October 20th, 2019 (1441صفر21)

ٹی بی علاج ممکن ہے

 

 ۴۲ مارچ دنیا بھر میں ٹی بی کے عالمی دن کے طور پر منایا جاتا ہے جس میں اس مرض سے پیدا ہونے والی مختلف پیچیدگیوں اور دنیا بھر میں اس بیماری سے لوگوں کو آگاہ کرنے کے کوشش کی جا تی ہیں۔
ٹی بی جسے تپ دق بھی کہتے ہیں ایک قدیم ترین مرض ہے جو پچھلی کئی صدیوں سے بنی نوع انسان کے لیے صحت ِ عامہ کی ایک مہلک بیماری ہے جو مائیکو بیکٹر ٹیوبو کلاسز نامی بیکٹر یا سے پیدا ہو تی ہے جو جسم کے مختلف حصوں مثلاآنتوں کی دق، گلے کی دق گلیٹو کی دق، ہڈی،جوڑوغیرہ کو متاثر کرتا ہے عموماََ ٹی بی پھیپھڑوں کو متاثر کر تاہے۔ ٹی بی کی علامات میں کھانسی،بخار، بھوک کی کمی، جسمانی کمزوری سینے میں درد،بلغم اور رنگ زرد ہوجاناشامل ہے اکثراوقات پیشاب میں خون کی آمیزش بھی دیکھی جاسکتی ہے۔
عام طور پر غربت میں زندگی کی وجہ سے لوگ زیادہ تر اس موذی مرض کی لپیٹ میں آئے ہیں۔کیونکہ انہیں مناسب اور ضرورت کے مطابق خوراک، صاف پانی اور مناسب رہائش کاانتطام بھی نہیں ہوتا۔جہاں لوگوں کو وبائی مرض لاحق ہوجائے تو درست علاج ہونا ہی ناممکنات میں سے ہوتا ہے۔تنگ و تاریک اور گنجان آبادی کے مکین بھی اس کے فروغ کا باعث بنتے ہیں کیونکہ ایسے جگہوں میں آکسیجن کی کمی ہوتی ہیں اور اندھیرے اورگھٹن زدہ ماحول میں ٹی بی کے مرض کو پھلنے پھولنے کازیادہ موقع میسر آتا ہے۔پرانے اور گندے گھر،حفظانِ صحت کے اصولوں کی خلاف ورزی اور غیر معیاری خوراک کا استعمال بھی ٹی بی کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔۔
ٹی بی کا مرض متاثرہ شخص کے کھانسے، چھینکنے یا تھوکنے سے بھی پھیلتا ہے جس میں متاثرہ شخص سے یہ جراثیم ہوا میں شامل ہوکر صحت مندافرادکے سانس کے ذریعے منتقل ہوکر ٹی بی کاباعث بنتے ہیں۔پھیپھڑوں کے علاوہ جسم کے دیگر اعضا کو متاثر کرنے والی ٹی بی دوسروں تک آسانی سے نہیں پھیلتی ہے۔
 ٹی بی کاجراثیم اکثر لوگوں کے جسم میں موجود ہوتا ہے لیکن جسم کا نظام دفاع بخوبی اسکا مقابلہ کرکے اس انسان کو ٹی بی مبتلا ہو نے سے بچاتا ہے ۔ٹی بی کے جراثیم غیر فعال مگرزندہ رہتے ہیں اور زندگی کے کسی موڑ پر انسان کی قوت  مدافعت کمزور ہوجانے کے سبب اس پر حملہ آور ہوجاتے ہیں اور ٹی بی میں مبتلا کردیتے ہیں۔جب ٹی بی انفیکشن کسی شخص کو ہوتا ہے تو لازمی نہیں ہے کہ اس کو اس کو علامات بھی ظاہر ہوں۔ مگر زندگی کے کسی بھی مرحلے میں یہ عنصر بہت زیادہ کمزور ہوکرجراثیم کو غلبہ حاصل کر نے کا موقع فراہم کر تا ہے۔ٹی بی کی تشخیص ٹیوبرکن ٹیسٹ کے ذریعے بھی ہوتی ہے جس میں اس ٹیسٹ  کے مثبت نتائج حاصل ہونے  کے بعد معالج کو ٹی بی کی موجودگی پر شک ہوتو وہ تھوک کا ٹیسٹ ایکسرے اور ایف این اے سی (fnac)(گردن کے کسی حصے میں گلیٹاں نمودارہوتی ہیں)پی سی آر(PCR)وغیرہ کرتاہے۔جس کے بعد وہ شخص مختلف مراحل سے گزرنے کے بعدٹی بی جیسے موذی مرض کاعلاج شروع کر تا ہے۔ لہذا ٹی بی کی کسی بھی قسم کے علامات ظاہر ہونے کی صورت میں اپنے قریبی مرکزصحت یا منتخب پرائیویٹ لیب سے بلغم کا معائنہ کراوئیں اور اگر ٹی بی کا  مرض لاحق ہو جائے تو گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے مسلسل علاج سے ٹی بی جیسے موذی مرض سے صحت یابی ممکن ہے۔ٹی بی ایک متعدی لیکن ۰۰۱ فیصدقابل علاج مرض ہے ٹی بی کوابتدائی مرحلہ میں ہی با آسانی کنٹرول کیا جا تا ہے۔
اس موذی پرقابوپا نے کے لیے ہم جن اقدامات پر عمل درآمدکر سکتے ہیں ان میں سب سے پہلے پیدائش کے بعد بچوں کو بر وقت ٹیکے لگوانے چاہیے۔اس مرض کے خا تمے تک علاج جاری رکھنا چاہیئے گھروں کوصاف ستھرا رکھنا چا ہیے اور معیاری خوراک استعمال کرنی چاہیے۔بلاوجہ مسائل کو اپنے ذہن پر سوارنہیں کرنا چاہیے کیونکہ یہ بیماری ڈپریشن اور؎ہر وقت پریشان رہنے سے بھی لاحق ہوجاتی ہے۔
مریض کو آرام دہ، پرفضا اورپر سکون ماحول میں رکھنا چاہیے۔یہ بیماری چونکہ متعدی ہے اس لیے  مریض کے کھانے، پینے کا سامان گھر کے دیگرافراد کی پہنچ سے دور رکھیں تاکہ دیگر افراد اس جان لیوا مرض سے محفوظ رہ سکیں۔  یہ بیماری قابل علاج ہے مریض کو کھانستے،چھینکتے وقت منہ پر رومال یا کوئی کپڑا رکھنا چاہئے اور جگہ جگہ تھوکنے سے گریز کرنا چاہے۔ ٹی بی  کے علاج  کے دوران ماں بچے کواپنادودھ پلاسکتی    
ہے اس سے بچے کی صحت پر مضراثرات مرتب نہیں ہوتے۔مریض کو اس بیمار ی میں جسمانی اور ذہنی  آرام وسکون کی بہت ضرورت ہوتی ہے ابتدا میں جب تک بخار کم نہ ہو جائے مریض کو آرام کا مشورہ دینا چاہیے اور عمدہ ہلکی غذا جس میں پروٹین کی مقدار زیادہ ہو وہ استعمال کروانی چاہئے۔ انڈا،دودھ،یخنی بہترین عذا ہیں۔
ٹی بی کی بیماری کسی کو بھی لگ سکتی ہے مگر افراد جو دوسروں کے مقابلے میں اس موذی مرض کے زیادہ  قریب ہوتے ہیں ان میں وہ افراد شامل ہیں جو کنبے یا گھر میں ٹی بی سے متاثر شخص کے ساتھ رہ چکے ہوں یا طویل عرصے رابطے میں رہے ہوں۔وہ افراد جو غیرصحت مند یا زیادہ ہجوم کی جگہوں میں رہ رہے ہوں،نسبتاََزیادہ تراس بیماری کا شکار ہوتے ہیں جنوب مشرق ایشااور مشرقی یورپ کے بعض ممالک میں ان والدین کے بچے بھی اس کا شکار ہوسکتے ہیں جن کے اصل وطن میں ٹی بی کی شرح زیادہ رہ چکی ہو۔HIVبیماری  یا علاج کی وجہ سے جن کی قوت مدافعت کم ہوجاتی اور منشیات کے عادی افراد جو غیرصحت مند ماحول میں رہتے ہیں بھی اس بیماری کا آسان شکار ہوسکتے ہیں 
مریض کو خوشگوار ماحول اور عمدہ غذایتیں فراہم کر کے ہم اس مرض سے جلد از جلد چھکاڑا حاصل کرسکتے ہیں۔