October 20th, 2019 (1441صفر21)

انٹرویوراشدہ رفعت

 

سابقہ ممبر صوبائی اسمبلی کےپی کے

نمائندہ جسارت: کچھ اپنے بارے میں بتائیں؟
راشدہ رفعت: میری پیدائش پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں ہوئی۔ وہیں پلی بڑھی، تعلیم حاصل کی اور پھر شادی کے بعد نوشہرہ منتقل ہوگئی۔ میرا ایک ہی بیٹا ہے۔ قرآن پاک کو میں نے اس انداز سے پڑھا کہ عملی زندگی میں کام آئے۔ یہاں میں جماعت میں آگئی۔ جمعیت سے تعلق نہیں تھا۔ جب میں یہاں آئی تو اس وقت نظم بنا نہیں تھا۔ لوگ تھے، درس قرآن ہوتا تھا لیکن صوبے کا نظم نہیں بنا تھا۔ نظم بننے کے بعد میں رُکن بنی ہوں تو میرا نمبر چوتھا تھا۔ خیبرپختونخوا سے میں پہلی رکن شوریٰ ہوں۔ 1990ء میں، میں رُکن بنی، میرے سسر اختر الاسلام جماعت میں بہت سر گرم تھے۔

نمائندہ جسارت: کے پی کے میں خواتین کی مجموعی صورت حال کیسی ہے؟
راشدہ رفعت: عمومی صورت حال تو ٹھیک ہے۔ پہلے پہل جب میں یہاں آئی تھی، اس وقت اسکول اور کالج میں پڑھنے والی طالبات دیہاتوں سے جاتی تھیں۔ وہ باقاعدہ ٹوپی والے برقعے میں ہوتی تھیں۔ شہروں میں جو تھیں وہ چادریں لیتی تھیں۔ دیہات میں اب بھی ٹوپی والا برقع ہوتا ہے۔ بہت سے دیہاتوں میں ان کی اپنی چھَپی ہوئی چادریں ہوتی ہیں جن سے یہ پتا چل جاتا ہے کہ وہ کس ضلع کی ہیں۔ ان کی الگ سے پہچان ہوتی ہے لیکن اب صورت حال خاصی بدل گئی ہے۔ اب پردے کی بھی ویسی صورت حال نہیں ہے۔ خواتین ٹوپی والے برقعے کے علاوہ دوسرے برقعے بھی پہنتی ہیں۔ یہاں کی عورتیں دین سے بڑی محبت رکھتی ہیں، نماز روزے کی پابندی کرتی ہیں۔
میں نے یہاں کوئی عورت ایسی نہیں دیکھی جسے قرآن پڑھنا نہ آتا ہو۔ میں نے پنجاب میں دیکھا ہے کہ دیہاتوں میں وہاں بہت سی عورتوں کو قرآن بھی پڑھنا نہیں آتا۔ یہاں یہ صورت حال بالکل بھی نہیں ہے۔ یہاں کی عورتیں بہت اچھا درست تلفظ کے ساتھ قرآن پڑھتی ہیں۔ مثلاً میرے بیٹے کا نام یحییٰ ہے۔ یہاں سب درست پکارتے ہیں، جب میں پنجاب جاتی ہوں یا وہاں سے کوئی یہاں آتا ہے تو وہ ’’یا یا‘‘ پکارتے ہیں تو میرا بیٹا کہتا ہے کہ میں یا یا نہیں ہوں میں یحییٰ ہوں۔ یہ صرف پڑھے لکھوں کی بات نہیں، بلکہ یہاں عام لہجہ ایسا ہے۔ مجموعی طور پر یہاں غربت ہے، لوگ تجارت کرتے ہیں۔ یہاں پر این جی اوز اور تنظیمیں ضروریات کے حساب سے کام کر رہی ہیں۔ مثال کے طور پر بجلی نہیں ہے، پانی بہت دور سے لانا پڑتا ہے۔ جس کا یہ این جی اوز فائدہ اٹھاتی ہیں۔ چترال میں آغا خانی بہت بڑی تعداد میں ہیں، اس کی وجہ یہ ہے کہ ہر جگہ آغا خان الیکٹریکل اسکول، آغا خان کالج، صحت کے مراکز سب ہیں آغا خانیوں کے ہے۔ بے شمار این جی اوز ہیں، وہ وہاں پر بہت معروف ہیں۔ لوگ پسند کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ انہوں نے ہم کو بہت کچھ دیا ہے۔ ان کی وجہ سے سب سے زیادہ پڑھے لکھے لوگ چترال میں ہیں۔

نمائندہ جسارت: ایک تصور یہ ہے کہ کے پی کے میں عورتوں کو کمانے کے لیے گھر سے نکلنے کی اجازت نہیں ہے۔
راشدہ رفعت: جب میں نوشہرہ شادی ہو کر آئی تھی تو یہاں پر مجھے عجیب لگتا کہ گرمی میں لان کے کپڑے، سردی کے موٹے کپڑے، کوئی بھی چیز لینے کے لیے عورتیں نہیں جایا کرتی تھیں۔ گھر میں سارا کچھ آ جاتا تھا۔ مجھے عجیب لگتا تھا، میری تسلی نہیں ہوتی تھی جب تک میں جاکر دیکھ نہ لوں۔ اس لیے عام طور پر میں یہاں سے چیزیں نہیں لیتی لاہور سے ہی لے آتی تھی۔ لیکن اب ایسا نہیں ہوتا ۔ اب سب خود جا کر خریدتی ہوں۔ اب نوکری کا بھی بڑا رجحان ہوگیا ہے۔ جو ذرا پڑھ لکھ جاتی ہے وہ نوکری کرتی ہے۔ این جی اوز نے آکر اس کو بڑا فروغ دیا ہے۔ عورتوں کی آزادی کی تحریکیں ہیں۔ آج کل تین جگہ پر بہت کام ہو رہا ہے۔ ویمن، چائلڈ اور منارٹی (اقلیت) مغرب ان کمزور طبقات میں احساس محرومی جگا کر انہیں حق دلانے کی بات کرتا ہے۔

نمائندہ جسارت: شادی میں بے جا اخراجات کے حوالے سے جو بل منطور ہوا ہے اس کی تفصیلات کیا ہیں؟
راشدہ رفعت: یہ جہیز بل ڈیڑھ سال پہلے جماعت اسلامی نے پیش کیا تھا۔ پھر سلیکٹ کمیٹی میں چلا گیا۔ اب یہ اللہ کے کرم سے پاس ہو گیا ہے۔ اس میں جہیز پر پابندی ہے، سوائے اس کے کہ والدین اور رشتے دار تحفے دیں اور کھانے کے کل اخراجات ملا کر ڈیڑھ لاکھ تک کیے جا سکتے ہیں۔ کھانے میں ون ڈش ہوگی یعنی چاول، سالن میٹھے کی ایک ڈش۔ کمیٹی کے ارکان کے پر زور احتجاج پر ایک ڈش کا اضافہ کیا گیا اس کے علاوہ مہندی پر کھانا نہیں ہوگا۔ صرف مشروب کی اجازت ہوگی۔ لائٹنگ صرف گھر پر کی جاسکتی ہے۔راستوں پر نہیں۔ میوزک یا ڈھول کی آواز دھیمی ہونی چاہیے، باہر نہیں جانی چاہیے اور فنکشن رات 11بجے سے پہلے ختم کرنا ہوگا۔

نمائندہ جسارت: کے پی کے میں جماعت کی اب صورت حال کیسی ہے؟
راشدہ رفعت: کے پی کے میں جب جماعت تنظیمی لحاظ سے کمزور تھی اس وقت بھی سیاسی لحاظ سے مضبوط تھی ۔ اب بھی بڑی محنت کی ہے نظم نے، اس لیے کہ ہمارا ووٹ بینک پی ٹی آئی کی وجہ سے کم ہوا ہے۔ اس کے لیے ہم نے بڑی محنت کی ہے۔ بڑی مہمات چلائی ہیں۔ پچھلے دنوں مردانہ نظم نے خواتین کے ساتھ ملا کر مہم چلائی۔ خواتین میں کام کے حوالے سے ضلع میں یو سی اور ولیج کونسل کی سطح تک کام ہوا ہے اور ہو رہا ہے۔ تا کہ نچلی سطح تک کام ہو جائے۔

نمائندہ جسارت: پچھلے دنوں تیمر گرا سے متعلق خبر آئی تھی کہ خواتین کے ووٹ کا تناسب مردوں سے زیادہ تھا کیا یہ جماعت کی کوششوں کے نتیجے میں تھا؟
راشدہ رفعت: یہ مالا کنڈ ڈویژن کے ضلع دیر کی بات ہے ہم نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ اپنے مزاج کو تبدیل کرلیں۔ وہ کہتے ہیں ہم کب منع کرتے ہیں وہ خود نہیں جاتیں۔ ووٹ ڈالنے۔ ہم نے کہا جب آپ کہیں گے کہ چلو تو وہ کیوں نہیں جائیں گی۔ اب آپ قانون کے لحاظ سے بھی پابند ہیں کہ جہاں کہیں 10فی سے کم ووٹ کاسٹ ہوگا خواتین کا تو نتائج کالعدم ہو جائیں گے۔ جب سراج الحق سینیٹ میں چلے گئے اور صوبائی اسمبلی کی سیٹ خالی ہوئی، اعزاز ملک افکاری صاحب کامیاب ہوئے لیکن ان کا نوٹیفکیشن ہونے میں تقریباً ایک سال گزر گیا نوٹیفکیشن نہیں ہو رہا تھا اس کی وجہ یہ تھی کہ عورتوں نے ووٹ پول نہیں کیا تھا الیکشن کمیشن اور خاص طور پر عورت فائونڈیشن نے زور لگایا کہ خواتین نے ووٹ نہیں ڈالے اسی لیے نتائج منسوخ ہونے چاہییں۔ ایک سال تک بڑی تکلیف اٹھانی پڑی۔
ہمارے لوگوں نے اس وقت بھی کوشش نہیں کی۔ انہوں نے کہا تو تھا کہ عورتیں جائیں ووٹ ڈالیں لیکن اس کے لیے کوئی محنت نہیں کی۔ اب جو ضمنی الیکشن ہوا وہ کالعدم قرار دے دیا گیا، سراج صاحب بھی وہیں کے ہیں اور اعزاز الملک بھی وہیں کے ہیں۔ وہاں کی عورتوں نے ووٹ نہیں ڈالا۔ جب نتائج کالعدم قرار دے دیے گئے اور ضمنی الیکشن ہوں گے تو اب ڈالیں گی۔ ان کو بار بار کہا جاتا ہے۔ میں نے ان سے کہا کہ جب لبرل اور سیکولر اتنی زیادہ کوشش کرتے ہیں اپنے نظریات کو پھیلانے کے لیے اور الیکشن کو استعمال کرتے ہیں تو ہم اسلام کے لیے کیوں نہیں نکال سکتے۔ جب کالعدم ہونے کے بعد ضمنی الیکشن میں عورتوں نے ووٹ ڈالا اس میں 80 فیصد ووٹ جماعت کو پڑا اس کا مطلب یہ ہوا کہ جماعت کا ووٹ بینک عورتوں کے نہ ہونے کی وجہ سے آدھا رہ جاتا ہے۔ اب سب کو پتا چل گیا ہے کہ عورتوں کا ووٹ بہت ہی ضروری ہے۔ اس کے بغیر ہم اسمبلی میں جا ہی نہیں سکتے۔

نمائندہ جسارت: کے پی کے میں تعلیم کے حوالے سے جماعت اسلامی کی کیا کوششیں رہی ہیں۔
راشدہ رفعت: ایم ایم اے کے دور میں پشاور میں خواتین یونیورسٹی بنائی گئی تھی جس کے بعد میں پیپلز پارٹی نے بے نظیر بھٹو یونیورسٹی کا نام دیا ابھی پھر ہمارے اور پی ٹی آئی دور میں بھی صوابی میں خواتین یونیورسٹی بنی ہے۔ ایک مردان میں بنی ہے۔ سوات میں جو بنی ہے ہمارے ایم این اے عاکف سعید ہیں۔ ان کی کوششوں سے بنی ہے اور طے یہ ہوا تھا کہ انہیں کے نام سے بنے گی لیکن اس کو نواز شریف کے نام سے بنایا گیا ہے لیکن اس کے لیے سارا کام تو جماعت نے کیا تھا۔ جب جماعت PKP میں اتحاد میں شامل ہوئی تھی تو جماعت کا مطالبہ تھا کہ تعلیم کی وزارت ہمیں دے دی جائے انہوں نے کہا کہ ہم دے ہی نہیں سکتے ہمارے اوپر بڑا پریشر ہے۔ جو وزارتیں جماعت کو ملی ہیں پھر آفاق کا نظام شامل کیا گیا جو بڑی کامیابی ہے۔ قرآن کی تعلیم کا بل منظور کرلیا گیا۔ انفرادی سود پر یہ پابندی کا بل منظور ہوا۔

نمائندہ جسارت: ایک خاتون خانہ اور رکن اسمبلی کی حیثیت سے آپ کی دن بھر کی مصروفیات کیا ہوتی ہیں؟
راشدہ رفعت: فجر سے قبل اُٹھنا ہوتا ہے کیونکہ بیٹے کو تیار کر کے اسکول بھیجنا ہوتا ہے۔ اسی کی ساری تیاری ہوتی ہے اور صبح ہی اس کو قرآن پڑھاتی ہوں۔ کیونکہ اس کا بھی بہترین وقت صبح کا ہی ہے۔ کیوں کہ دن میں وقت نہیں ہوتا جب وہ اسکول سے آتا ہے تو عام طور پر میں موجود نہیں ہوتی۔ پھر وہ ٹیوشن چلا جاتا ہے پھر وہ کھیلنے چلا جاتا ہے۔ گھر کے کام میں دس بجے تک مکمل کر لیتی ہوں۔ اس میں کھانا پکانا اور گھر کو ترتیب سے رکھنا دونوں شامل ہیں۔ اس کے بعد میں صبح10بجے تک گھر سے نکل جاتی ہوں۔ کبھی دیر سے بھی نکلنا ہوتا ہے۔ شوہر کی قریب ہی دکان ہے۔ وہ اپنا اور ملازمین کا کھانا گھر سے لے کر جاتے ہیں اسی دوران بیٹے کو بھی کھانا دے دیتے ہیں۔ بیٹا ٹیوشن سے آتا ہے تو اس وقت تک میں گھر آ چکی ہوتی ہوں۔ اس کے علاوہ جو مصروفیات ہیں ان میں اسمبلی کے سیشنز میں اسٹینڈنگ کمیٹیوں کے اجلاس ہوتے ہیں۔ مختلف آرگنائزیشن ہیں ان کے اجلاس ہوتے ہیں۔ جماعت کی مصروفیات ہیں صوبہ کے سیاسی امور کی میں نگران ہوں۔ باقی پروگرامات کو میں ترجیحات کے حوالے سے دیکھتی ہوں کہ ان میں جانا ضروری ہے تو میں چلی جاتی ہوں۔ اور جن کو غیر اہم سمجھتی ہوں ان کو چھوڑ دیتی ہوں۔ جیسے تعلیم کے میدان میں کچھ این جی اوز ایسی ہیں جن کو میں بہت پسند کرتی ہوں۔ ان کے پروگرامات اور پالیسی سے میں آگاہ بھی ہوتی ہوں اور کرنے کے کچھ کام ہیں ان میں میں جاتی بھی ہوں۔ ویمن اور چائلڈ پر کام کرنے والی بھی کچھ این جی اوز ہیں۔ یہ تینوں ان پر فوکس رکھتی ہوں۔ صرف اسی سے تعلق رکھتی ہے وہ بھی بڑا مثبت ہوتا ہے۔ وفاقی محتسب والے بھی بہت سارے ایسے کام کرتے ہیں جن میں وہ بھی بلا لیتے ہیں۔ گھر واپس آتی ہوں تو دیکھتی ہوں کہ کیا پکا ہے کیا پکانا ہے۔ کچن کے کام کر لوں۔ اپنے شوہر اور بیٹے کی خواہش کے مطابق کچھ تیار کر لیتی ہوں۔ مثلاً کل وہ کہہ رہے تھے کہ میٹھی چیزیں نہیں ہوتیں گھر میں۔ تو پھر میں نے سویاں بنا لیں۔ اس کے باوجود کہ میرا اٹھنے کا دل نہیں چاہ رہا تھا یہ میرے فرائض میں شامل ہے۔ اس لیے میں اس کو اہمیت دیتی ہوں۔

نمائندہ جسارت: آپ کی مصروفیت پر آپ کے شوہر کو شکایت ہوتی ہے؟
راشدہ رفعت: نہیں شکایت نہیں کرتے بلکہ چاہتے ہیں کہ میں اپنی مرضی سے نہ جاؤں، میں نے بتایا کہ آج مجھے اسلام آباد جانا ہے تو انہوں نے کہا کہ اوہو… میں نے پوچھا آپ ایسے دکھ سے کیوں کہہ رہے ہو تو کہنے لگے دور جانا ہے اس لیے فکر ہوتی ہے۔ ان کی جانب سے رکاوٹ کوئی نہیں ہے۔ ان کا تعاون نہ ہوتا تو میں نکل ہی نہیں سکتی تھی۔

نمائندہ جسارت: آئندہ انتخابات کے لیے جماعت اسلامی کوئی نئی حکمت عملی مرتب کر رہی ہے؟
راشدہ رفعت: کچھ باتیں ذکر تو میں کر چکی ہوں دوسرے ہمارے معمول کے کام ہیں۔ پھر ورکشاپس میں، مردانہ نظم نے جو مہم چلائی اس میں انہوں نے اضلاع کا نظم کے لیے ورکشاپ کی۔ ورکشاپ سے پہلے پریس کانفرنس کی اور خواتین نظم کو مہم میں وہ بھی پریس کانفرنس کروائیں۔ پورا شیڈول دیا۔ ایک مہینے کا وقت دیا ممبر سازی کے لیے ہدف دیا کہ ایک یو سی میں اتنی اور صوبائی حلقہ میں اتنی ممبر سازی کرنی ہے۔ پھر کہا کہ ان ممبران کا کانووکیشن کریں گے۔ مدارس کی عالمات کی کانفرنس، یوتھ کنوینشن، اساتذہ کنوینشن، تیسرے مرحلے میں مشورہ دیا کہ کونسل بنانی ہے ہر سطح پر۔ پھر سیاسی امور کی ذمے داری میری ہے۔ ہم نے میٹنگ کی اس میں یہ طے کیا کہ لوگوں کے شناختی کارڈ بنوائیں۔ ووٹر کا اندراج کروائیں۔ تبلیغی، دعوتی کیمپ اور نادرا کے کیمپ کیے۔ تبلیغی کیمپ اس طرح کیے کہ مسجدوں سے اعلان کروایا کہ جماعت آئی ہوئی ہے آپ لوگ شریک ہوں۔ صبح 9 بجے سے شام 4 بجے تک کیمپ لگا اس درس قرآن میں ترانے، نماز کا طریقہ، وضو کا طریقہ، پورے دن کا تبلیغی کیمپ لگا۔ اس میں ممبر سازی بھی کی۔ جہاں جہاں ضرورت تھی نادرا کی موبائل ٹیم منگوائی اور وہاں لوگوں کے شناختی کارڈ بنوائے۔ ایک جگہ پر دو دو سو کارڈ بنے۔

نمائندہ جسارت: وزیرستان اور کے پی کے کے دیگر علاقوں میں ہونے والا آپریشن پختونوں کے خلاف سمجھا جا رہا ہے۔ اس صورت حال سے کیسے نبٹا جا رہا ہے اور کیا واقعی ایسی ہی صورت حال ہے؟
راشدہ رفعت: بعض جگہ پر واقعی اسی طرح کی صورت حال ہے فاٹا کا نقیب کراچی گیا ہوا تھا وہ قتل ہو گیا۔ پھر دوسرے کا بھی ہو گیا کوئی ہاتھ نہیں رکھنے دیتا کہ کس نے کیا اور کیوں کیا۔ راؤ انوار نے عدالت میں درخواست دی اور عدالت میں پیش کیے بغیر ہی ضمانت دے دی گئی۔ اب کہتے ہیں پکڑ کر لاؤ اور مفرور قرار دے دیا۔ جان بوجھ کر جو کام ہوتے ہیں اس کی وجہ سے بہت زیادہ بد دلی پھیلتی ہے۔ کسی کا بچہ ایسے قتل کر دیا جائے وہ ایسی حکومت سے کیسے خوش ہوں گے۔ اس طرح کے واقعات کے تدارک کی صورت ہے۔ ہم نے مطالبہ کیا بیانات دیے، سوشل میڈیا پر مہم چلائی کہ راؤ انوار کو پکڑا جائے۔ اس کو معطل کیا جائے اور ایسے تمام لوگوں کو سزا بھی دی جائے۔

نمائندہ جسارت: اس طرح کے واقعات سے پختونوں میں نفرت تو پیدا نہیں ہو رہی؟
راشدہ رفعت: کہیں کہیں ایسا ہے۔ وزیرستان میں ہے، فاٹا میں ہے، فاٹا کے لوگوں کو پولیٹیکل ایجنٹ کے حوالے کیا ہوا ہے۔ ان کی آزادیاں سلب ہیں۔ وہ پاکستان میں ہے بھی اور نہیں بھی۔ وہاں سے لوگوں کو اسمبلی میں بٹھا دیتے ہیں اور وہ علاقہ غیر بھی ہے۔ یہاں جو بھی جرائم میں ملوث ہوتے ہیں وہ فاٹا چلے جاتے ہیں۔ وہاں پولیس اور دیگر ادارے کام ہی نہیں کر سکتے۔ وہ وہاں آرام سے پھرتا ہے۔ اس کا علاج تو نکلنا چاہیے۔ اس طرح کی صورت حال میں ان کے حقوق غصب ہوتے ہیں، منشیات اور اسمگلنگ کا جتنا کاروبار وہاں ہے کہیں نہیں ہے۔ پاکستان میں اس کی سزا ہے وہاں نہیں ہے۔ لوگ کروڑ پتی بن جاتے ہیں اس کی بنیاد پر اسمبلی اور سینیٹ میں آ جاتے ہیں۔

نمائندہ جسارت: فاٹا اور پاٹا میں کیا فرق ہے؟

راشدہ رفعت: فاٹا صدر کے زیر انتظام ہے اور پاٹا کا گورنر کے زیر انتظام۔ جماعت کا موقف ہے کہ ان کو پاکستان میں شامل کیا جائے قومی اسمبلی میں قرار داد پیش کی۔ یہ کے پی کے ساتھ ہے اس لیے صوبے میں شامل ہو جانا چاہیے۔ ان کی زبان ان کا لباس، ان کا کلچر ہر چیز ہماری طرح کا ہے۔ اس علاقے کے بارے میں اگر قانون سازی نہیں کر سکتے۔ اس لیے ان لوگوں کا قومی اسمبلی اور سینیٹ میں بیٹھنے کا فائدہ کیا ہے۔

نمائندہ جسارت: آپ کے نزدیک پاکستانی عورت کے لیے سب سے زیادہ ضروری چیز کیا ہے؟
راشدہ رفعت: عورت اور مرد کو متوازن رویہ اختیار کرنا چاہیے اور یہ اس وقت ممکن ہے جب قرآن کا قانون نافذ ہوگا۔ آج کل جو صورت حال ہے بچیوں کے ساتھ زیادتی اس پر میں نے اسمبلی میں بھی کہا کہ سورہ نور کو تعلیمی اداروں میں پڑھانا لازم کردیں تا کہ اس کے مطابق معاشرہ بنے آج کل تو محرم رشتوں میں بھی اتنا بگاڑ ہے خود ہی محرم رشتوں کی عزت خراب کرنے لگے ہیں۔ سگے رشتہ دار روزانہ خبریں آتی ہیں۔ سگے باپ، بھائی، چچا یا ماموں وغیرہ نے ایسا کام کیا یہ سب اس وقت بند ہوگا جب سورہ نور اور قرآن کے مطابق سزاؤں کا نفاذ ہوگا۔ عورت کو اپنی ذمے داری پہچاننا چاہیے۔ اس کو مرد کا تحفظ چاہیے اس کے بغیر وہ کچھ کر نہیں سکتی۔ یہ جو این جی اوز کر رہی ہے لڑکیوں کا گھر سے باہر آ جانا یا مردوں سے آزاد ہو جانا یہ عجیب سی بات ہے۔ بچوں والی عورتیں جنہوں نے کچھ سال گھر میں گزار لیے ہوتے ہیں ان کا اپنے کسی آشنا کے ساتھ چلے جانا اتنا افسوس ناک ہے گویا وہ سمجھ ہی نہیں رہی ہے اپنے کردار کو اس کو پتا نہیں چل رہا کہ اسے کرنا کیا ہے وہ اپنے فرائض ہی نہیں جانتی۔ امریکن قونصلیٹ والوں نے بلایا تھا وہاں میں نے کہا تھا کہ ہمارے مردوں کے ساتھ لڑائی نہیں ہے ہم تو ایک دوسرے کے ساتھی ہیں نیکی پھیلانے اور بدی کو روکنے کے لیے اور میں اپنی مثال دوں کہ میرا شوہر مجھ پر حکمران ہے مجھے ماننا چاہیے کہ اس کا حکم چلے گا لیکن اس کی طرف سے یہ بات نہیں آتی کہ وہ مجھ پر حکمرانی کرتا ہے بلکہ مشورے دیتے ہیں۔ اگر میرے سر میں درد ہوتا ہے تو میرا شوہر بھی دبا دیتا ہے میرا بیٹا بھی دبا دیتا ہے۔ میرے پیر میں درد نہ بھی ہو تو میں اس سے کہتی ہوں کہ ذرا میرا پیر دباؤ، یا اسی کو کہتی ہوں کہ جاؤ اپنے بابا کا سر دباؤ اس سے کہتی ہوں کہ تم یہ کرو تمہارا فرض بنتا ہے۔ میں بھی کرتی ہوں اپنے شوہر کا سر دباؤں یا چائے یا کسی چیز کی ضرورت ہو وہ ان کو دوں۔ خدمت ہے اصل چیز وہ میری خدمت کرتے ہیں اور میں ان کی خدمت کرتی ہوں۔ اسی طرح کام چلتا ہے۔ اس طرح کام نہیں چلتا کہ وہ اپنا کام کریں میں اپنا کام کروں۔ نہ محبت رہتی ہے نہ الفت رہتی ہے نہ گھر میں برکت رہتی ہے۔ ہونا یہی چاہیے کہ ہم ایک دوسرے کو اپنے وجود کا احساس دلائیں، موجودگی کا احساس دلائیں۔ اور ایک دوسرے کی خدمت کو اپنا فرض بھی سمجھیں یہ ایک کے حقوق ہوتے ہیں تو فرائض بھی ہوتے ہیں، حقوق کی ادائیگی کے بعد حقوق ملتے ہیں۔ جہاں نا ہمواری ہے وہاں پر رشتوں میں ناہمواری ہے۔ تعلقات میں نا ہمواری ہے۔ وہاں معاشرتی روایات میں ناہمواری ہے۔ بڑا ضروری ہے کہ آپ قرآن کی ہدایت کے مطابق اپنی زندگی کو بنائیں۔ ہم حکومت سے یہ کہتے ہیں کہ اسلامی سزاؤں کا نفاذ کرے۔

نمائندہ جسارت: خواتین سے متعلق جماعت اسلامی کے کیا منصوبے ہیں؟
راشدہ رفعت: خواتین کے لحاظ سے ہمیں تو کوئی رکاوٹ نہیں، حلقہ خواتین آزاد ہے اس میں عالمہ بھی موجود ہیں اور علماء سے بھی ہم رابطہ رکھتے ہیں۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ عورت کو عورت کا کردار ادا کرنا چاہیے۔ جہاں اس کو گھر میں کام کرنا ہے، ملازمت کرنی ہے۔ اس بات کی ضرورت ہے کہ خاوند کے علاوہ بھی کمائی آئے تو اس کی اجازت تو اللہ تعالیٰ بھی دیتا ہے کر لے۔ جہاں اس کی تعلیم ایسی ہے کہ ضرور اس کو کام کرنا چاہیے یا ادارے ایسے ہوں وہاں اس کو کام کرنا چاہیے لیکن اس کے ساتھ ضروری ہے کہ اپنی گھریلو ذمے داری، بچوں کی تربیت پر اس کام کو حاوی نہ کریں۔ یہ بڑا نقصان ہوگا کہ ہم کو صرف نوکری کرنی ہے اور بچے کسی کے حوالے کر دیے نہ ہمارے ہاں جماعت میں جو عورتیں کام نہیں کرتیں وہ جماعت کا کام اسی طرح کرتی ہیں جیسے جاب کر رہی ہوں۔ اپنے فرض کو سمجھتی ہیں، تنخواہ نہیں ملی لیکن بڑے دل کے ساتھ جماعت کو وقت دیتی ہیں۔ کارکن بھی بغیر کسی معاوضے کے کام کرتے ہیں الیکشن کا کام اسی قدر سخت ہوتا ہے، ٹف ڈیوٹی کرتے ہیں۔ لیکن عورتوں کا بلاوجہ گھر سے نکلنا یہ نا پسندیدہ ہے۔ اس کو روکنے کی ضرورت ہے۔ ہم اس کے لیے نصیحت آمیز درس کرتے رہتے ہیں۔

نمائندہ جسارت: پاکستانی خواتین کے لیے آپ کا کیا پیغام ہے؟
راشدہ رفعت: میں یہ کہتی ہوں کہ ان کو اپنے حقوق کا بھی پتا ہو اپنے فرائض کا بھی پتا ہو، قرآن کو ساتھ لے کر دینی تعلیم مکمل کریں۔ صرف جدید تعلیم کافی نہیں ہوتی۔ اس لیے نہیں ہوتی کہ ابو جہل کو بڑا سمجھدار اور دانشور کہتے تھے۔ ان کی مجلسوں میں اس کی رائے کے بغیر کوئی فیصلہ ہوتا نہیں تھا اس کا نام ابو جہل تو نہیں تھا اس کا نام تو عمرو بن ہشام تھا۔ ابو جہل اس لیے کہا گیا کہ دنیا کا سمجھدار ترین آدمی کے دل تک قرآن پہنچا نہیں۔ کہنا ہمارا فرض ہے بتانا ہمارا فرض ہے تربیت کرنا ہمارا فرض ہے۔ اس کے ساتھ قرآن سے جڑنے کی کوشش کریں اور اپنے بچوں کو محلے کے بچوں کو، اپنے رشتے داروں کے بچوں کو قرآن سے جوڑنے کی کوشش کریں۔ اسکولوں میں تو ان کو کچھ نہیں سکھایا جاتا۔ دین سے جوڑنے کے حوالے سے اس لیے آپ کو خود کچھ کرنا ہوگا۔

نمائندہ جسارت: آپ کی پسندیدہ کتاب اور پسندیدہ شاعر کون ہے؟
راشدہ رفعت: شاعر تو علامہ اقبال پسند ہے میں کہتی ہوں کہ حکومت فارسی سکھانے کا بندوبست کرے۔ یا فارسی کلام اردو میں ترجمہ کرا دے۔ اگر کسی کو مسلمان بننا اور مسلمان رہنا ہے تو اسے چاہیے کہ اقبال کو ضرور پڑھے۔ جب میں طالب علم تھی اس وقت مجھے غالب بہت پسند تھے۔ مولانا کی خلافت و ملوکیت بہت پسند ہے۔ کئی بار پڑھی ہے ۔ باقی لٹریچر بھی پڑھا ہے ہر کتاب دوسری سے بڑھ کر ہے۔ علامہ یوسف قرضاوی کی کتاب ’’ ترجیحات کا تعین‘‘ نے میرے علم میں بہت اضافہ کیا ہے۔

                                                                                                                                                                        بشکریہ جسارت