October 15th, 2019 (1441صفر15)

خون کی کمی (انیمیا)

 

ڈاکٹر سیدہ صدف اکبر


خون کی کمی ایسا مرض ہے جس میں جسم کے خون کے خلیے بننا کم ہو جاتے ہیں۔ ہمارے جسم میں سرخ خلیوں یعنی RBCs کا سب سے اہم حصہ ہیموگلوبن نامی ایک پروٹین ہوتا ہے جو پھیپھڑوں سے آکسیجن کو لے کر جسم کے تمام حصوں تک پہنچاتا ہے اور خون کا سرخ رنگ اسی کی وجہ سے ہوتا ہے۔ جسم کے تمام سیلز کو اپنے معمول کے کام سرانجام دینے کے لیے آکسیجن کی ضرورت ہے اور یہ آکسیجن خون کے سرخ خلیات کے ذریعے منتقل ہوتی ہے۔ اگر ہمارے جسم میں سرخ خلیوں یا خون کی کمی واقع ہوجائے تو جسم کے دیگر حصوں میں آکسیجن نہیں پہنچ پاتی جس کی وجہ سے جسم کو اپنا کام کرنے میں مشکل درپیش آتی ہے۔ نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ کے مطابق خون کے سرخ خلیات کی مقدار مردوں میں تقریباََ 1.4سے 6.1 ملین سیلز/مائیکرولیٹر جبکہ خواتین میں 4.2 سے 5.4 ملین سلز/مائیکرولیٹر تک ہوتی ہے۔ ہیموگلوبن کی نارمل سطح مردوں میں تقریباً 13 -18گرام فی ڈیسی لیٹر جبکہ خواتین میں12-16 گرام فی ڈیسی لیٹر تک ہوتی ہے۔ پاکستان میں خون کی کمی ایک بہت اہم مسئلہ ہے اور ایک جائزے کے مطابق پاکستان میں تقریباً ایک تہائی ناقص یا ناکافی خوراک کے باعث خون کی کمی کا شکار ہیں۔ ایک تحقیق کے مطابق پاکستان میں حاملہ خواتین کی اکثریت خون کی کمی میں مبتلا پائی جاتی ہیں۔ خون کے سرخ خلیات ہڈیوں کے گودے یا بون میرو میں تشکیل
پاتے ہیں جو کہ بڑی ہڈیوں میں موجود ہوتا ہے۔ بون میرو کو خون کے سرخ خلیات (RBCs)بنانے کے لیے وٹامن ڈی 12فولاد، فولیٹ اور دوسرے غذائی اجزا کی ضرورت ہوتی ہے۔
- [ ] انسانی جسم میں خون کی کمی کی مختلف وجوہات ہوسکتی ہیں۔ جب جسم میں سرخ خلیوں کے بننے کے عمل میں خرابی ہوجائے تو جسم میں سرخ خلیوں کی کمی ہوسکتی ہے۔ اگر جسم میں ضرورت کے مطابق وٹامنز نہ ملیں اور آئرن کی کمی   ہوجائے تو یہ وجہ بھی جسم میں سرخ خلیات کی کمی کا باعث بن سکتی ہے کیونکہ ہیموگلوبن بنانے کے لیے فولاد کی ضرورت ہوتی ہے اور فولاد کی کمی سے ہیموگلوبن کی پیداوار میں بھی کمی ہوجاتی ہے۔ اگر ہم اپنی خوراک میں فولاد ٹھیک طریقے سے حاصل نہیں کر رہے تو جسم میں فولاد ٹھیک طریقے سے جذب بھی  نہیں ہوپاتی ہے۔ اس کے علاوہ ہڈیوں کا گودا یعنی بون میرو کم ہو جانے کی وجہ سے سگریٹ نوشی، وزن میں زیادتی یا عمر بڑھنے کی وجہ سے بھی جسم میں سرخ خلیوں کی کمی ہوسکتی ہے۔ بعض افراد کے جسم میں موجود خلیات کمزور ہوتے ہیں جو ذرا سے دباؤ سے پھٹ جاتے ہیں اس کی وجہ اکثر اوقات موروثی بھی ہوسکتی ہے کہ اگر مریض کے والدین میں سے کسی کو خون کی کمی  یا Anaemia کا مسئلہ رہا ہو تو وہ بھی خون کی کمی کا شکار ہوسکتا ہے۔ بعض اوقات جگر یا گردے کی بیماری کی حالت میں جسم سے خارج  ہونے والے زہریلے مادے سے بھی جسم میں خون کی کمی واقع ہوجاتی ہے۔ جس کی وجہ سے ہمارے نظام ہاضمہ میں یہ مطلوبہ اجزا جزب کرنے کی صلاحیت بہت کم یا ختم ہوجاتی ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق صرف سبزیوں کا استعمال کرنے والے افراد یا ایسی خوراک کا استعمال جس میں فولاد یا فولیٹ کی کمی  ہو سے بھی خون کا مرض لاحق ہوسکتا ہے۔ سبزیوں میں ایک خاص مقدار میں آئرن موجود تو ہوتا ہے مگر یہ غذا وٹامن B 12 کی فراہمی پوری نہیں کرپاتی ہے جس کی وجہ سے جسم میں وٹامن کی کمی ہونے لگتی ہے جو پھر خون کی کمی کا باعث بنتی ہے۔ اکثر اوقات کسی چوٹ لگنے، زچگی یا مختلف  بیماریوں میں بھی جسم سے زیادہ خون ضائع ہوجانے کے باعث بھی خون میں کمی واقع ہوسکتی ہے۔ شکاگو یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق خون کی کمی کی سب سے نمایاں علامات بہت جلدی تھکاوٹ کا احساس ہونا ہے۔ تحقیق کے مطابق اس تھکاوٹ کی علامات مختلف افراد میں مختلف انداز میں ہوتی ہے جبکہ کچھ افراد کو بے حد ٹھکاوٹ کا احساس ہوتا ہے۔
- [ ] امریکہ میں ہونے والی تحقیق کے مطابق تھکاوٹ کے احساس کے ساتھ بے خوابی بھی جسم میں خون کی کمی کو ظاہر کرتی ہے۔ ریسرچ کے مطابق جسم میں موجود خون میں سرخ خلیات کی کمی کی وجہ سے جسم کے ٹشوز تک آکسیجن کی فراہمی میں مشکلات پیش آتی ہیں جس کی وجہ سے مریض کو بے حد تھکن محسوس ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ رنگ کا زرد پڑجانا، کمزوری کی حالت، سانس لینے میں دشواری، سینے میں درد چکر کے ساتھ ساتھ مریض کے ذہنی اور جسمانی کارکردگی بھی متاثر ہوتی ہے۔ تحقیق کے مطابق جب جسم کو مناسب مقدار میں آکسیجن نہیں ملتی تو سانس لینے میں مشکل پیش آتی ہے جس کی وجہ سے سر چکرانے لگتا ہے یا دماغ میں ہلکا پن محسوس ہونے لگتا ہے جبکہ کچھ افراد میں پھٹے ہوئے ہونٹ بھی جسم میں خون کی کمی کی ایک علامت ہوتے ہیں۔ ابتدا میں خون کی کمی کی علامات بہت معمولی نوعیت کی ہوتی ہیں کہ ان کو پہچاننا قدرے مشکل ہوتا ہے۔ لیکن جیسے جیسے وقت گزرتا جاتا ہے ان علامات میں شدت آنے لگتی ہے۔ مریض کے ناخن بھی سفید رنگ کے ہوجاتے ہیں۔ خون کی کمی میں مبتلا افراد کو بھوک کم لگتی ہے جبکہ خون کی کمی کے حامل یا متاثرہ افراد میں آئس کیوب کھانے یا چاک پینٹ وغیرہ کھانے کی طلب ہوتی ہے اس حالت کو PICA کہتے ہیں ۔طبی ماہرین ابھی تک یہ راز حل نہیں کرپائے ہیں کہ اس طلب کے پیچھے کیا عوامل کارفرما ہوتے ہیں۔ خون کی  کمی سے بہت سے دیگر عوارض یا بیماریاں بھی جنم لے سکتی ہیں۔ جن میں دل کی بیماری، دوران حمل پیچیدگی اور نشوونما میں کمی قابل ذکر ہیں۔ جسم میں اگر خون کی کمی ہوجائے تو دل کی دھڑکنیں یا تو بے قاعدہ ہوجاتی ہیں یا تیز ہوجاتی ہیں کیونکہ جسم کے تمام حصوں تک آکسیجن پہنچانے کے لیے زیادہ کام کرنا پڑتا ہے اس سے دل کی اور بھی بیماریاں ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ اگر جسم میں خون کی بہت زیادہ کمی ہوجائے تو انتقال خون کی بھی ضرورت  پڑسکتی ہے جبکہ ایسی صورتحال میں Anaemic Heart failure بھی ہوسکتا ہے جس میں مریض کا دل کام کرنا چھوڑ دیتا  ہے۔ حاملہ خواتین میں خون کی کمی کے باعث اکثر اوقات بچوں کی قبل ازوقت ولادت بھی ہوسکتی ہے اور پھر پیدائش کے وقت بچے کا وزن کم بھی ہوسکتا ہے۔ اس کے علاوہ خون کی کمی کے شکار بچوں کی نشو و نما کم ہوتی ہے اور ان میں انفیکشن ہونے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔
خون کی کمی کو دور کرنے کے لیے مختلف ادویات اور سپلیمنٹ بھی استعمال کیے جاتے ہیں لیکن یہ دوائیاں ہمیشہ ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق استعمال کرنے چاہیں۔ کیونکہ ان دوائیوں کا زیادہ استعمال بھی نقصان دہ ہوتا ہے۔ جس سے اکثر اوقات تھکن، درد، قے، دست، سر درد اور جوڑوں میں درد وغیرہ کی شکایات ہوسکتی ہیں۔ لہذا اگر ایسی خوراک کو اپنایا جائے جس سے جسم میں خون کی کمی کو پورا کیا جاسکتا ہے تو زیادہ مناسب ہوتا ہے۔ خون کی کمی کو پورا کرنے کے لیے جو غذائیں زیادہ فائدہ مند ہوتی ہیں ان میں پالک، چقندر، ٹماٹر، مٹر سبز رنگ کی گوبھی، پھلیاں، کریلہ وغیرہ شامل ہیں۔ پالک چونکہ جسم میں خون بناتا ہے لہذا اس کے روزانہ کے استعمال سے جسم میں خون کی  کمی کو پورا کیا جاسکتا ہے۔ پالک کا جوس بھی صحت کے لیے فائدہ مند ثابت ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ چقندر جسم میں آئرن کی کمی کو پورا کرتا ہے جس سے جسم میں سرخ خلیوں کی تشکیل ہوتی ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق خون کی کمی کے شکار افراد کو ہفتے میں دو سے تین بار سرخ گوشت لازمی اپنی خوراک کا حصہ بنانا چاہیے۔ کیونکہ اس میں ہیم فولاد موجود ہوتی ہے۔ ٹماٹر وٹامن سی حاصل کرنے کا ایک بہترین منبع ہوتے ہیں اور جسم میں موجود وٹامن سی زیادہ سے زیادہ آئرن جذب کرنے کی صلاحیت پیدا کرتا ہے۔ اس کے علاوہ انڈے بھی آئرن کا بہترین ماخذ ہیں اور ایک انڈہ روزانہ کھانے سے جسم میں خون کی کمی دور ہوسکتی ہے۔ اس کے علاوہ پھلوں میں اسٹابری، آلو بخارا، آڑو، خشک خوبانی، تربوز، کھجور، کشمش،انجیر، وغیرہ خون کی کمی کو پورا کرتے ہیں کیونکہ پھلوں،سبزیوں وغیرہ میں نان ہیم فولاد موجود ہوتی ہے۔ ہیم (Haem)فولاد جسم میں تیس فیصد تک جذب ہوتا ہے جبکہ نان ہیم(NonHaem)فولاد دس فیصد تک جذب ہوتا ہے۔ لہذا نان ہیم فولاد کو جذب کرنے لے لیے خوراک میں وٹامن سی کا استعمال  لازمی کرنا چاہیے جو کہ ٹماٹر، سبز مرچ کے ساتھ ساتھ لیموں وغیرہ سے حاصل کیے جاسکتے ہیں۔ خون کی کمی ایک قابل علاج بیماری ہے جسے اپنے صحت مند خوراک اور بہترین طرز زندگی کو اپنا کر بہت حد تک دور کیا جاسکتا ہے
فوری طور پر ماہر ڈاکٹر سے رابطہ کرنا چاہیے اور ورزش کو اپنا معمول بنانے کے ساتھ ساتھ خوراک میں پھل، سبزیوں اور گوشت کا ایک متوازن استعمال اپنی خوراک میں رکھیں اور صحت مند رہیں۔