November 18th, 2019 (1441ربيع الأول21)

موسم سرما کےاثرات اورہماری صحت

 

ڈاکٹر صدف اکبر
مو سم سرما ہرسواپنی سروشال پھیلارہا ہےاوراس کی ٹھنڈک سے لطف اندوز ہونے کے ساتھ ساتھ اس سے بحفاظت اور بخیروخوبی صحت مندانہ انداز میں گذرجانے کااہتمام اورتیاریاں بھی اپنےعروج پرہیں۔سردیاں جہاں ہمیں موسم کے مختلف میوہ جات اورپھلوں سےنوازتی ہیں،وہیں کم قوت مدافعت کے حامل انسانوں خاص طورپربچوں اوربزرگ افراد کے لیے زحمت کا باعث بھی بنتی ہیں۔ چونکہ موسم میں درجہ حرارت کم جبکہ ہوامیں نمی کا تناسب بڑھ جا تا ہے جس کے باعث ہوا میں موجود مختلف جراثیم اوروا ئرسز بیماریاں پھلانے کا باعث بنتے ہیں،مو سم سرما کے شروع ہوتے ہی عام طور پر کھانے پینے اوررہنے سہنے کے روز مرّہ کے معمولات میں مختلف تبدیلیاں وقوع پزیرہوتی ہیں جس سے عام طور پر سردیوں کے موسم میں نزلہ،زکام بخار،گلاخراب ہونے،کھانسی،دمہ کی تکلیف،جوڑوں میں درد ، جلدخشک ہوجانے، ہونٹوں اوران کے گردچھالے زخم اورالٹی وغیرہ کی شکایات عام ہوجاتی ہیں۔اسکے علاوہ خشک موسم میں پیاس کم لگنے کی وجہ سے ہم پانی کم پیتے ہیں جس کے با عث ہمارے جسم میں پانی کی کمی کی شکایت ہونے لگتی ہے۔آہستہ آہستہ جلدپر خشکی کے اثرات نمایاں ہونے لگتے ہیں ۔جلد کو خشکی سے بچانے کے لیے بہت زیادہ گرم پانی سے نہیں نہانا چاہیے ۔نہانے کے بعد جلد کونمی دینے والی کولڈکریم یا موئسچرائرنگ لوشن باقاعدگی سے ، خاص طور پررات کو سونے سے قبل استعمال کرنا چاہیے اور خشکی سے بچنے کے لیے پانی کا استعمال زیادہ سے زیادہ یعنی دن میں کم ازکم آٹھ سے دس گلاس لازمی پینا چاہیئے۔
سردی کے موسم میں ٹھنڈٖ لگنے سے جسم میں تھرتھری اورکپکپی جیسی کیفیت پیدا ہوتی ہے جس کی وجہ سے سینے میں ٹھنڈ لگنے کے امکانات بڑجاتے ہیں۔خاص طور پراس سے چھوٹے بچے اور بزرگ افراد زیادہ متاثر ہوتے ہیں اوران کے سینے میں درد ہو نے لگتاہے ۔پچاس سال سے زائد عمر کے افراد میں سردی کی شدت سینے پرپڑتی ہے تو اس سے ان کوفالج کے حملے کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔ اس حا لت میں جسم کو ٹھنڈے ماحول اورٹھنڈے پانی سے بچانا چاہیےاور گرم کپڑوں کے ذریعے سینے کو اچھی طرح ڈھکنے کے ساتھ ساتھ گرم کھانے پینے کی چیزوں کابھی استعمال کرنا چاہیے ۔ سرد موسم میں دمہ یاسانس کے امراض میں اضافہ ہوجاتاہے ۔ خشک موسم میں زیادہ باہر نکلنے کے بجائے گھر پر ہی رہنے کو ترجیہ دی جائے اوراگرضروت کے لیے گھرسے باہر نکلنا ضروری ہو تو ناک اورمنہ کو کسی گرم کپڑے سے اچھی طرح سے ڈھانپ کر نکلا جائے۔ نکلتے وقت ضروری ادویات ضرورساتھ رکھ لی جائیں جو فوری طبی امداد کے وقت کام آ سکیں۔گلے کی خراش بھی موسم سرما کی ایک اہم بیماری ہے جس سے بچے اوربزرگ افراد سب ہی متاثر ہوتے ہیں درجہء حرارت میں تبدیلی اور گرم ماحول سے سرد ماحول میں جانے سے بھی گلے میں خراش کی شکایت ہو سکتی ہے ایسی صورت میں مختلف ادوایات کے استعمال کے بجائے نمک ملے نیم گرم پانی سے غرارے کرنا زیادہ بہتر ثابت ہوتا ہے جس سے مرض کی شدت میں نمایاں کمی ہوتی ہے۔اسکے علاوہ موسم سرما میں جوڑوں کے درد میں مبتلا افراد کے درد میں اضافہ ہو جاتا ہے اس سے بچنے کے لیے گرم کپڑوں کا استعمال اور روزمرہ جسمانی ورزش بہت اہمیت کی حامل ہے جو صحت پر اچھے اثرات مرتب کرتی ہے ۔ جبکہ سرد موسم میں بلڈپریشر میں اضافہ کے باعث دل کا دورہ پڑنے کے امکانات بھی بڑھ جاتے ہیں ۔ لہذا ایسے موسم میں بہت زیادہ مرغن اور بھاری غذاوں سے پرہیز کرنے کے ساتھ ساتھ گرم کپڑوں اور کمبل وغیرہ کا استعمال لازمی کرنا چاہیے اور گھر سے نکلتے وقت اپنے آپ کو اچھی طر ح سے ڈھک لینا چاہیے ۔
موسم سرما میں سردی لگنے کے مختلف اسباب اور وجوہات ہوسکتی ہیں جسں کی وجہ سے بعض افراد مختلف وجوہات کی بناء پر زیادہ سردی محسوس کرتے ہیں جبکہ کچھ لوگوں میں سردی کا نسبتاََ احساس کم ہو تا ہے۔گوشت کا کم استعمال کر نے والے افراد بھی سردی سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔کیونکہ انسانی جسم میں سر خ خون پیدا کر نے میں گوشت کا اہم کردار ہوتا ہے جسم میں گوشت کامناسب استعمال نہ کر نے کی وجہ سے سرخ خو ن کی کمی سے آئرن کی بھی کمی ہو جاتی ہے جو سردی لگنے کا باعث بنتی ہے۔ ماہرین کے مطابق ہرے پتوں والی سبزیوں کا استعمال کرنے سے انسانی جسم میں آئرن کی کمی کو کسی حد کوکسی تک پورا کیا جاسکتا ہے۔ جبکہ انڈے اور چاو ل بھی خون کی پیداوار کوبڑھانے میں مدد کرتے ہیں جس کی وجہ سے سردی کی شدت کو کم کیا جاسکتا ہے۔جو خواتین اپنے حمل کے ابتدائی مراحل سے گزرہی ہو ں وہ دوسرے افراد کے مقابلے زیادہ سردی محسوس کر تی ہیں ۔ کیونکہ حمل کے ابتدائی دنوں میں خون کی گردش کا دورانیہ کم ہونے کی وجہ سے سردی کا احساس زیادہ ہوتاہے ۔ذیابیطس کے شکار افراد کوبھی سرد موسم میں بے حداحتیاط کی ضرورت ہوتی ہے۔ سرد موسم میں خون گاڑھاہوجانے کی بناء پر بلڈشوگر کی سطح مختلف ہو جاتی ہے لہذاذیابیطیس کے مریضوں کو موسم سرما میں مناسب مقدار میں پھل اور سزیاں کھانی چاہیئیں اورانتہائی میٹھے پھلوں سے پرہیز کرنا چاہیئے۔اس کے علاوہ ورزش کو سردیوں میں بھی باقاعدہ معمول بناتے ہوئے جسمانی سرگرمیوں کو جاری رکھنا چاہیے۔سردی کی شدت میں اگر باہرنکلنا ممکن نہ ہو تو گھر پر ہی رہتے ہوئے مختلف جسمانی سرگرمیوں کو بحال رکھاجا سکتا ہے ورزش سے انسانی جسم کا درجہ حرارت معمول پر رہتا ہے لہذا سرد موسم میں ورزش کے معمول کو چھوڑنا نہیں چاہیے او ر روزانہ ہلکی پھلکی ورزش لازمی کرنی چاہیے۔
اس کے علاوہ سردی سے خوش اسلوبی سے نبرد ارآزما ہونے کے لیئے ایسے پھلوں کا وافر مقدار میں استعمال ضروری ہے جن میں وٹامن سی،وٹامن ڈی اوروٹامن ای موجود ہوں۔ ایسے پھلوں اورسبزیوں میں اسٹرابری ،پپیتا، کینو، کیوی ٹماٹر وغیرہ شامل ہیں،جن میں مختلف وٹامنز ،پوٹاشیم،آئرن بھرپور مقدار میں موجود ہوتے ہیں جو ہمیں موسم سرما کی مختلف بیماریوں سے محفوظ رکھتے ہیں ۔طبی ماہرین کے مطابق روزانہ ایک سے آٹھ گرام وٹامن سی کا استعمال سرد موسم میں نزلہ،زکام، کھانسی جسے امراض سے محفوظ رکھنے کے لیے بہت اہمیت کا حامل ہے۔ مچھلی کا استعمال بھی سرد موسم کے لیے بہترین ہوتا ہے اور اس کے استعما ل سے نز لہ، کھانسی اورخشک کھانسی میں افاقہ ہو تا ہے خاص طور پرکمزور بچوں اور برزگوں کے لیے مچھلی کا استعمال بہت مفیدہے۔ سردیوں کے موسم میں کم ازکم ہفتے میں ایک بار مچھلی ضروراستعمال کریں۔ موسم سرما میں گھر سے باہر نکلنے سے پہلے سر،چہرہ، ناک،کان ،اور منہ کوکسی گرم کپڑے سے اچھی طرح ڈھانپ کر نزلہ،زکام اورسانس کی مختلف بیماروں سے محفوظ رہا جا سکتا ہے۔
برطانوی نیشنل ہیلتھ کے مطابق ہاتھوں کو باقاعدہ اچھی طریقے سے دھونے ،گھر اور آفس وغیرہ کی مشترکہ استعمال کی تمام اشیاء کی مناسب طریقے سے صفائی و ستھرائی سے جراثیم کسی بیمار شخص سے دوسرے صحت مند افراد تک منتقل نہیں ہوتے ۔اس طرح نزلہ ،زکام، اور دیگرمتعدی امراض سے محفوظ رہاجا سکتا ہے ۔ نزلہ ،زکام کی صورت میں کپڑے یا روما ل کا استعمال کرنے بجائے ٹشوپییرکا استعمال مناسب رہتاہیاسے استعمال کے بعد فوری طور پر ڈسٹ بن میں ڈال دینا چاہئے۔احتیاطی تدابیر اپنا کر ہم اپنے آپ کو سردی کی مختلف بیماروں سے حتی الامکان محفوظ رکھ سکتے ہیں اور موسم سرما کی سرد ہواوءں سے لطف اندوز ہوتے ہوئے موسم کے سر د لمحات کویادگار بناسکتے ہیں۔