October 15th, 2019 (1441صفر15)

حجاب

ڈاکٹر میمونہ حمزہ

حجاب کا مادہ ’’ح ج ب‘‘ جس کے معنی آڑ، روکنہ، یا ڈھانپنہ کے ہیں، ابن منظور کہتے ہیں کہ اس سے مراد ستر ہے، اور حجاب المرأۃ سے مراد عورت کا ستر کو ڈھانپنہ ہے، کعبہ کے پردے کو ’’حجابۃ الکعبۃ‘‘ کہا جاتا ہے۔لغوی دلیل اور شرعی اصطلاح کے مطابق ’’حجاب سے مراد وہ اوڑھنی ہے جو عورت غیر محرم مردوں کی نگاہوں سے بچنے کے لیے استعمال کرتی ہے‘‘۔
حجاب کا حکم
فقہا کا اس امر پر اتفاق ہے کہ بالغ اور عاقل مسلمان عورت پر حجاب فرض ہے۔اور بلوغت سے مراد وہ عمر ہے جس میں اس پر دیگر احکام فرض ہو جاتے ہیں۔ سورۃ النور کی آیات نمبر۳۱میں اس کا حکم آیا ہے:
{اے نبیؐ، مومن عورتوں سے کہہ دو کہ اپنی نظریں بچا کر رکھیں، اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں، اور اپنہ بنہؤ سنگھار نہ دکھائیں بجز اس کے جو خود ظاہر ہو جائے، اور اپنے سینوں پر اپنی اوڑھنیوں کے آنچل ڈالے رہیں۔ وہ اپنہ بنہؤ سنگھار نہ ظاہر کریں مگر ان لوگوں کے سامنے: شوہر، باپ، شوہروں کے باپ، اپنے بیٹے، شوہروں کے بیٹے، بھائی، بھائیوں کے بیٹے، بہنوں کے بیٹے، اپنے میل جول کی عورتیں، اپنے لونڈی غلام، وہ زیر دست مرد جو کسی اور قسم کی نگاہ نہ رکھتے ہوں، اور وہ بچے جو عورتوں کی پوشیدہ باتوں سے ابھی واقف نہ ہوئے ہوں۔ وہ اپنے پاؤں زمین پر مارتی ہوئی نہ چلا کریں، کہ اپنی جو زینت انہوں نے چھپا رکھی ہواس کا لوگوں کو علم ہو جائے۔}
اس سے مراد یہی ہے کہ عورت اپنی زینت کو غیر محرم سے چھپائے، اپنی نگاہ کی بھی حفاظت کرے، زینت والی اشیا کو حدود میں رہتے ہوئے استعمال کرے اور پردہ پوش حصّوں کو مردوں کی نگاہوں سے دور کر کے ان کی حفاظت کرے، گویا یہ عورت کے حصار کی دیواریں ہیں، جن کا التزام کر کے وہ اپنے آپ کو محفوظ بنہ لیتی ہے۔
رسول ِ کریم ﷺ نے فرمایا: ’’جب لڑکی بالغ ہو جائے تو اس کے جسم کا کوئی حصّہ نظر نہ آنہ چاہیے بجز چہرے اور کلائی کے جوڑ تک ہاتھ کے‘‘۔(پردہ، سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ، ص۲۴۱)
شریعت نے حجاب کو لازم کیا ہے، یہ حجاب کیسا ہونہ چاہیے؟ اسلام کسی مخصوص لباس کو لازم نہیںں کرتا، بلکہ اس کے اوصاف پر متوجہ کرتا ہے، عورت کو باوقار لباس پہننہ چاہیے، جو درج ذیل خصوصیات والا ہو، جس میں کسی صورت بھی لباس کے نہم پر بے لباسی نہ ہو۔
٭ جمہور فقہاء کے قول کے مطابق، حجاب ایسا ہو کہ چہرے اور ہتھیلیوں کے سوا پورا جسم ڈھانپا جائے۔
نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ’’کسی عورت کے لیے جو اللہ اور روزِ آخرت پر ایمان رکھتی ہو، یہ جائز نہیںں ہے کہ وہ اپنہ ہاتھ اس سے زیادہ کھولے، (یہ کہہ کر آپ نے کلائی کے نصف پر ہاتھ رکھا)‘‘۔ ابن ِ جریر
ٔ٭ اوڑھنی یا گاؤن جسم سے چپکا ہوا نہ ہو، بلکہ ایسا ڈھیلا ڈھالا ہو کہ جسم کو نمایاں نہ کرے۔
٭ ایسے شفاف یا باریک کپڑے کا نہ بنہ ہو، کہ جسم یا لباس دکھائی دے۔
حضرت حفصہ ؓبنت عمران حضرت عائشہؓ کے پاس آئیں اور وہ ایک باریک دوپٹہ اوڑھے ہوئی تھیں، آپ ؓ نے انکا دوپٹہ پھاڑ دیا اور انہیںں ایک موٹی اوڑھنی ان پر ڈالی۔ (موطا امام مالک)
نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ’’لعن اللہ الکاسیات العاریات‘‘۔ اللہ تعالی کی لعنت ہے ان عورتوں پر جو لباس پہن کر بھی ننگی کی ننگی ہیں۔(حدیث صحیح)
٭ عورت مردوں کے مشابہ لباس نہ پہنے۔
٭ مسلمان عورت کافر عورتوں سے مشابہ لباس یا زینت اختیار نہ کرے۔
٭ ایسا لباس نہ پہنے جو لباسِ فاخرہ کے زمرے میں آتا ہو، یعنی اس کا حجاب ایسا ہو کہ اسے بہت الگ کر کے نہ دکھائے۔
حجاب کا حکم عورت کو دیکر اللہ تعالی نے مرد کو مطلق آزاد نہیںں چھوڑ دیا، بلکہ اس پر بھی ستر پوش لباس کی پابندی لگائی ہے، البتہ اس کا ستر نہف سے گھٹنے تک ہے، نگاہ کو بچانے اور دوسروں کو نہ تاکنے کی ذمے داری مرد و خواتین دونوں پر یکساں طور پر عائد کی ہے۔
حجاب کی فضیلتیں
حجاب کی کئی فضیلتیں ہیں اور اس کا باحجاب خواتین کو بھی فائدہ ہو گا اور عمومی طور پر معاشرے کو بھی، چند درج ذیل ہیں:
٭جب عورت حجاب کو اللہ کا حکم سمجھ کر عمل کرتی ہے تو اسے فرائض کی پابندی اور اطاعتِ خداوندی کا اجر ملتا ہے، یہ اللہ کی رضا حاصل کرنے کا راستہ ہے۔
٭ حجاب اسے غیر مردوں سے الگ کر دیتا ہے، سو وہ بہت سی تکلیفوں سے بھی دور ہو جاتی ہے، جو مردوں سے اختلاط کے سبب پہنچتی ہیں۔
٭ عورت کا حجاب پہننہ مردوں کو برائی میں ملوث ہونے سے دور کر دیتا ہے، با حجاب معاشرے میں اختلاط کے مواقع بھی کم ہو جاتے ہیں۔
٭ حجاب سے ارد گرد کی فضا بھی پاکیزہ ہو جاتی ہے، اس میں بھلائیوں کو پنپنے کا موقع ملتا ہے۔
٭ حجاب مسلمان عورت کی پہچان ہے، ایک غیر مسلم معاشرے میں بھی عورت حجاب پہن کر اپنے آپ کو بہت سے شرور سے بچا لیتی ہے، اور مسلم معاشرے میں اس کی توقیر بڑھ جاتی ہے۔
حجاب کی ضرورت
عورت مستور ہے، رسول اللہ ﷺ نے اس کے بارے میں فرمایا: ’’عورت مستور ہے، جب وہ باہر نکلتی ہے تو شیطان اسے تاکتا ہے‘‘۔ (رواہ الترمذی)
عورت کا اصل مقام گھر ہے، جو اس کے لیے ایک قلعے کی حیثیت رکھتا ہے، وہ اسی وقت گھر سے نکلے ،جب اسے کوئی ضرورت درپیش ہو، وہ تعلیم حاصل کرنے، علم کو پھیلانے، معاشرے کو فائدہ پہنچانے والے مفید علوم اور مہارتیں سیکھنے کے لیے بھی گھر سے نکل سکتی ہے، اور معاشرے کی تعمیر کے کسی کام کے لیے بھی، تفریح بھی اس کا حق ہے، البتہ اس بات کا خیال رکھنہ ہو گا کہ اس کا باہر نکلنہ شیطان کے تاکنے کا موجب نہ بنے، اور یہ اسی طرح ممکن ہے کہ وہ باہر نکلتے ہوئے اپنے سراپے پر نگاہ ڈال لے، کیا اس نے اپنی زینت کو چھپانے کا مناسب انتظام کر لیا ہے، اس کے جسم سے اٹھنے والی خوشبو مردوں تک تو نہیںں پہنچے گی؟ اس کے زیور آواز تو نہیںں دیتے کہ ان کی جھنکار قریب سے گزرتے صنف ِ مخالف کو متوجہ کررہی ہو ؟ اس کی آواز کا درجہ اور انداز کیا ہے؟کہیں وہ مردوں کے لیے فتنہ تو نہیںں بن رہی؟ اور اگر کہیں مردوں سے رابطے یا بات کرنے کی ضرورت پڑ جائے تو الفاظ اور انداز میں محتاط رویہ ہے یا نہیںں؟ ان احتیاطی تدابیر کے ساتھ ہی عورت باہر نکلتے ہوئے شیطان کی نگاہ سے دور ہو سکتی ہے۔