October 15th, 2019 (1441صفر15)

سرخ گوشت کھائیں مگر ۔ اعتدال کے ساتھ

 

تحریر : ڈاکٹر صدف اکبر

گوشت پروٹین کا ایک مکمل ماخذ ہے جس میں تمام ضروری امائنو ایسڈز موجود ہوتے ہیں جو ہمارا جسم از خود نہیں بنا سکتا۔ اور یہ امائنو ایسڈز ہمارے جسم کی نشونما کے  لیے بے حد ضروری ہوتے ہیں۔ اور یہ مختلف بافتوں (Tissues)مثلاً عضلات اور ہماری جلد کو بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ گوشت انسانی جسم کو مختلف وٹامنز اور نمکیات خصوصاً وٹامن B، آئرن، زنک اور فاسفورس وغیرہ بھی مہیا کرتے ہیں۔ ان سب وجوہات کی بنا پر گوشت کو لازمی طور پر ہماری روزمرہ خوراک کا حصہ ہونا چاہیے مگر اس کا بہت زیادہ اور مسلسل استعمال کولیسٹرول، یورک ایسڈ، ہائی بلڈ پریشر اور دل کی مختلف بیماریوں کا سبب بھی بن سکتا ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق ایک شخص کو ایک دن میں تقریباً 70 گرام سے زیادہ گوشت استعمال نہیں کرنا چاہئے کیونکہ اس سے مختلف پیچیدگیاں جنم لے سکتی ہیں۔ مگر ہمارے معاشرے میں گوشت کے روزانہ استعمال کو امارت کی نشانی اور فخریہ طور پر پیش کیا جاتا ہے کہ ہمارے ہاں تو گوشت کے بغیر کوئی کھانا ہی نہیں کھاتا اور  پھر کسی تقریب یا تہوار پر تو گوشت کا استعمال وہ بھی لازم و ملزوم بن جاتا ہے۔
سرخ گوشت کا زیادہ استعمال ہائی بلڈ پریشر کے مریضوں کے لیے نقصان دہ بھی ثابت ہوسکتا ہے کیونکہ گوشت میں موجود پروٹین کی زیادہ مقدار سے بلڈ پریشر ہائی ہوجاتا ہے اور اس کے علاوہ گوشت میں چربی اور کولیسٹرول کی بڑی مقدار دل کی مختلف بیماریوں حتی کہ دل کے دورے کا سبب بھی بن سکتی ہے۔ کیونکہ یہ چربی دل کی مختلف شریانوں میں جمع ہو کر انہیں بلاک کردیتی ہیں اور پھر مریض دل کی بیماریوں سمیت ہارٹ ماہر کا رخ کرتے ہیں۔ اسی طرح جن لوگوں کو یرقان یا ہیپاٹائٹس کا مرض لاحق ہوتا ہے انہیں بھی سرخ گوشت کا استعمال سوچ سمجھ کے کرنا چاہیے۔ گوشت کے زیادہ استعمال سے جگر پر دباؤ پڑنے کی وجہ سے مریض کی حالت زیادہ خراب ہوسکتی ہے۔ دمے یا سانس کے مریضوں کو بھی سرخ گوشت کے کم استعمال کا مشورہ دیا جاتا ہے، سرخ گوشت کو ہضم کرنے کے لیے زیادہ آکسیجن کی ضرورت ہوتی ہے لہذا سانس کے مریضوں کے لیے اس کا زیادہ استعمال بے حد مضر ثابت ہوسکتا ہے۔ ایک حالیہ ریسرچ کے مطابق وہ لوگ جو سرخ گوشت کا استعمال زیادہ کرتے ہیں ان میں کینسر کے امکانات دوسرے لوگوں سے 20 فیصد زیادہ ہوتے ہیں۔ جس میں جگر کا کینسر، کولون اور بریسٹ کینسر وغیرہ شامل ہیں۔ اس کے علاوہ سرخ گوشت کا زیادہ استعمال یورک ایسڈ کو بڑھنے میں معاونت کرتا ہے جو کہ  جوڑوں کے درد کا باعث بنتا ہے۔

تحقیق کے مطابق باربی کیو گوشت جو کہ کوئلے کے دھویں سے بنتا ہے وہ دھواں اس گوشت کو Carcinogenic بنادیتا ہے جس سے معدے کی تیزابیت اور جلن کی شکایت ہوسکتی ہے اور جلے ہوئے گوشت سے نظام انہضام بھی متاثر ہوسکتا ہے۔
ہمارے معاشرے میں گوشت کے زیادہ استعمال کے ساتھ ساتھ گوشت کو لمبے عرصے کے لیے فریز یا جمانے کا رجحان بھی عام ہے جو ہماری صحت کے لیے بے حد نقصان دہ ہے اور لوگ اس بات سے لاعلم ہوتے ہیں کہ گوشت کو زیادہ عرصے تک جمانے سے فوڈ پوائزننگ (Food Poisoning) اور گردے، دل اور معدے کی مختلف بیماریاں جنم لے سکتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق گوشت کو تقریباً 10 دن سے زیادہ ذخیرہ نہیں کرنا چاہیے اور اس کو تازہ حالت ہی میں استعمال کرلینا چاہیے کیونکہ اس سے گوشت میں مختلف بیکٹیریا کی نشوونما شروع ہوجاتی ہے جو ہماری صحت کے لیے بے حد نقصان دہ ہوتے ہیں لہذا گوشت کو فوراً اچھی طرح پکا لینا چاہیے اور گوشت کو پکانے سے پہلے صاف پانی سے باقاعدہ طریقے سے دھو لینا چاہیے ۔اور بوقت ضرورت گوشت کو فریز کرتے ہوئے چھوٹے بیگز استعمال کرنے چاہیے نہ کہ اخبارات، اخبارات میں انک یعنی لیڈ موجود ہوتا ہے جو ہماری صحت کے لیے بے حد مضر ہوتا ہے۔
کھانا کھانے کے بعد سونا نہیں چاہیے کیونکہ اس طرح کھانا ٹھیک سے ہضم نہیں ہوپاتا ہے اور جس کے باعث معدے کی مختلف بیماریاں اور انفیکشن ہوسکتے ہیں۔ اسی طرح کھانا کھانے کے بعد روزانہ صبح یا شام چہل قدمی کو اپنے روزمرہ کے شیڈول کا لازمی جزو بنالینا چاہیے۔ چہل قدمی ہمارے معدے اور دیگر جسمانی حصوں کو ٹھیک اور باقاعدہ کام کرنے میں مدد کرتی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ کھانا کھانے کا ایک ٹائم مقرر کرلینا چاہیے۔ کیونکہ وقت بے وقت کھانا کھانے سے نظام ہضم  بگڑ سکتا ہے اور ہم بیمار پڑ سکتے ہیں لہذا دو کھانوں کے درمیان چھ گھنٹوں کا وقفہ ہونا چاہیے اور ایک اہم بات کہ ہمارے ہاں بیشتر گھرانوں میں پھلوں اور سبزیوں کے بجائے گوشت زیادہ رغبت سے کھایا جاتا ہے یہ طریقہ مناسب نہیں ہے کوشش ہونی چاہیے کہ اپنی روزمرہ کی غذا میں گوشت کی مقدار کو کم کر کے پھلوں اور سبزیوں کی مقدار کو بڑھایا جائے۔
پھلوں اور سبزیوں کے مقابلے میں گوشت دیر سے ہضم ہوتا ہے اور زیادہ گوشت کھانے سے معدے پر گرانی بھی بڑھ جاتی ہے۔ لہذا گوشت کے ایک مناسب استعمال کے ساتھ ساتھ پھلوں اور سبزیوں کا استعمال بھی مناسب اور زیادہ مقدار میں کریں۔اور جانوروں کی چربی والا تیل جو کہ بے حد مضر صحت ہے کے بجائے سبزیوں کا تیل (Vegetable Oil) استعمال کرنا چاہیے کیونکہ جانوروں کی چربی والے تیل میں سیر شدہ چکنائیاں (Saturated Fats) اور Trans Fats کی زائد مقدار ہوتی ہے جبکہ اس کے برخلاف جو لوگ Polyum Saturated Acid استعمال کرتے ہیں ان کی صحت پر مضر اثرات کا خطرہ کم ہوتا ہے یہ چکنائیاں مچھلی، سبزیوں اور سبزی جاتی تیلوں یعنی Vegetable Oil میں پائی جاتی ہیں۔
سرخ گوشت چونکہ پروٹین اور دیگر وٹامنز اور معدنیات کا ایک بہتر ذریعہ ہے اور لازمی طور پر ہماری خوراک کا حصہ ہونا چاہیے مگر ان سب کے حصول کے لیے مکمل طور پر گوشت پر انحصار کرنے کے بجائے ایک صحت مند طرز زندگی اپناتے ہوئے اپنی روزمرہ کی خوراک میں مختلف موسمی سبزیوں اور پھلوں کو جزو لازم بنانا چاہیے جو کہ بذات خود پروٹین کا ایک اچھا منبع ہیں۔