November 18th, 2019 (1441ربيع الأول21)

وٹامن سی

 

ڈاکٹر صدف اکبر
انسانی جسم کو بقا اور صحت مند میں رہنے کے لیے مختلف پروٹین،چکنائیوں، کاربوہائیدریٹس،پانی اور نمکیات وغیرہ کے ساتھ ساتھ مختلف وٹامنز کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔جن میں وٹامن سی بہت اہمیت کے حامل ہیں۔ وٹامن سی میں حل پذیر وٹامن ہے اور اسے Ascrobic Acid بھی کہا جاتا ہے۔یہ عموما تازہ سبزیوں اور ترش پھلوں میں وافر مقدار میں ہوتاہے۔وٹامن سی خون کی نالیوں کی دیواروں کو مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ ہڈیوں کی نشونما میں مدد کرتاہے۔ بیماریوں کے خلاف قوت مدافعت پیدا کر تا ہے۔۔اورجسم میں اینٹی اکسیڈنٹ کے طور پرکام کرتاہے۔اس وٹامن کی کمی انسانی جسم میں مختلف بیماریوں کوجنم دینے کا باعث بن سکتی ہے۔ وٹامن سی کی کمی کی وجہ سے خون کی رگیں کمزور ہوجاتی ہیں اور جلد پرانکھوں کے نیچے سیاہ اور نیلے رنگوں کے نشانات یا دھبے واضح ہوجاتے ہیں۔اس کے علاوہ وٹامن سی کی کمی کے باعث مختلف ہارموئزاورانزائمز بھی اپنا کام ٹھیک طریقے سے انجام نہیں دے پاتے ہیں۔ جس کی وجہ سے جسم کا مدافعتی نظام بھی متاتژ ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ وٹامن سی انسانی جسم میں بالوں ،ناخنوں اور جلدکی نشونمامیں بہت اہم کردار ادا کر تے اور ہڈیوں اور دانتوں کو بھی اور صحت مند بناتے ہیں۔ وٹامن سی خلیات کو جسم میں گردش کرنے والے مضر اجزاء سے تحفط فراہم کرتے ہیں۔ یہ مضر اجزاء جنہیں فری ریڈیکلز کہتے ہیں ، کینسر اور امراض قلب کا باعث بھی بن سکتے ہیں۔ ایک تحقیق کے مطابق وٹامن سی آنتوں کے کینسر اورخطرہ کو بھی کم کرتا ہے ۔نیویارک یونیورسٹی آف میڈیسن کے پروفیسروں کی تحقیق کے مطابق بون میرو میں موجود بیمارخلیات جن کے نتیجے میں جسم کے مختلف اعضاء میں ٹیومر بن جا تے ہیں، وٹامن سی ان خلیات کو قدرتی طور پر ختم کرسکتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق وٹامن سی کے انجکشن کو لیوکیمیا یا بلڈکینسر کے علاوہ وٹامن سی ذیابیطیس کے علاج،بلند فشارخون، دل کی مختلف بیماریوں، کینسر،ایچ آئی وی ،مردوں میں بانجھ پن کے ساتھ ساتھ منشیات اور الکوحل کی طلب کو کنٹرول کر تا ہے ۔ فرانس میں ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق وٹامن سی فالج کے مریضوں کے لیئے بے حد فائدہ مند ہے اور یہ بلڈپریشر کو کنٹرول میں رکھتا ہے۔
انسانی جسم وٹامن سی نہیں بناتا، لہذا حالات میں اس کی کمی کے امکانات بڑھ جاتے ہیں جسے پوراکرنے کے لیے وٹامن سی سے بھرپورغذاؤں کے استعمال کا سہارا لیا جاتا ہے۔کیونکہ اس کی کمی سے اکژ اوقات بہت زیادہ پیچیدہ صورتحال بھی پیدا ہوسکتی ہے۔جسم میں وٹامن سی کی کمی سے مسوڑھے سب سے زیادہ متاثر ہ ہوتے ہیں اور ان سے خون رسنے لگتاہے۔وٹامن سی کی کمی کی وجہ سے ، جو کہ زخم بھرنے میں اہم کردار ادا کرتاہے۔مسوڑھے فوری طور پر تندرست حا لت میں واپس نہیںآتے ہیں۔
وٹامن سی کے حا مل پھلوں اورسبزیوں میں مسوڑھوں کو سوجن سے بچانے کے لیے اینٹی آکسیڈنٹ موجود ہوتے ہیں جبکہ وٹامن سی کولیگن کی پیداور کو بڑھاتے ہیں، جوزخم کے اوپر بننے والے ٹشوز کومضبوط کر تے جبکہ وٹامن سی کی کمی اس کولیگن کے عمل کو ست کردیتا ہے ۔اسکے علاوہ کولیگن کی پیداور کم ہو جاتی تو جوڑوں میں تکلیف کا احساس شروع ہوجاتاہے جبکہ سوجن
ؓبھی نمایاں ہونے لگتی ہے۔ کولیگن جلدکو چمکداراور ہموار رکھنے میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے اوروٹامن سی کمی باعث کولیگن کی پیداور کم ہونے باعث جلد میں جلدی جھریاں پڑنی شروع ہوجاتی۔
وٹامن سی سبزیوں سے حاصل ہونے والی آئرن کو جسم میں جذب ہونے میں مدد کرتا ہے اور جب اس میں کمی ہوجاتی ہے تو انسانی جسم میں آئرن ٹھیک طریقے سے جذب نہیں ہوپا تا ہے اور پھر وٹامن سی کی کمی انسانی جسم میں خون کی کمی یعنی انیمیا(Anaemia) کا باعث بنتی ہے ۔اسکے علاوہ وٹامن سی کی کمی جسمانی وزن میں بھی بنتی ہے۔اس وٹامن کی کمی کے باعث جسمانی توانائی متاثر ہوتی ہے جس سے میٹا بولزم درست طریقے سے اپنے افعال سر انجام نہیں دے پا تے ہیں اور اس کی رفتار ست ہوجاتی ہے ۔
جس کے باعث انسان موٹاپے کا شکار ہوجا تے اور اس کے ساتھ ساتھ مزاج میں چڑچڑاہٹ اورہر وقت تھکاوٹ اور بیزاری کی سی کیفیت بھی وٹامن سی کی کمی کی طرف نشاند کرتی ہے۔ اس کے علاوہ وٹامن سی انسانی جسم میں خون کے سفید خلیات کی پیداوارکو بڑھاتے ہیں جو جسم میں دفاعی مکینکزم کے طورپرعمل کر تے ہیں۔
ایک تحقیق کے مطابق وٹامن سی کی کمی سے بلغمی جھلی کی بیماری بھی ہوجاتی ہے ۔ جس کے باعث مریض کے مسوڑھوں سے خون آتا ہے۔اور جلد پر خون کے دھبے پڑ جاتے ہیں ۔ اس دوران جوڑوں میں درد بھی ہوتا اس بیماری سے بچنے کے لیے زیادہ سے زیادہ ایسی خوراک اس استعمال کی جائیں جن میں وٹامن سی کی وافر مقدار موجود ہو۔
امریکہ کی پینسلوانیا یونیورسٹی کے تحقیق کے مطابق سردیوں کے موسم میں وٹامن سی کا کژت سے استعمال مو سم سرما کی مختلف بیماریوں اور موسم کے اثرات سے بچاتا ہے ۔ 
لہذا اس موسم میں وٹامن سی کے حامل پھلوں جن میں مالٹے ، کینو، کیوی وغیرہ بھی شامل ہیں ۔ان کااستعمال بڑھادینا چاہیے ۔
یہ پھل قوت مدافعت کو بڑھا نے کے ساتھ ساتھ جلدکو خشکی سے محفوظ رکھتے ہیں ۔ ماہرین صحت کی ایک رپورٹ کے مطابق موسم سرما میں وٹامن سی اور بی پر مشتمل ہرے پتوں والی سبزیوں کا استعمال سردی سے ہونے والی انفیکشن کے خطرات کو کم کر نے میں بھی مدد کر تا ہے۔
شملہ مرچ ، پھول گوبھی، ساگ وغیرہ میں وٹامن سی وافر مقدار میں موجودہوتاہے جو سرد موسم کھانسی اور زکام کی شدت کو کم کرنے مدد کرتے ہیں۔مختلف طبی مشاہدات کے مطابق روزانہ صرف ایک سے آٹھ گرام وٹامن سی کا استعمال سے موسم سرما میں نزلے ،زکام اور کھانسی سے محفوظ رہا جا سکتا ہے مالٹا جو کہ سردیوں کا ایک خاص پھل ہے اس میں فلیونایئڈ موجود ہے جو جسم کے مدافعتی نظام کومضبوط کر نے کے ساتھ ساتھ خو ن کی نالیوں کو مضبوط بناتاہے ۔
وٹامن سی کی زیادتی سے عام طور پر تھکاوٹ،متلی اور بے خوابی کی شکایات غنودگی کی سی کیفیت بھی طاری رہتی ہے ۔ جس کے باعث مریض کی قوت ارادی اور ملنے جلنے یا سوشل لائف پر بھی برے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ وٹامن سی
زیا دہ جسم میں فولاد کو جزب ہونے کی حدکو بڑھادیتے ہیں جس کے وجہ سے آئرن پوائزنگ کی شکایات بھی ہوجاتی ہے ۔ایک تحقیق کے مطابق وٹامن سی کی زیادتی سے گردوں میں پتھری ہونے کے امکانات بھی بڑھ جاتے ہیں۔