October 20th, 2019 (1441صفر21)

روزے اور ہماری صحت

 

ڈاکٹر سیدہ صدف اکبر

رمضان المبارک کی آمد آمد ہے اور رمضان کے روزے بہت سے صحت اور روحانی فوائد کے حامل ہوتے ہیں۔ رمضان ہمیں موقع فراہم کرتا ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں ۔اپنے نفوس اور اجسام کو پاک ا ور صاف رکھیں اور پرہیز گارانہ طرز عمل اپنائیں ۔ ہمارا جسم ایک مشین کی مانند ہے جو خود کار انداز میں ہر وقت اپناکام سر انجام دیتا رہتا ہے لیکن اس مشین کو بھی آرام کی ضرورت ہوتی ہے اور رمضان کے مبارک مہینے میں کم کھانے پینے کے باعث ہمارا جسم آرام کرتا ہے۔ اس کے علاوہ مختلف ماہرین کے مطابق روزہ کو لیسٹرول، بلڈ پریشر ، مٹاپے اور معدہ و جگر کے مختلف امراض پر قابو پانے میں بھی معاون ثابت ہوتا ہے۔ ہمارا دل جو کہ نیند اور حتیٰ کہ بے ہوشی کی حالت میں بھی اپنا کام سرانجام دیتا ہے اور مسلسل جسم کو خون فراہم کرتا ہے اور روزے کے دوران چونکہ خون کی مقدار میں کمی ہو جاتی ہے جس سے دل کو بھی آرام میسر آتا ہے ۔ دل کے دورے کے اسباب جن میں مٹاپا، مسلسل پریشانی ، چربی کی زیادتی، ذیا بیطس ، بلڈپریشراور سگریٹ نوشی شامل ہیں، کا خاتمہ کر کے دل کے دوروں سے محفوظ رکھتا ہے۔
اس کے علاوہ روزے کے دوران جب خون میں کم کھانے کی وجہ سے غذائی مادے کم ترین سطح پر ہوتے ہیں تو ہڈیوں کا گودہ حرکت پذیر ہوتا ہے جس کی وجہ سے جسمانی طورپر کمزور افراد روزے رکھ کر آسانی سے اپنے اندر زیادہ خون پیدا کر سکتے ہیں۔ روزے کے دوران جگر کو ضروری آرام مل جاتا ہے۔ جبکہ دن بھر روزے کی حالت میں گزارنے کے بعد انسان کے جسم میں موجود زہریلا مواد اور دیگر فاسد مادے ختم ہو جاتے ہیں ۔
روزے کی حالت میں انسانی جسم میں موجود ایسے ہارمونز بھی حرکت میں آجاتے ہیں جو بڑھاپے کے خلاف مزاحمت کرتے ہیں اور روزے سے انسانی جلد مضبوط اور اس پر موجود جھریوں میں کمی آتی ہے ۔
اس کے علاوہ روزے کی حالت میں بلڈ پریشر کم ہونا شروع ہو جاتا ہے ۔ بلڈپریشر کو نارمل یا کم رکھنے کے لیے پانی چاہیے ہوتا ہے اور روزے کی حالت میںجب جسم کو پانی فراہم نہیں ہوتا ہے تو بلڈ پریشر میں کمی آنا شروع ہو جاتی ہے اور پھر اس کمی کو پورا کرنے کے لیے جسم میں ایسے ہارمونز خارج ہونے لگتے ہیں جو بلڈ پریشر کے عمل کو بہتر بناتے ہیں۔ لہٰذا بلڈپریشر کے مریضوں کو روزہ رکھنے کی وجہ سے ان کا بلڈ پریشر قابو میں یا نارمل رہتا ہے ۔
سائنسی تحقیق کے مطابق روزہ رکھنے سے جسم میں زہریلے مادے ختم ہو نے کا عمل شروع ہو جاتاہے اور جسمانی قوت مدافعت میں بھی اضافہ ہوتا ہے ۔ روزے کی حالت میں مدافعتی نظام فعال ہو جاتا ہے اور پھر اس فعالیت کے نتیجے میں جسم کے اندر مدافعتی نظام بڑھ جاتا ہے اور پھر خون میں ایسے مدا فعتی خلیے پیدا ہوتے ہیں جوا نسان کو نہ صرف بیماریوں سے بچاتے ہیں بلکہ جسم میں موجود بیماریوں کو بھی دور کرنے میں مدد دیتے ہیں ۔
ایک حالیہ تحقیق کے مطابق روزہ کینسر کی بھی روک تھام کرتا ہے۔ یہ جسم میں کینسر کے خلیوں کی افزائش کو روکتا ہے۔روزے کی حالت میں گلوکوز کم ہوتا ہے اور جسم توانائی حاصل کرنے کے لیے چربی کا استعمال کرتاہے۔جس کے نتیجے میں کیٹون باڈیز بھی پیدا ہوتی ہیںجو پروٹین کو چھوٹے ذرات میں تقسیم ہونے کے عمل کو روکتی ہے۔کینسر کے خلیوں کو اپنی نشوونما کے لیے چھوٹے ذرات کی ضرورت ہوتی ہے جبکہ روزے کی حالت میں یہ ذرات کم پیدا ہوتے ہیں، جس سے کینسر کی روک تھام ہوتی ہے ۔
رمضان المبارک میں سحر ی اور افطار میں متوازن طرز زندگی اور صحت مند غذائیں ضروری ہوتی ہیں ۔ سائنسی تحقیق کے مطابق روزہ رکھنے سے کمزوری نہیں ہوتی ہے بلکہ ہمارے جسم میں ایک ایسا نظام یا میکانیت پایا جاتا ہے جو روزے کی حالت میں حرکت میں آجاتا ہے اور جسم کی اضافی چربی کو موثر انداز میں ختم کر دیتا ہے ۔
رمضان المبارک کے دوران سحری میں ایسی خوراک استعمال کرنی چاہیے جس میں گڈ کولیسٹرول ، پروٹین اور کاربوہائیڈریٹس ضرور شامل ہوں۔ سحری کا وقت ختم ہونے سے ایک آدھ گھنٹے پہلے کھانا پینا چھوڑ دیں ۔ سحری میں کھجور ضرور کھانا چاہیے کیونکہ ان میں پوٹاشیم موجود ہوتی ہے جو جسم کو توانائی فراہم کرتا ہے ۔
سحری میںپیٹ بڑھ کر کھانا ایک غلط طرز عمل ہے جس سے معدے کا نظام غیر محرک ہو جاتا ہے اور نظام ہضم کو نقصان پہنچتا ہے۔ لہٰذا بھاری اور ثقیل قسم کی غذائوں سے پرہیز کر تے ہوئے سحری کے دوران گندم کی روٹی ، دودھ اور انڈہ وغیرہ کا استعمال کرنا چاہیے جو دن بھر کے لیے پروٹین اور کاربو ہائیڈ ریٹس فراہم کرتے ہیں اور روزے کی حالت میں کو لیسٹرول لیول برقرار رکھنے کے لیے سرسوں یا ز یتون کے تیل میں سحری تیار کرنی چاہیے۔ اسی طرح سحری میں دہی اور پھلوں کا استعمال بھی دن بھر تھکاوٹ اور نقاہت سے محفوظ رکھتا ہے ۔ سحری کے لیے بیدار ہونے کے فوری بعد پانی لازمی پینا چاہیے جبکہ حتیٰ الامکان طور پر کیفین سے پرہیز کرنا چاہیے۔
سحری کے وقت ڈیری سے بنی چیزیں استعمال کرنے سے پیاس نہیں لگتی ہے اور جسم میں توانائی برقرار رہتی ہے۔ اس کے علاوہ فائبر یعنی ریشہ دار غذائیں نہ صرف معدے پر ہلکی ہوتی ہیں جبکہ ہضم بھی دیر سے ہوتی ہیں ۔ اس کے علاوہ سحری کے وقت ایک مناسب مقدار میں خشک میوہ جات مثلا بادام ، اخروٹ ، کاجو ، پستہ اور انجیر وغیرہ بھی جسم میں دن بھر توانائی فراہم کرتے ہیں۔ سحری میں تلی ہوئی اور زیادہ مرچ مصالحوں والے کھانوں سے پرہیز کرنا چاہیے کیونکہ ان سے معدہ بھاری ہو جاتا ہے اور پھر دن بھر بیزاری اور اکتاہٹ محسوس ہوتی ہے ۔
سحری کے وقت چاول سے بنے کھانوں کے ساتھ نہاری، سری پائے، بینگن اور گوبھی وغیرہ سے بھی پرہیز کرنا چاہیے کیونکہ ان کے استعمال سے بد ہضمی کی شکایت ہو سکتی ہے۔
سحری لازمی کرنا چاہیے کیونکہ سحری میں کچھ کھائے پیے بغیر ہی روزہ رکھ لینے سے معدے میں تیزابیت بڑھ جاتی ہے اور چونکہ موسم گرما میں روزے کا دورانیہ بھی طویل ہوتا ہے تو سحری میں دودھ یا لسی بھی ضرور پینا چاہیے جس سے روزے کے دوران جسم میں پانی کی کمی نہیں ہوتی ہے ۔
افطاری کے وقت روزے دار کو اپنی دن بھر کی کھوئی ہوئی توانائی بحال کرنا ہوتی ہے ۔دن بھر خالی پیٹ رہنے کی وجہ سے افطاری کے وقت سب سے پہلے شوگر لیول کو بحال کرنے کے لیے کھجور کھانی چاہیے۔کھجور انسانی جسم میں داخل ہوکر گلوکوز اور فرکٹوز کی شکل میں قدرتی شکر پیدا کرتی ہے جو فوراََ جزوبدن بن کر روزے کی حالت میں خرچ ہونے والی کیلوریز کی کمی کو پورا کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ نمک سے روزہ افطار کرنا بھی سنت ہے کیونکہ اس سے جسم میں نمکیات کی کمی پوری ہوتی ہے کھجور اور نمک کے علاوہ بادام اور کیلا بھی جسم میں کھوئی ہوئی توانائی بحال کرنے کا بہترین ذریعہ ہیں ۔
افطاری کے وقت زود ہضم غذائیں استعمال کرنی چاہییں۔ نمک کا زیادہ استعمال بلڈ پریشر اور دل کی شریانوں کے لیے بھی نقصان دہ ہے۔ افطار کے فوراََ بعد بہت زیادہ مشروبات کا زیادہ استعمال بھی صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتا ہے ۔ اس کے علاوہ افطار کے فوری بعد دودھ سوڈا بھی نہیں پینا چاہیے کیونکہ کاربونیڈ ڈرنکس کا استعمال جسم سے کیلشم کو خارج کرتا ہے اور کیلشم کی کمی سے ہڈیوں کمزور ہو جاتی ہیں ۔ خصوصی طور پر جوڑوں کے درد میں مبتلا افراد کو دودھ سوڈا پینے سے گریز کرنا چاہیے۔
افطاری کے وقت کوشش کرنی چاہیے کہ دودھ ، دہی ،لسی ، کھیر اور دودھ سے بنی دیگر اشیا بھی کھانی چاہییں تاکہ جسم میںکیلشم اور پروٹین کی کمی کو پورا کیا جاسکے۔ اس کے علاوہ کچی سبزیوں کی سلاد بھی جسم میں فائیبرز، وٹامنز اور آئرن کی کمی کو پورا کرتا ہے ۔ افطاری کے وقت چاول سے پرہیز کرنا چاہیے کیونکہ یہ پیا س کا باعث بنتے ہیں۔ 

افطاری کے بعد سونے سے پہلے کم از کم 6 گلاس پانی ضرور پینا چاہیے۔ روزے کے دوران جب ہم اپنے آخری کھانے کے بعد تقریباً 8 گھنٹوں تک کچھ نہیں کھاتے پیتے ہیں تو ہمارا جسم خون کے اندر موجود گلوکوز کی مطلوبہ سطح برقرار رکھنے کے لیے توانائی کے ذخائر کا استعمال شروع کردیتا ہے۔ زیادہ تر افراد کے لیے یہ نقصان دہ نہیں ہوتا مگر ذیابیطیس سے متاثرہ افراد کا جسم گلوکوز کا استعمال کرنے سے بھی قاصر ہوتا ہے ۔ خاص طور پر ذیابیطیس کی صورت میں اگر مریض ادویات یا انسولین استعمال کرتے ہیں تو وہ ہائپوگلائی سیمیا یا ہائپو یعنی خون کے اندر گلوکوز کی کم سطح کے خطرہ سے دوچار ہوسکتے ہیں۔ اس سال چونکہ روزے گرمی میں ہیں تو اس لیے ہائپو گلائی سیمیا اور ڈی ہائیڈریشن کا خطرہ زیادہ ہے ۔
ذیابیطیس یا شوگر ایک ایسی کیفیت کا نام ہے جس میں مریض کے خون میں گلوکوز کی مقدار بہت زیادہ ہو جاتی ہے اور ایسا اس وقت ہوتا ہے جب لبلبہ جسے پنکریاز بھی کہتے ہیں یا تو انسولین بالکل بھی نہیں بناتا ہے یا پھر اتنی مقدار میں نہیں بناتا کہ گلوکوز کو مریض کے جسم کے خلیوں میں داخل ہونے میں مدد دے سکے یا وہ جو انسولین بناتا ہے وہ درست طریقے سے اپنا کام سرانجام نہیں دے پاتے ہیں ۔ انسولین گلوکوز کو جسم کے خلیوں میں داخل ہونے میں مدد دیتی ہے اور جسم میں گلوکوز ایندھن کا کام سرانجام دیتا ہے۔ جس کی توانائی سے ہم اپنے روزمرہ کے کام انجام دیتے ہیں ۔ ذیابطیس یا شوگر کے مریضوں میںجسم اس ایندھن کا مناسب استعمال نہیں کر سکتا لہٰذا یہ خون میںجمع ہوتا رہتا ہے جو خطرناک ثابت ہوسکتا ہے ۔
ٹائپ ون ذیابطیس میں جسم انسولین کی کوئی مقدار بنانے کے قابل نہیں ہوتا ہے ۔ہم جو کچھ کھاتے پیتے ہیں اس میںموجود گلوکوز کو حاصل کرنے کے لیے انسولین کی ضرورت ہوتی ہے۔ ٹائپ ون ذیابطیس کو روکا نہیں جا سکتا ہے اور اس کی تشخیص عام طور پر اس وقت ہوتی ہے جب بچے یا نوجوان بالغ ہوتے ہیں ۔ جبکہ ٹائپ ٹو ذیابطیس اس وقت ہوتی ہے جب جسم کافی مقدار میں انسولین نہیں بنا سکتا یا جب بننے والی انسولین درست طریقے سے اپنا کام نہیں کر رہی ہوتی ہے۔ اس میں مریض کا خاندانی پس منظر ، عمر اور نسلی پیش نظر، ٹائپ ٹو ذیابطیس کے ہونے کے امکانات کو ظاہر کرتا ہے اور زیادہ وزن کے حامل افراد میں بھی اس کے ہونے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔ ذیابطیس کے مریضون میں جوافراد انسولین یا مخصوص ادویات استعمال کرتے ہیں ان میں ہائپو گلائی سیمیا (خون میں گلوکوز کی کمی ) کا خطرہ ہوتا ہے اور جب روزوں کے دن لمبے ہوں اور ہائپو گلائی سیمیا اور ڈی ہائیڈریشن (جسم میںپانی کی کمی) کے خطرے زیادہ ہوتے ہیں اور ہائپو گلاسیمیا ، گلوکوز کی سطح کا بڑھ جانا اور ڈی ہائیڈریشن ذیابیطس کے حامل لوگوں کے لیے خطرناک ثابت ہوسکتے ہیں ۔
ہائپو گلائی سیمیا یا ہائپو اس وقت ہوتا ہے جب خون میں گلوکوز کی سطح کم ہو جاتی ہے اور ہر فرد میں اس کی الگ الگ علامات ہوسکتی ہیں جس میں پسینے میں تر محسوس کرنا ، چکر محسوس کرنا، بے چین اور بیمار محسوس کرنا ، سردی اور تھر تھراہٹ پیدا ہونا ، ہونٹوں میں سنسناہٹ پیدا ہونا ، بھوک محسوس کرنا ، پیلا پڑجانا اور دل کا تیز دھڑکنا شامل ہے ۔
رمضان کے روزے میں بہت دیر تک پانی کے بغیر رہنا ہوتا ہے اور وہ افراد جو ذیابطیس کے مریض ہوں ، جن میں خون میں گلوکوز کی مقدار بلند سطح پر ہو ، عمر رسیدہ افراد اور حاملہ خواتین وغیرہ ڈی ہائیڈریشن کے خطرات سے زیادہ دو چار ہوتے ہیں ۔ اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ روزے کے آغاز سے قبل ،افطار اور سحری کے درمیان زیادہ مقدارمیں بغیر شوگر مائع یعنی پانی کا استعمال کرنا چاہیے۔ چائے ، کافی اور مختلف کولا وغیرہ میں کیفین شامل ہوتی ہے جوکہ پیشاب آور ہوتی ہے اور جسم سے پانی کو بطور پیشاب ضائع کر دیتی ہے ۔ ڈی ہائیڈریشن کی علامات میں چکر آنا ، بد حواس ہو جانا ، ہوش وحواس کھو دینا اور بہت کم پیشاب کا خارج ہونا شامل ہے ۔
ذیابطیس کے حامل افراد کو سحری کے اوقات میں پھلوں اور سبزیوں کے ساتھ نشاستہ دار کاربو ہائیڈیٹس استعمال کرنے چاہییں جوکہ توانائی کو دیر سے خارج کرتے ہیں ۔ اس میں بریڈ، چپاتیاں ، چاول اور سوجی وغیرہ شامل ہیں ۔ اس خوراک سے مریض کو اپنے خون کے اندر گلوکوز کی سطح مستحکم رکھنے میںمدد ملتی ہے۔
معقول انداز سے کھانا چاہیے۔ ضرورت سے زیادہ نہ کھائیں اور بہت زیادہ پانی پینا چاہیے۔ رمضان کے اوقات میں افطار میں بھی مناسب اور صحت مندانہ انداز میں کھانا چاہیے۔ ضرورت سے زیادہ اور غلط قسم کی خوراک زیادہ مقدار میں کھانے سے نہ صرف وزن بڑھ جاتا ہے بلکہ یہ خون میں گلوکوز کے غیر متوازن اور بہت زیادہ اضافے کا سبب بھی بنتا ہے ۔
ذیابطیس کے مریض جب روزے رکھ رہے ہوں تو ان کو چاہیے کہ لازمی سحری کے وقت کھانا کھانا چاہیے۔ کیونکہ یہ روزے کے دوران ان کے گلوکوز کی سطح کو زیادہ متوازن ر کھنے میں مدد گار ثابت ہوتا ہے ۔ ذیابطیس کے حامل افراد کو روزے رکھنے سے پہلے اپنے ڈاکٹر سے مشورہ کرلینا چاہیے کیونکہ یہ ان کے لیے خطرناک بھی ثابت ہو سکتا ہے اور ان کی صحت کے لیے مسائل کا سبب بھی بن سکتا ہے ۔ اس کے علاوہ ذیابطیس کے مریضوں کو رمضان کے دنوں میں بلڈ گلوکوز کی سطح کو باقاعدگی سے چیک اپ کرواتے رہنا چاہیے کیونکہ اس طریقے سے روزے رکھنے کے دوران مختلف بیماریوں سے خود کو محفوظ رکھ سکتے ہیں ۔
سائنسی تحقیق کے مطابق روزہ رکھنے سے جسم میں کمزوری نہیں ہوتی ہے بلکہ ہمارے جسم میں ایک ایسا نظام یامیکنیزم پایا جاتا ہے جو روزے کی حالت میں حرکت میں آجاتا ہے اور جسم کی اضافی چربی کو موثر انداز میں ختم کر دیتا ہے ۔ چینی اور چربی سے بنائی جانے والی اشیا سے پرہیز کرنا چاہیے کیونکہ یہ انسانی میٹابولیزم پر منفی اثرات ڈالنے کے ساتھ سر میں درد اور تھکاوٹ کا باعث بنتی ہیں۔
رمضان المبارک چونکہ عبادت کا مہینہ ہو تا ہے اس لیے عموما ً رمضان میں روزمرہ کے شیڈول میں تبدیلی واقع ہوتی ہے جس کی وجہ سے رمضان میں نیند کے دورانئے میں بھی کمی آجاتی ہے جو کہ صحت کے لیے ایک نقصان د ہ عمل ہے۔ کوشش کرنی چاہیے کہ رو زے کے دنوں میں 24 گھنٹوں میں سے کم از کم 8 گھنٹے تک کی نیند لازمی لینی چاہیے۔ اس کے علاوہ رمضان کے مہینے میں اپنی روزمرہ کی روٹین میںورزش کو نکال نہیں دینا چاہیے۔ ماہرین کے مطابق رمضان میں ہلکی پھلکی ورزش لازمی کرنی چاہیے یا پھر رمضان کے دنوں میں پیدل چلنے کو معمول بنا لینا چاہیے۔
رمضان انسان کے نفس کے خلاف لڑنے اور اللہ کی رضا کے لیے اپنی خواہشوں کے آگے بے بس ہونے کے بجائے اللہ کی رضا کو فوقیت دینے کی ہماری تربیت کرتا ہے ۔ اس سال بھی اللہ تعالیٰ امت مسلمہ کو رمضان کی رحمتوں ، برکتوں اور نعمتوں سے مستفید ہونے کی توفیق عطافرمائے ۔اور اس رمضان المبارک کے صدقے ہماری روحوں اور جسم کو ہر بیماری سے پاک کرے (آمین ) ۔