October 15th, 2019 (1441صفر15)

وٹامن ڈی

 

ڈاکٹر سیدہ صدف اکبر

انسانی جسم میں مختلف اقسام کے وٹامنز کام کر رہے ہیں جن میں سے ایک وٹامن ڈی بھی ہے جو ایک Fat soluble vitamin ہے۔ یہ انسانی غذا میں ہوتا ہے اور آنتوں کے ذریعے جسم میں داخل ہوتا ہے۔ وٹامن ڈی آنتوں سے کیلشیم اور فاسفورس حاصل کرنے میں مدد کرنے کے ساتھ ساتھ پیراتھائرائیڈ غدودوں کو روکتا ہے جو ہڈیوں سے کیلشیم جذب کرتا ہے۔ وٹامن ڈی خون میں کیلشیم اور فاسفورس کو تناسب میں رکھتا ہے۔ ماہرین وٹامن ڈی کو ہڈیوں کو مضبوط، صحت مند ساخت اور سخت سائز دینے والا کارخانہ بھی کہتے ہیں کیونکہ اس وٹامن کی وجہ سے انسانی جسم سیدھا کھڑا رہتا ہے۔ وٹامن ڈی کمی کو انسانی ہڈیوں اور دانتوں کے لیے خطرناک قراردیا گیا ہے۔ وٹامن ڈی کو حاصل کرنے کا سب سے بڑا منبع سورج کی روشنی ہے جو قدرتی طور پر ہمیں وٹامن ڈی فراہم کرتا ہے۔ اس کے علاوہ مختلف دواؤں یا غذاؤں کے ذریعے بھی وٹامن ڈی حاصل کی جاسکتی ہیں۔ وٹامن ڈی قدرتی طور پر بہت کم غذاؤں میں موجود ہوتا ہے۔ مختلف اقسام کی مچھلیوں جیسے سالمن مچھلی، ٹیوٹا مچھلی اور کوڈ مچھلی کے جگر کے تیل میں پائی جاتی ہے۔ انڈے کی زردی اور پنیر میں بھی وٹامن ڈی موجود ہوتا ہے قدرتی طور پر وٹامن ڈی ہمارے جسم میں پیدا ہوتا ہے۔ سورج کی روشنی جب ہماری جلد پر پڑتی ہیں تو جلد پر موجود بالائے بنفشی شعائیں وٹامن ڈی کی تیاری کو تحریک دیتی ہیں اور پھر جلد میں موجود 7D ہائڈرو کولیسٹرول کو پری وٹامن ڈی 3 میں تبدیل کردیتی ہیں جو بعد میں وٹامن ڈی 3 میں منتقل ہوجاتا ہے۔ سورج کی روشنی سے بننے والا وٹامن ڈی 3 حیاتیاتی طور پر بے اثر ہوتا ہے۔ اسے پُر اثر کرنے کے لیے جسم میں ہائیڈرو آگسزیلیشن کے 2 مراحل سے گزرنا پڑتا ہے جس میں سب سے پہلے مرحلے میں جگر میں وٹامن D25 ایڈو آگزل وٹامن ڈی میں تبدیل ہوتا ہے اور دوسرے مرحلے میں گردوں میں حیاتیاتی طور پر متحرک 25 ڈائی ہائیڈروآگزل وٹامن ڈی میں بدل جاتا ہے۔ 
جسم میں وٹامن ڈی کی کمی اس وقت ہوتی ہے جب سورج کی روشنی سے سامنا بہت کم ہوتا ہے، خوراک میں اس کی مطلوبہ مقدار میں کمی اور گردوں اور جگر کی خرابی کی وجہ سے جس میں وہ وٹامن ڈی کو فعال حالت میں رکھنے کے قابل نہیں رہتے ہیں۔
عمر رسیدہ افراد کی جلد میں قدرت طور پر وٹامن ڈی کی تالیفی صلاحیت کم ہوتی ہے اور ایسے عمر رسیدہ جو دن کا زیادہ تر حصہ گھر کے اندر گزارتے ہیں وہ بھی وٹامن ڈی کی کمی کا شکار پائے جاتے ہیں۔ وٹامن ڈی اور کیلشیم عمر رسیدہ افراد میں ہڈیوں کی سختی اور ہڈیوں کے ٹشوز کے سوکھنے اور سکڑنے اور ہڈیوں کی بھربھراہٹ میں کمی کے عمل یعنی اسٹیوپروسس کے عمل کو بھی کنٹرول کرتا ہے جس میں ہڈیاں کمزور ہوجاتی ہیں۔ اس کے علاوہ وٹامن ڈی جسم میں اعصابی، عضلاتی اور دیگر مختلف پیچیدگیوں کو کم کرنے کے ساتھ ساتھ مختلف اقسام سرطان جس میں کولون، پروسٹیٹ اور چھاتی کا سرطان بھی شامل ہے، تحفظ فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ وٹامن ڈی کی کمی بلڈ پریشر بڑھانے کا باعث بھی بنتی ہے۔ دل کے عضلات اس وٹامن کی کمی کی وجہ سے اپنے افعال ٹھیک طریقے سے انجام نہیں دے پاتے جس کی وجہ سے ہائی بلڈ پریشر کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ وٹامن ڈی کی کمی سے سوکھے کا مرض بھی لاحق ہونے کا خطرہ ہوتا ہے جس میں بچوں کی ہڈیوں کی نشو نما رک جاتی ہے اور جسم سوکھ جاتا ہے۔
وٹامن ڈی کی کمی کا شکار لوگوں میں اعصابی بیماری جسے ملٹی پل سیکلوروسیس کہتے ہیں میں مبتلا ہونے کا امکان بھی بڑھ جاتا ہے جس میں انسانی دماغ، اعصاب اور ریڑھ کی ہڈی شدید متاثر ہوتی ہیں۔ اس کے علاوہ بعض افراد میں تھکان اور کمزوری کا سبب بھی یہی وٹامن ڈی کی کمی ہوتی ہے۔ اس کی کمی سے انسان نقاہت اور تھکاوٹ محسوس کرتا ہے اور بالواسطہ طور سے ایسے انسان کی ہڈیاں بھی کمزور ہوتی ہیں۔
ایک تحقیق کے مطابق وٹامن ڈی کی کمی سے جسم میں قوت مدافعت بری طرح متاثر ہوتی ہے جس کے باعث مختلف بیماریاں جسم پر باآسانی حملہ آور ہوسکتی ہیں۔ جس میں ڈینگی اور دیگر وائرل انفیکشن شامل ہیں۔ جسم میں وٹامن ڈی کا صحیح تناسب نہ صرف ہمیں مختلف بیماریوں سے بچاؤ فراہم کرتا ہے بلکہ ان بیماریوں کے ہونے کی صورت میں مرض کا دورانیہ اور شدت کو کم کرکے علاج میں معاونت فراہم کرتا ہے جبکہ اس کے ساتھ ساتھ وٹامن ڈی کی نارمل سطح سے ٹی بی اور ایڈز سمیت کی پیچیدہ امراض کے خلاف قوت مدافعت میں اضافہ بھی کیا جاسکتا ہے. حتی کہ وٹامن ڈی کی زیادہ خوراک سے ٹی بی اور ایڈز سے ہلاکت کا خطرہ کم کرنے میں بھی مدد مل سکتی ہے۔ وٹامن ڈی میں کمی وزن میں زیادتی کا سبب بھی بنتی ہے کیونکہ جسم کی چربی کو جذب کرنے کے لیے وٹامن ڈی کی زیادہ مقدار درکار ہوتی ہے اور پھر وٹامن ڈی کی کمی سے وزن میں اضافہ ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ وٹامن ڈی کی کمی سے کی بار موڈ بھی اچانک سے بدلنے لگتے ہیں۔ وٹامن ڈی سیروٹونن ہارمون پیدا کرتا ہے جو ہمارے مزاج کو خوشگوار رکھنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے اور سیروٹونن کی کمی سے موڈ میں تبدیلی نمایاں طور پر دیکھی جاسکتی ہے۔ غذاؤں اور ادویات میں استعمال ہونے والے وٹامن ڈی کے غیر ضروری اور ضرورت سے زیادہ استعمال سے مضر اثرات بھی رونما ہوسکتے ہیں جن میں بھوک نہ لگنا، پیشاب کی زیادتی، دل کی دھڑکن میں بے ربطگی کے ساتھ ساتھ خون میں کیلشیم کی زیادتی ایک حالیہ تحقیق کے مطابق وٹامن ڈی کی زیادتی اور قلبی اموات کے درمیان گہرا تعلق پایا جاتا ہے اور وٹامن ڈی کی زیادتی دل کے دورے اور فالج کا سبب بھی بن سکتی ہے اور ایسے افراد جو ایک طویل مدت سے وٹامن ڈی کی گولیوں کا استعمال کرتے ہیں ان کے جسم میں پیدا ہونے والی کیلشیم کی اضافی مقدار گردوں کو نقصان پہنچانے کا باعث بنتی ہے۔ وٹامن ڈی کی زیادتی نظام اخراج کے لیے نقصان دہ اثرات کا حامل ثابت ہوتی ہیں جس سے گردوں کے فیل ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ پیشاب کی رنگت گہری اور بار بار آتا ہے جبکہ اس کے ساتھ ساتھ گردوں میں پتھری ہونے کا سبب بھی بنتے ہیں۔ وٹامن ڈی کی زیادتی سے جسم میں حد سے زیادہ دماغی مزاحمت اور اعصابی تناؤ بھی پیدا ہوجاتا ہے اس کی زیادتی اعصاب میں اکڑاؤ اور جوڑوں میں درد کا باعث بھی بنتے ہیں۔
غذاؤں اور دواؤں کی زیادتی کے ساتھ ساتھ سورج کی روشنی سے بننے والے وٹامن ڈی سے بھی محدود وقت کے لیے فائدہ اٹھانا چاہیے کیونکہ سورج کی روشنی میں موجود بالائے بنفشی شعائیں بہت زیادہ دیر کے بعد جلد پر مضر اثرات مرتب کرنا شروع کردیتی ہیں اس لیے زیادہ بہتر یہی ہوتا ہے کہ صبح دس بجے سے دوپہر 3 بجے کے دوران دس سے تیس منٹ ہفتے میں دو سے تین مرتبہ سورج کی روشنی کی شدت لحاظ سے جسم کے مختلف حصوں یعنی پیر، بازو، چہرے وغیرہ کو دھوپ لگوائیں۔