November 18th, 2019 (1441ربيع الأول21)

پشمینہ دھاگوں کے دیس کے خواب اورعالمی یومِ حجاب

ڈاکٹر سمیحہ راحیل قاضی

بڑی اداس ہے وادی
گلا دبایا ہوا ہے کسی نے انگلی سے

یہ سانس لیتی رہے، پر یہ سانس لے نہ سکے
درخت اُگتے ہیں کچھ سوچ سوچ کر جیسے

جو سر اُٹھائے گا پہلے وہی قلم ہوگا
جھکا کے گردنیں آتے ہیں ابر

نادم ہیں کہ دھوئے جاتے نہیں
خون کے نشاں ان سے

ہری ہری ہے، مگر گھاس اب ہری بھی نہیں
جہاں پہ گولیاں برسیں، زمیں بھری بھی نہیں
وہ مائیگریٹری پنچھی جو آیا کرتے تھے
وہ سارے زخمی ہواؤں سے ڈر کے لوٹ گئے
بڑی اداس ہے وادی، یہ وادی کشمیر

گلزار کے شعری مجموعے ’’ رات پشمینے کی‘‘ سے نظم وادی کشمیر پڑھ رہی تھی اور ذہن میں ۴ ستمبر 2004ء کی یادیں جگمگا رہی تھیں کہ جب یورپ میں 11 ستمبر کے سانحے کے بعد شعائر اسلام کے ساتھ تعصب کی لہریں بڑھنے لگیں اور اسلامو فوبیا کے مہیب سیاہ بادل چھانے لگے تو لندن کے مئیر لونگ اسٹون نے علمائے اسلام کی ایک عظیم الشان کانفرنس لندن میں منعقد کی اور اس کے آخر میں کانفرنس کے مہمان خصوصی علامہ یوسف القرضاوی نے 4 ستمبر 2004ء کو پہلی دفعہ عالمی یومِ حجاب کا اعلان کیا۔ پاکستان سے جماعت اسلامی حلقہ خواتین نے اس کو بھر پور طریقہ سے منانا شروع کیا۔یوم حجاب کے آغاز سے ہی اخبارات اور ٹی وی چینلز نے اس کی تشہیر کا خوب اہتمام کیا۔ سوشل میڈیا پر بھی اس دن کی خوب کوریج ہوتی رہی۔ اس کے لیے صحافی برادری کی خوب شکرگزار ہوں۔
2019ء کا ستمبر ستمگر بن کر طلوع ہوا ہے جب کشمیر میں خواب بُنتی بیٹیاں تاریخ کے انتہائی ظلم و جبر کے حالات کا شکار ہیں۔ اُن کے حجاب نوچے جارہے ہیں اور اُن کے جسموں کو ادھیڑا جا رہا ہے۔ تاریخ انسانی میں ہندوستانی فوج جیسی بے حمیت فوج کسی نے نہ دیکھی ہوگی جو عورت کی بے حرمتی کو فوجی ہتھیار کے طورپر استعمال کر رہی ہے۔
میں استنبول میں مسجد اقصیٰ کی چوکیدار خواتین جو بہت فخر سے اپنے آپ کو مرابطات کہتی ہیں، سے ملی تو اُن سے پوچھا کہ آپ کو اسرائیلی فوج اکثر گرفتار لیتی ہے، کیا کبھی کسی عورت کی بے حرمتی کے مرتکب ہوتے ہیں یہ اسرائیلی اہلکار؟؟ اُنھوں نے نفی جواب دیا کہ وہ قانون کے بھی پابند ہیں اور قانونی طور پر بھی اگر کوئی پولیس والا یا فوجی اس طرح کی حرکت کرے تو اُسے قانون کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ مار پیٹ کرتے ہیں مگر انسانی شرف کا خیال رکھتے ہیں اور ویسے بھی عرب عورت پر ہاتھ اُٹھانے کو بہت معیوب سمجھتے ہیں۔ مگر ہندستانی فوج تو اس بے حمیتی کا شکار ہے کہ آئے دن اس طرح کی تصویریں سوشل میڈیا پر شائع ہورہی ہیںکہ انسان سر پٹختارہ جاتا ہے اور اب تو ہر یانہ کا مگرمچھ وزیر اعلیٰ بڑی بے شرمی سے اس بات کا اعلان کر رہا ہے کہ کشمیری گوری عورتوں کو بیاہ کر لائیں گے۔ اس بد صورت بھیڑیے کے لئے کسی نے بہت اچھا لکھا کہ اُس کو تو سانپ اپنی سپنی بھی نہ دے کجاکہ یہ کشمیری لڑکیوں کے خواب دیکھتا ہے ۔بھارت میں کوئی انسانیت نام کی قدر باقی نہ رہی، کوئی سلیم العقل انسان ان بے لگاموں کو لگام دینے والا نہیں ہے؟؟ بارالہ کتنے پہر رہ گئی ہے رات؟؟
تیری خدائی میںان ظالموں کو اتنی چھوٹ کیوں ملی ہے؟؟ عالمی یوم حجاب پر شام و فلسطین کے گھروں کے ملبوں پر بیٹھی با حجاب
لٹی پٹی عورتیں ہوں یا اب کشمیر کی چیختی چلاتی بیٹیاں ۔ ہم کس سے فریاد کریں اور کس کے ہاتھوں پر اپنا لہو تلاش کریں؟؟
ٍٍعلامہ محمد اقبال نے عورت کو کہا تھا کہ تم اپنے آپ پر بہت فخر کرو کہ اللہ نے تمھیں اپنی صفت تخلیق عطا کی ہے اور ہر خالق کو اپنی مخلوق کی حفاظت کے لئے حجابوں میں رہنا ہوتا ہے۔ عورت خالق کی طرح حجاب میں ہو اور رازونیاز میں زندگی بسر کرے تو اس کے صدف کا موتی پرورش پاتا ہے اور وہ جتنی چھپی اور اسرار کے پردوں میں رہے اُتنی ہی با وقار اور معتبر بن جاتی ہے۔معاشرے میں حیا اور عفت و عصمت کا چلن عام ہو جائے تو عورت محفوظ رہتی ہے اور عورت کو عزت، محبت اور حفاظت کے حصار میسر ہو جائیں تو وہ ہر نا ممکن کام کو ممکن کر جاتی ہے۔قومیں تبھی ترقی کی منازل طے کر پاتی ہیں جب کہ اس کی عورت کو ماحول کاتحفظ ملے۔ حفاظت کا جانفز ا احساس عورت کے اندر قوت بھر دیتا ہے جو اسے ترقی کی شاہراہ پر گامزن رکھتا ہے۔
یومِ حجاب ہمیں اس عزم پر آمادہ کرتا ہے کہ ہر عورت کا ہر روپ عزت، محبت اور حفاظت کے یہ تین حصار چاہتا ہے ۔ ہر گھر میں عورت کو عزت ملے اور اسے حفاظت اور محبت کے حصار میسر ہوں تو وہ بہت اطمینان سے اپنی صلاحیتوں کے جو ہر استعمال کر سکے گی۔
جنگ زدہ ماحول تمام انسانوں کے لئے بربادی کا پیغام بن کر آتا ہے مگرپشیمنہ دھاگوں سے بنتی خواب سجانے والی عورتیں تو وحشت زدہ ہوکر رہ جاتی ہیں۔ وہ نہ اپنی تخلیقی قوتوں کو بروئے کار لا پاتی ہیںنہ اپنی نسلوں کی تربیت کر پاتی ہیں۔
21 ویں صدی کے یہ لمحے انسانوں کو پکاررہے ہیں کہ اپنی آئندہ آنے والی نسلوں کی تربیت اور حفاظت کے لئے اپنی عورتوں کے سروںپر چادریں رہنے دو۔ ان کی آنکھوں میں خواب سجنے دو اور انھیں اپنی تخلیق کی حفاظت پر مامور رہنے کے لئے عزت و اکرام اور پر امن ماحول سے بھی نوازو۔
اگر پندے زدرویشے پذیری
ہزار امت بمیرد تو نہ میری
بتولےؓ باش و پنہاں شو ازیں عصر
کہ در آغوش شبیرے بگیری
اقبالؒ
اس عالمی یومِ حجاب پر اقبال ہمیں نصیحت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اگر اس درویش کی نصیحت کو پذیرائی بخشو تو ہزار اقوام نیست و نابود ہو جائیں مگر تمھیں زوال نہ آئے۔ حضرت فاطمہؓ کی طرح بن جانا اور اس زمانے کے فتنوں سے چھپ جاؤ کہ تمہاری گود میں پھر سے ایک حسینؓ پیدا ہو جائے۔