیں دیتے تھے، بتانے اور سمجھانے نہیں دیتے تھے ۔
لیکن پھر انہوں نے ہمیں حکومت کی ہدایت پر جگہ دی۔ بعد میں وہ پوچھتے تھے کہ آپ لوگ ہماری تمام تر عدم دلچسپی کے باوجود ٹھیک وقت پر موجود ہوتے تھے، یعنی آپ کو کبھی 10 بج کر 5 منٹ نہیں ہوئے اور نکلنے میں آپ نے 12 بج کر 10 منٹ نہیں لگائے تو یہ آپ نے کیسے ممکن کیا۔ ہم نے انہیں بتایا کہ ہم لوگ مدارس میں پڑھانے والے لوگ ہیں۔ ہم اپنی زندگیوںمیں نماز کے اوقات کے ساتھ زندگی گزارتے ہیں۔ اس کے بعد انہوں نے ایک ماہ بعدہمیں با قاعدہ شکریہ کا خط لکھا ۔
نمائندہ جسارت: آپ کو عازمین تربیتِ حج کے لیے سنجیدہ نظر آتے ہیں؟
شاہین ضیا: اس معاملے میں بڑی مشکل سے سنجیدگی پیدا ہوتی ہے لیکن پھر مزید لگن پیدا ہو جاتی ہے تو پھر جاتے جاتے بھی سوالات کرتے ہیں کہ کیا اور کیسے کب ۔ پھر بار بار ہم سے پوچھتے ہیں یہ کیسے کریں؟
جن لوگوں کو ’ حج مبرور‘ کی فکر ہوتی ہے وہ ہر چیز سیکھ کر جانا چاہتا ہے ۔
نمائندہ جسارت: کیا آپ کو کبھی ایسے لوگوں سے سابقہ پڑا جو حج کی آڑ میں مذموم مقاصد رکھتے ہوں؟
شاہین ضیا: جی ہاں ابھی بھی نظر آئیں۔ 42 خواتین کا گروپ تھا، جن میں سے 2 کو صرف کلمہ آتا تھا۔ پچھلے دنوں پورا جہاز ایسی عورتوں کو لے کر گیا تھا۔ ان عورتوں سے بات چیت کی گئی تو انہوں نے بتایا کہ ان کا وڈیرہ انہیں بھیج رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وہاں بہت خیرات ملتی ہے۔ جو کچھ تمہیں ملے گا، اس میں سے آدھا میرا اور آدھا تمہارا ہوگا۔ لہٰذا اس سلسلے میں حکومت پاکستان کو خیال رکھنا چاہیے یہ پاکستان کی عزت کی بات ہے ۔
نمائندہ جسارت: آپ حاجیوں کے نام کوئی پیغام دینا چاہیں گی؟
شاہین ضیا: میرا پیغام حاجیوں کے نام یہ ہے کہ حج مبرور کے لیے آپ کا باقاعدہ علم حاصل کریں تاکہ اتنا مشکل کام اتنی مشکل عبادت فاسد نہ ہونے پائے۔ دیکھیں! تین کام ایسے ہیں کہ وہ حج کو خراب کر دیتے ہیں۔ لڑائی ، جھگڑا ، گناہ ، زیادتی اور بے شرمی کی بات۔ لہٰذا اس کے لیے حاجیوں کو علم ہونا چاہیے کہ کون کون سے احکام ہیں۔ دعائوں اور نماز کا ترجمہ یاد کرنا چاہیے تاکہ عربی زبان میں ادائیگی کریں تو اس کے معنوںکو بھی سمجھیں۔ دل میں اثر ہو اور عبادت زیادہ بہترین طریقے سے ہو سکے ۔
نمایندہ جسارت: حج اور اس کی تربیت سے متعلق سوالات کا جواب دینے پر آپ کا شکریہ۔