October 20th, 2019 (1441صفر21)

وہ باتیں جو آپ کو بالوں سے محروم کردیتی ہیں

 

یہ بات ٹھیک ہے کہ خواتین کےمقابلے میں مردوں میں بالوں سے محرومی کا امکان زیادہ ہوتا ہے، تاہم خواتین میں بھی بال گرناعام ہوتا ہے،اوران کے لیے بھی یہ امرمایوس کن ثابت ہوتا ہے۔ مگر کیا آپ کومعلوم ہے کہ بالوں کا گرنا یا گنج پن اکثر آپ کی اپنی عام عادتوں کا نتیجہ ہوتا ہے؟ ان میں پروٹین کی کمی یا وٹامن کی زیادتی سے لےکر متعدد چیزیں شامل ہوسکتی ہیں۔ ایسی ہی چیزوں کے بارے میں جانیے جوآپ کوبالوں جیسی قیمتی نعمت سے محروم کرسکتی ہیں۔
ہارمونزکے مسائل:
جب خواتین ہارمونزکے مسائل کا شکارہوتی ہیں توانہیں بالوں کے گرنے کا تجربہ ہو سکتا ہے، عام طور پر اس کے ساتھ کیل مہاسے اورچہرے پر بال اُگنے جیسی علامات بھی سامنے آتی ہیں ۔اس مسئلے سے نجات کے لیے ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق ادویہ کا استعمال مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
پروٹین کی کمی:
اگر آپ کی غذا میں مناسب مقدارمیں پروٹین شامل نہ ہوتو آپ کا جسم اسے پورا کرنے کے لیے بالوں کی نشوونما روک دے گا۔ ایک تحقیق کے مطابق پروٹین کی کمی کی صورت میں بالوں کے گرنے کی رفتار دو سے تین ماہ میں بہت زیادہ بڑھ جاتی ہے۔ اس سے بچنے کے لیے غذا میں مچھلی، انڈے اور گوشت کا استعمال معمول بنانا پڑتا ہے۔ تاہم گوشت پسند نہیں تو مٹر، چنوں، گریوں، سبزیوں، دودھ وغیرہ کا بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔
جذباتی  تناؤ:
جذباتی تناؤ جسمانی تناؤ کے مقابلے میں بالوں کے گرنے کی رفتار بہت زیادہ تو نہیں بڑھاتا مگراس سے ایسا ہوتا ضرور ہے۔ کسی پیارے کی موت یا والدین کی بیماری وغیرہ کا ذہنی  تناؤبالوں کی نشوونما کو نقصان پہنچاتا ہے۔
خون کی کمی:
خون یا آئرن کی کمی بالوں کے لیے تباہ کن ثابت ہوتی ہے۔ اینیما نامی اس مرض کا تعین تو بلڈ ٹیسٹ سے ہوسکتا ہے، تاہم بالوں کو اس سے بچانا اتنا آسان نہیں ہوتا، کیوں کہ اکثر لوگوں میں تشخیص ہی نہیں ہو پاتی۔ تاہم اگر خون کی کمی اوربالوں کے گرنے کا علم ہوجائے توآئرن سپلیمنٹ اس مسئلے سے تحفظ دے سکتا ہے۔
وٹامن بی کی کمی:
جسم میں وٹامن بی کی کمی بھی بالوں سے محرومی کی وجہ بنتی ہے۔ اینیما کی طرح اس سے تحفظ بھی سپلیمنٹ سے ممکن ہے، یا اپنی غذائی عادات تبدیل کرکے مچھلی، گوشت، نشاستہ دار سبزیاں اورپھلوں کوخوراک کا حصہ بنالیں۔
جسمانی وزن میں ڈرامائی کمی:
جسمانی وزن میں اچانک کمی کے نتیجے میں بال کمزور ہوجاتے ہیں۔ ایسا اس صورت میں بھی ہوتا ہے جب آپ موٹاپے سے بچنے کے لیے وزن کم کرتے ہیں۔ ایک تحقیق کے مطابق ایسا ہونے کی صورت میں مناسب غذا سے چھ ماہ کے عرصے میں بالوں کے گرنے کا مسئلہ حل کیا جاسکتا ہے۔
سکون آورخون پتلا کرنے والی ادویہ:
کچھ مخصوص ادویہ بھی بالوں سے محرومی کا خطرہ بڑھا دیتی ہیں۔ ان میں خون پتلا کرنے والی اور بلڈ پریشر کے لیے استعمال کی جانے والی ادویہ قابلِ ذکر ہیں۔ اسی طرح سکون آورادویہ بھی بالوں کے لیے خطرہ ہوسکتی ہیں۔ ایسا ہونے کی صورت میں ڈاکٹر سے رابطہ کرکے متبادل دوا یا اس کے کم استعمال پرمشورہ لینا چاہیے۔
بالوں کے اسٹائلز:
بالوں کے بہت زیادہ اسٹائل اورٹریٹمنٹ بھی گنجا کرسکتے ہیں۔ ان اسٹائل اورٹریٹمنٹ کے نتیجے میں بالوں کی جڑیں کمزور ہوتی ہیں،اوراگروہ گرنا شروع ہوجائیں توان کی دوبارہ نشوونما کا امکان بھی بہت کم ہوجاتا ہے۔
بالوں کو نوچنا:
اگر آپ اضطراری طور پر بالوں کو نوچنے کی عادت کا شکار ہیں تو جان لیں کہ ایسا کرنے کی صورت میں جو بال سرسے الگ ہوگا اُس کی جگہ کوئی اورنہیں لے گا۔
عمر میں اضافہ:
یہ بات غیرمعمولی نہیں کہ عمر بڑھنے کے ساتھ بال پتلے یا گرنا شروع ہوجاتے ہیں جس کی اب تک طبی ماہرین کوئی واضح وجہ دریافت نہیں کرسکے۔