October 15th, 2019 (1441صفر15)

انٹرویو دردانہ صدیقی

 

(یہ انٹرویو 8 مارچ 2018 کو "دی نیوز" اخبار میں شائع ہوا)
جماعت اسلامی پاکستان کا خواتین ونگ سیاسی اور معاشرتی سرگرمیوں میں بہت فعال ہے۔ جماعت اسلامی پاکستان وہ واحد سیاسی جماعت ہے جس کے مرکزی امیر جماعت اسلامی پاکستان کے دو سیکرٹری جنرل ہوتے ہیں۔ ایک مردانہ ونگ سے اور دوسری خواتین ونگ سے۔ ویمن ونگ کی سیکرٹری جنرل کو جماعت اسلامی پاکستان کی خواتین ارکان منتخب کرتی ہیں۔ 11 خواتین ارکان جماعت اسلامی پاکستان کی مرکزی مجلس ِ شوریٰ کا حصہ ہوتی ہیں جن میں سے ایک جماعت اسلامی ویمن ونگ کی سیکرٹری جنرل ہوتی ہیں جبکہ باقی 10 خواتین ممبران کو جماعت اسلامی خواتین ونگ کی ارکان پورے پاکستان سے منتخب کرتی ہیں۔آج ہم تعارف کروانے جارہے ہیں جماعت اسلامی پاکستان ویمن ونگ کی سیکرٹری جنرل محترمہ دردانہ صدیقی سے جو اپنی جماعت سے گزشتہ 30 سالوں سے منسلک ہیں۔
سوال: آپ کی مرکزی مجلسِ شوریٰ میں کتنے ارکان ہیں؟
جواب: مرکزی مجلس شوری کُل 80 ارکان پر مشتمل ہوتی ہے جن میں سے 10 خواتین مرکزی مجلس شوریٰ کی رکن ہوتی ہیں جنہیں جماعت اسلامی پاکستان کی خواتین ارکان براہِ راست منتخب کرتی ہیں۔
سوال: آپ جماعت اسلامی ویمن ونگ کی سیکرٹری جنرل ہیں۔ آپ کے دور کی مدت کتنی ہے؟
جواب: ویمن ونگ کی جنرل سیکرٹری تین سال کی مدت کے لیے منتخب ہوتی ہے۔ میں نے پچھلے اکتوبر میں اپنی مدت ختم کرلی تھی۔ دوسری دفعہ منتخب کی گئی ہوں۔
سوال: آپ کیا سمجھتی ہیں آپ کے دوبارہ انتخاب کی کیا وجوہات تھیں؟
جواب: میرا خیال ہے کہ جماعت اسلامی کی خواتین ارکان اس مقام پر ہیں کہ وہ اس سوال کا بہتر جواب دے سکیں۔ ہمارا اصل ہدف پاکستان کو ایک اسلامی فلاحی ریاست بنانا ہے جس کی بنیادیں قران و سنت کی تعلیمات پر مبنی ہوں گی۔ ہماری نگاہ خواتین کے مسائل حل کرنے پر ہے، خواتین اور پاکستان کے غریب عوام۔ جب ہم پاکستان کے مسائل کی جڑ کو دیکھتے ہیں تو یہ ثابت ہوتا ہے کہ کرپشن کے بڑے پیمانے پر پھیلاؤ کی وجہ سے پاکستان ان مسائل کا شکار ہوا ہے۔ جماعت اسلامی واحد جماعت ہے جو کرپشن فری حکومت بناسکتی ہے اور ہم یہ پیغام پاکستان کے عوام کو دے رہے ہیں۔ ہماری تمام تر قیادت پاکستان کے آئین کی دفعہ 63-62 پر پورا اترتی ہے اور ہمیں اپنی ایماندار اور پر عزم قیادت پر فخر ہے۔
سوال: بچوں کے ساتھ ہونے والے جرائم کو روکنے کے لیے کیا کرنا چاہئے؟ خاص طور سے چھوٹے بچوں کے ساتھ ہونے والی زیادتی جیسے قصور کی زینب اور پاکستان کے دوسرے حصے کے بچوں کے ساتھ ہوا؟
جواب: جماعت اسلامی ویمن ونگ نے ایک شعبہ کو اس کام کے لیے مختص کردیا ہے جو خواتین اور بچوں سے متعلق معاملات کو دیکھے گا۔ ضرورت ہے کہ ہم ان معاملات کو اچھی طرح سے دیکھیں کے کون سے عوامل کی وجہ سے بچوں کے خلاف ہونے والے جرائم میں شدت سے اضافہ ہوا ہے۔ ہمیں والدین کو اسلامی تعلیمات کے مطابق زندگی گزارنے کی تربیت دینی چاہیے اور انہیں اس کا علم دینا چاہیے۔ اس طرح کے گھناؤ نے جرائم کو روکنے کے لیے ہمیں معاشرے کو آگاہی دینی چاہیے۔ میڈیا کو بھی اصل مسائل کو نمایاں کرنے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ اپنے بچوں کے تحفظ کے لیے ضروری ہے کہ ایسے مجرموں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے۔ دو سال پہلے قصور میں بچوں کے جنسی اجزاء سے متعلق ویڈیو سامنے آنے پر حکومت نے سخت اقدامات کیے ہوتے تو آج حالات مختلف ہوتے۔ ان مسائل کے حل کے لیے قران و سنت کے مطابق شعور اور علم پھیلانے کی ضرورت ہے۔
سوال: کیا آپ سمجھتی ہیں کہ بچوں کو جنسی تعلیم دینی چاہیے یا نہیں؟
جواب: مغربی خطوط پر جنسی تعلیم دینے کے کوئی فوائد نہیں ہیں۔ اصل مسئلہ بچوں کا جنسی حملوں سے تحفظ ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے بچوں کو تعلیم دیں کہ قران و سنت کے مطابق ان کے لیے کیا اچھا ہے اور کیا بُرا، انہیں بتایا جائے کہ کس طرح زندگی گزارنی ہے۔ سب کو حلال اور حرام کی تعلیمات دینی چاہئیے۔ جب ہم اپنی اصل کی جانب لوٹیں گے جو کہ اسلام کی بنیادی تعلیمات ہیں جب ہی ہم اپنے ان مسائل کو حل کرنے کے قابل ہوسکیں گے۔
سوال: کچھ سیاست کے متعلق بات کرلیتے ہیں۔ جماعت اسلامی نے ایک بھرپور پروگرام اور منشور پیش کیا ہے لیکن اب تک لوگ جماعت کو الیکشن میں ووٹ نہیں ڈالتے۔ آپ کے خیال میں اس کی کیا وجہ ہے؟
جواب: ایک پہلو یہ ہے کہ ہمیں عوام سے منسلک ہونے اور تمام لوگوں تک پہنچنے کے لئے سخت محنت کی ضرورت ہے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ آجکل میڈیا کوریج کی بہت اہمیت ہے بدقسمتی سے متعصب میڈیا ہمارے کاموں کی کوریج کو محدود کرنے کا کسی حد تک ذمہ دار ہے۔ ایک بڑے مجمع کے باوجود ہماری بہت سی سرگرمیاں خبر نہیں بن پاتیں۔
سوال: جماعت اسلامی کی مرکزی مجلس ِ عاملہ میں خواتین ارکان کا کیا کردار ہے؟ کیا خواتین فعال انداز میں فیصلوں اور مشوروں میں حصہ لیتی ہیں یا انہیں ایک طرف کردیا جاتا ہے؟
جواب: جماعت اسلامی خواتین مرکزی مجلسِ شوریٰ کے اجلاسوں میں بہت فعال کردار ادا کرتی ہے۔ ہر اجلاس سے پہلے تحریری شکل میں ہر رکن کو ایجنڈا فراہم کردیا جاتا ہے اور خواتین بھرپور تیاری کے ساتھ اجلاس میں شرکت کرتی ہیں۔ یہاں پر جنس کی بنیاد پر تفریق نہیں کی جاتی۔
سوال: موجودہ سیاسی منظرنامے میں وہ کون سی تبدیلیاں ہیں جو آپ لے کے آنا چاہتی ہیں؟
جواب: ہم پاکستان کے آئین پر یقین پر رکھتے ہیں اور تبدیلی پارلیمنٹ کے ذریعے آنی چاہئیے۔ ہم ووٹ کے ذریعے تبدیلی پر یقین رکھتے ہیں اور موجودہ سیاسی نظام کو چلتا ہوا دیکھنا چاہتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہم اس پر بھی یقین رکھتے ہیں کہ موجودہ سیاسی نظام ملک کی امیر اشرافیہ کے ہاتھوں اغوا ہوچکا ہے جو غریب عوام کے مفاد میں کچھ نہیں کررہے ہم پاکستان کے غریب اور متوسط طبقے آواز بننا چاہتے ہیں۔ 
سوال: کیا آپ کو یقین ہے کہ الیکشن کا انعقاد اپنے مقررہ وقت پر ہوجائے گا؟
جواب: اس وقت ہم یہ اندازہ نہیں لگا سکتے کہ کیا ہوگا، لیکن ہمیں امید ہے کہ الیکشن اپنے وقت پر ہوں اور الیکٹورل ریفارمز کے ذریعے عوام کی حقیقی آواز اسمبلیوں تک پہنچے۔
سوال: ہمارے معاشرہ میں عورت کے موجودہ کردار کے بارے میں آپ کیا کہتی ہیں؟ 
جواب: عورت کو معاشرے میں فعال اور متحرک کردار ادا کرنا چاہئیے۔ انہیں ان کی شراکت پر اعزاز اور عزت ملنی چاہیے۔ اس وقت نوکری پیشہ خواتین کا سب بڑا مسئلہ انہیں ان کے کام کی جگہ پر ہراساں کرنا ہے اس لیے عورت کو اس کے کام کی جگہ پر تحفظ کی ضرورت ہے۔ ٹرانسپورٹ کا مسئلہ بھی نوکری پیشہ خواتین کا بڑا مسئلہ ہے۔ اسمبلی کو ان مسائل کے حل کے لیے قوانین پاس کرنے چاہئیں۔ معاشرہ میں عورت کا اہم کردار گھر کی تعمیر اور نئ نسل کی تربیت ہے۔ اسی لیے گھریلو صنعت بننی چاہیے تا کہ خواتین گھر میں اپنے خاندان اور بچوں کی دیکھ بھال کے ساتھ کام کرسکیں۔ ہمارے معاشرے نے عورت پر دوہری ذمہ داری عائد کردی ہے۔ ان حالات میں گھر اور باہر کی ذمہ داری کو متوازن رکھنا بہت مشکل ہوجاتا ہے۔ یہاں تک کہ فرانس میں خواتین نے "گھر واپس چلو" تحریک شروع کی ہے۔ ہمیں ان تمام چیزوں کو مدِ نظر رکھنا چاہیے تاکہ خواتین کی معاشرہ میں شراکت بہتر ہوسکے۔ 
سوال: کیا آپ سمجھتی ہیں کہ پارلیمنٹ نے خواتین کے لیے مناسب قانون سازی کرلی ہے؟
جواب: یقینناً پارلیمنٹ نے اب تک ناکافی کردار ادا کیا ہے لیکن پارلیمنٹ کے کردار سے پہلے ضرورت ہے کہ ہم اپنے معاشرہ کو خواتین اور خواتین کے کردار پر شعور دیں۔ محض قانون سازی کرنے سے ہماری روزمرہ کی زندگی تبدیل نہیں ہوسکتی یہ ہم سب کی اجتماعی ذمہ داری ہے کہ ہم خواتین اور بچوں کو محفوظ ماحول فراہم کریں۔ 
سوال: عمران خان نے اپنے لاہور کے جلسے میں پارلیمنٹ پر لعنت بھیجی کیا آپ اُن کے خیالات سے اتفاق کرتی ہیں؟
جواب: نہیں ہم ایک سیاسی جماعت ہیں اور ہم پارلیمنٹ اور ایک جمہوری معاشرہ میں اس کے کردار پر یقین رکھتے ہیں۔ عوامی اجتماعات میں ایسے الفاظ استعمال نہیں کرنے چاہیے ہم اصل مسائل پر اثرانداز ہوئے بغیر پارلیمنٹ پر تنقید کرسکتے ہیں لیکن آج بھی ہم اس بات پہ یقین رکھتے ہیں کہ پارلیمنٹ ایک قابل احترام ادارہ ہے اور اس کی بہتری کے لیے ہم سب کو مل جُل کے کام کرنا ہوگا۔ 
سوال: پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ کیا ہے؟
جواب: کرپشن پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ ہم یقین رکھتے ہیں کہ دیانتدار اور مخلص قیادت ہی کرپشن کے مسائل سے نکلنے کا واحد حل ہے۔ ہماری اشرافیہ حکومت نے ہماری معشیت سے لاکھوں مالیت کے ڈالر لوٹ لیے، ہماری قوم بیرونی قرضوں میں ڈوبی ہوئی ہے یہی وجہ ہے کہ ہماری خارجہ پالیسی امداد دینے والوں کی ہدایت پر بنائی جاتی ہے۔ ایک خوشحال، ترقی یافتہ اور مضبوط پاکستان کے لیے ہمیں دیانتدار اور خدا کا خوف رکھنے والی قیادت کی ضرورت ہے۔
سوال: آپ خیبر پختونخواہ حکومت کا حصہ ہیں جہاں خواتین کو ووٹ ڈالنے سے روکا جاتا ہے۔ اس بارے میں کیا کہیں گی؟
جواب: ہم نے اس معاملے پر اپنی مرکزی مجلسِ شوریٰ میں مشاورت کی ہے اور فیصلہ کیا ہے کہ ہم ایسے کسی بھی معاہدے کا حصہ نہیں بنیں گے جس میں خواتین کو ان کا ووٹ ڈالنے سے روکا جاسکے۔ ہم خواتین کے حقوق اور الیکشنز میں خواتین کی شرکت کی بھرپور حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ ہم اپنی پوری کوشش کررہے ہیں کہ پورے ملک میں خواتین کے ووٹ ڈالنے کی حوصلہ افزائی کریں۔