October 20th, 2019 (1441صفر21)

رے بیز

 

ڈاکٹر سیدہ صدف اکبر
 رے بیز جسے  اردو میں سگ گزیدگی یا کتے کے کاٹنے سے ہونے والی بیماری بھی کہتے ہیں 
 ایک کتے سے ہونے والی  بیماری بھی کہتے ہیں ۔ایک ایسی  جانوروں  سے  انسانوں میںمنتقل میںہونی  بیماری ہے جو عموما کتے کے لعاب میں موجود  وائرس سے  ہوتی ہے۔
اور کتے کے  کاٹنے یا  اس کے لعاب کے انسان کے کسی زخم پرلگنے سے انسانی جسم میں منتقل میں ہوجاتی ہیں۔
پاکستان سمیت دنیابھرمیںہر سال رے بیزکے کا عالمی دن منانے کا سبب اس سے مہک مرض سے متعلق عوام الناس میںشعور  پیدا  کرنا تاکہ رے بیز کے مریضوں کوبروقت تشخیص اور فوری علاج ممکن کیا جاسکے۔
رے بیز بزریعہ ویکسین ایک قابل علاج ممکن کیا جاسکے۔ انسانوں میں کتوں ، بلیوں اور دیگر جنگلی جانوروں کے کاٹنے سے منتقل ہوتی۔ایک رپورٹ کے مطابق کراچی میں ہر  سال تقریبا 6000 سے زیادہ  کیسز کتوں کے کاٹنے کے کا رپورٹ کئے جا تے ہیں۔ایک اندازے کے مطابق رے بیز کامرض زیادہ تر 97%تک کتوںکے کاٹنے سے ہوتا ہے مگر دوسرےcanidae جانداروں متاثر ہوتے ہیں۔
رے بیز کا   وائرس Rhabduviridaeکی فیملی سے تعلق رکھتاہے جسےLyssa Virus  کہتے ہیں۔ اس کی شکل  پستول کی  گولی(bullet)جیسی ہوتی ہے  اور  یہ موزی وائرس
 رے بیزکی بیماری میںمبتلا جانور جس کو پاگل یا Rabidبھی کہتے ہیں ،اور یہ موزی وائرس اس لعا ب یا رطوبت کے انسانی جسم میںداخل ہوجاتا ہے جو براہ راست  متاثرہ  شخص کے اعصابی نظام پر  ا ثر ا نداز  ہوتا ۔ 
رے بیز کا   وائرس انسانی جسم میںمتاثرشخص کے اعصاب کے ذریعے سفر کرتا ہوا
 براہ راست دماغ تک جا پہنچتا ہے۔ Lyssa Virus  تقریبا ۳۔۲ ملی میٹر فی  گھنٹہ کی رفتار
سے  سفر کر تا ہے اور اگر متاثرہ جانور  انسان کے ہاتھوں ،پیروں ، گلے کے نزدیک یا گردن کے پاس  کا ٹتا  ہے  تو رے بیز سے ہونے والی  بیماری کا خطرہ  ا س کا  شخص میں بہت  بڑھ
 جاتا ہے  کیونکہ  یہ وائرس پھر بہت تیز سے متاثرہ شخص کے نروس سسٹم میں داخل ہوتاہے اور متاثرہ شخص کی جا ن کو  خطرہ لاحق ہو تا ہے۔
 اگر کاٹنے والے جانور کے لعاب  میں  یا دانتوں میں اس  وائرس کی مقدار کم ہے تو متاثرہ  متاثرہ شخص میں رے بیز کی  میں رے بیز کی بیماری  کچھ عرصے  بعد بھی ظاہر ہوسکتی ہے ۔ یہ وائرس  انسانی جسم میں کئی سالوں تک زندہ  رہ سکتا   ہے ۔ اور اس کی  علامات دس دن  سے   لے کر  ایک   سال کی  مدت تک بھی ظاہر ہو سکتے ہیں  جو   کاٹنے  والے میں  جانور میں پائے جائے جا نے والے وائرس  کی تعداد پر منحصر ہوتا ہیِ۔
  رے بیز(Rabies) کی بیماری کی علامات  دو طرح  سے  ہوتی  ہیں جن میں سے  ایک کوFurious اور دوسرے کو  Dumbکہتے ہیں Furious حالت میں ر متاثرہ شخص کی  کتے کے کاٹنے کے بعد  دماغ  میں  ہونے والی  سوزش کے باعث ڈپریشں اور بے چینی کی سی   کیفیت پیدا ہوجاتی ہے  اور  یہ علامت کتے کے کاٹنے   کے دو سے  چار   دنوں  میں ظاہر  ہو نا 
شروع  ہوجاتی  جس میں پہلے  مرحلے  میں   متاثرہ شخص کو کتے  کو کاٹنے  سے  موجود  موجود زخم  میں شدید ہجانی دورے پڑنا شروع ہوجاتے ہیں ۔دیوانگی اور اعصابی تشنج کے ساتھ ساتھ  متاثرہ  شخص کو پانی خوف بھی ھوجاتی ہے ، وہ بند کمرے  میں کونے میںچھپ کر بیٹھے رہنے کو زیادہ  ترجیح دیتا ہے۔ اس کے  ساتھ سا تھ بعض حا لتوں میں روشنی سے خوف بھی  ہو جا تا ہے ۔  مریض کو سا نس   لینے میں رکاوت  اور مشکل پیش آتی ہے اور اسکی انکھون کی پتلی ٹھہرسی جاتی ہے ۔ ایسے مریضوں کو جتنی جلدی ممکن ہو سکے، کسی الگ اور محفوظ مقام پر منتقل  کر دینا  چاہیے کیونکہ  رے بیز کی بیماری  میں  مبتلا   شخص کے کاٹنے سے یہ    بیماری دوسروں میں  منتقل    ہوسکتی ہے لہذا ایسے مریضوںکو سب سے الگ اور دوسرے لوگوں سے  رکھنا چاہیں ۔یہ سب علامتیں ظاہر ہوجانے کے بعدمریض کے پجنے  کے  امکانا ت بے حد ص کم رہ جا تے ہیں  اور اس کی جان بچانا مشکل ہو جا تا ہے۔ جبکہ دوسری قسم یعنی          dump      حالت میں متاثر    شخص اعضاء کی پتھوں  کی کمزوری اور فالج جیسی  علامات  یا  کیفیات پیدا ہونا شروع  ہوتی جاتی ہیں اور  مریض بالکل بے سدھ سا ہوجاتا ہے ۔غشی اور نیم  بے ہوشی کی سی کیفت  طاری ہونی لگتی ہے اور  پھر کچھ ہی  عرصے میں  مریض کی موت واقع ہوجا تی ہے 

  رے بیز((Rabiesایک قابل علاج مرض ہے اور  اس سے بچاوممکن ہے  ۔ہمیںاپنے  گھروں  میں موجود  پالتو کتوں کو یا ایسے  علاقے جہاں کتوں  کی افزائش نسل کی جا تی ہیں  اور وہ ڈاکٹر حضرات جو  جا نوروں کے علاج معالجہ سے منسلک ہیں  ان کو    رے بیز((Rabies سے بچاوء  کے ویکسین ((vaccineلازمی  لگوالینے چاہیے اور   خود بھی      وائرس سے بچنے کے  ٹیکوںکا کورس پورا  کر نا چاہے علالمی ادراہ صحت (WHO)
 کے مطا بق    رے بیز سے  بچاوں کے لیے     pre -expososure prophylaxis or PREP
 کے لیے  تین ٹیکوں کا کورس  کروانا  چاہیے جو ایک کسی  بھی دن اس کے بعد  ساتواں دن اور   پھر اٹھائیسویں ۲۸ دن لگایا  جا تا ہے ۔اور پھر  اس کے بعد  حفاظتی اقدام اور احتیاط کیی سبب  ایک سال کے  بعد  ایک   ٹیکہ اور پانچ سال کے عرصے  میں ا یک ٹیکہ لگایا جاتا ہے
 
 اسطرح  یہ ویکسین لگانے  سے ساری زندگی اس بیما ری سے بچاو ممکن ہو سکتا ہے۔
جبکہ ایک  مشتبہ پاگل  جا نور کے کاٹنے کے فورا بعد بھی  pre -expososure prophylaxis or PREPمیں سب سے پہلے متاثرہ جگہ یا زخم کو دھو نے سے رے بیز کے  ہونے کے  خطرے کو  تقریبا ایک  تحقیق کے مطابق  اچھے طریقے سے  زخم کو  دھونے  سے رے بیز   کے ہونے  کے خطرے  کو تقریبا ایک تہائی حد تک کم کیا جاسکتا ہے۔ متاثرہ جگہ کو کسی پٹی یا ٹانکوں کی مدد سے بند کر نا  چاہیے بلکہ کھلا رہنے دینا چاہیے  اور  اگر خون بہت تیزی سے بہہ رہا ہو تو صرف ہلکی اور  ڈھیلی سی پٹی کر کے فوری طور پر نزدیکی میڈیکل سینڑ  لے کر جا نا  جا نا چاہیے ۔
ایک اندازے کے مطابق  متاثرہ شخص   کم از کم ۱۲گھنٹوں اور زیادہ سے زیادہ  ۴۸  گھنٹوں
 کے اندر  ابتدائی طبی امداد جانی چاہیے  جہان ڈاکڑ  مریض کے زخم کی حالت کو دیکھتے ہوئے اس کا پیش نظر  ویکسینیشن کے  با رے میں آگاہ کر تا ۔
وہ  شخص جس کو  متاثرہ جانور  کا ٹ چکا ہے اور  اس نے کبھی بھی  رے بیز سے  بچنے کے لیے  کوئی  ویکسینیشن  نہیں کر وایا ہے  تو اسے چار  رے بیز کے   ویکسینیشن لگتے ہیں ۔
ایک کتے  کے کاٹنے کے فوری بعد یا  اسی دن اس کے  بعد  تیسرے دن ،پھر ۱۴دن بعد  یہ
 ویکسین لگائی جاتی ہے اور  ری بیز کی  ویکسین کے ساتھ ساتھ  رے بیز(RIG)  
imune Globulins  بھی لگوانا بے حد ضروری ہوتا ہے جس سے متاثرہ شخص کو  فوری  
طور پر  رے بیز وائرس کو جلد ازجلدمتاثرہ سے ختم کرنے  میں آسانی  ہو جا تی ہے۔
مگرمتاثرہ شخص  جن کو پہلے ہی   رے بیز سے بچاوء کے  ویکسین  لگ چکی ہواسے متاثرہ  کتے یا جانور کے  فوری بعد  دو ویکسین لگانے چا ہئے۔ ایک پاگل کے کاٹنے  کے فوری بعد یا اسی دن جبکہ دوسرا اس کے تیسرے دن اوراس کو    رے بیزکے imune Globulins 
 لگانے کی ضرورت نہیں ہوتی ہے۔ رے بیز ایک قابل علاج مرض ہے  مگر اس سے ہونے والی اموات کی سب سے بڑی وجہ اس مرض اور اس کے علاج سے لا علامی اوران مریضوں
کے ساتھ ہو نے والا غلط برتاوء ہے جو کتے کے کاٹنے کے علاج کے لیے ویکسینیشن (Vaccination)کے بجائے گھریلو ٹوٹکے اور دیگر دیسی طریقے استعمال کرتے ہیں۔اگر ھم رے بیز سے احتیاط اور کتے کے کاٹنے کے ابتداء میں ہی  متاثرہ شخص کا بتہر اور مکمل علاج کروالیںتواس مرض سے ہونے والی  اموات پر کافی حد تک قابو پاجاسکتا ہے۔