October 14th, 2019 (1441صفر14)

صحت مند ناشتہ

 

تحریر: ڈاکٹر صدف اکبر

زندگی کو صحت مند بنائیں

ہماری مثبت طرزِ ندگی ہی ہمیں صحت مند اور طاقتور رکھتی ہے اور ہمیں بیماریوں سے بچاتی ہے۔ ہماری روز مرہ کی عادات جیسے ورزش، مکمل نیند، صحت افزا کھانا اور ذہن کو متحرک رکھنے والے کام ہمیں صحت مند رکھتے ہیں۔

صحت مند ناشتہ:

صبح کا ناشتہ ہمارے دن کی پہلی غذا ہے۔ یہ ہمارے جسم کے میٹا بولزم کے نظام کو شروع کرتا ہے یہ نظام ہمارے جسم کی کیلوریر کو استعمال کے قابل بناتا ہے۔ یہ کیلوریز سارا دن کام کرنے کے لیے ہمیں طاقت مہیا کرتی ہیں، اگر ہم صحت مند اور طاقت سے بھر پور ناشتہ نہیں کریں گے تو ہمارا میٹا بولزم کا نظام درست کام نہیں کرے گا۔ ہمارا ناشتہ پروٹین، کاربوہائیڈریٹ اور فائیبر پر مشتمل ہونا چاہئے۔ اس کے لئے ہم اپنے دن کا آغاز اناج، سبزی یا پھل سے کر سکتے ہیں اوران چیزوں کی مدد سے ہم اپنے سارے دن کو متحرک بنا سکتے ہیں۔ فائیبر اور پروٹین ہمارے جسم کے شوگر اورانسولین لیول کو کم رکھتا ہے جو ہمیں بے جا موٹاپے سے بچاتا ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق صحت مند ناشتہ ہماری یاداشت کو بڑھاتا ہے، ہمارے مزاج کو کو خوشگوار رکھتا ہے اور ہمارے ذہنی دباؤ کو کم کرتا ہے اس لئے ہمیں روزانہ طاقت سے بھر پور ناشتہ کرنا چاہئے۔

زیادہ پانی پئیں:

انسانی جسم کا ساٹھ فیصد حصہ پانی سے بنا ہے، اگر آپ اپنے جسم کو پانی کی کمی سے محفوظ رکھنا چاہتے ہیں تو پورے دن زیادہ سے زیادہ پانی پئیں۔ کھانے کو خون میں بدلنے کے لئے ہمارے جسم کو پانی کی سخت ضرورت ہوتی ہے، روزانہ ہمارا جسم پسینے، پیشاب، سانس لینے میں پانی کو خارج کردیتا ہے، جس کی وجہ سے ہمارے جسم میں پانی کی کمی ہو سکتی ہے۔ ہمارے جسم کو روز کتنے پانی کی ضرورت ہے اس کے لئے ہمیں ہمارا وزن، عمر، روز مرہ کے کام کو دیکھتے ہوئے پانی پینے کی مقدار کو متعین کرنا چاہئے۔ ایک عام جسم کو متحرک اور صحت مند رکھنے کے لئے روزانہ آٹھ سے دس گلاس پانی کی ضرورت ہوتی ہے اگر ہم اپنے جسم کی ضرورت کے مطابق پانی پئیں تو اس سے ہم اپنے جسم کا درجہء حرارت اور پی۔ایچ لیول کنٹرول کر سکتے ہیں بلکہ میٹابولزم کا نظام، سانس لینے کا عمل، پسینہ، قبض، دل کی دھڑکن، آدھے سر کا درد، السر، گیس، گردے کی پتھری، امراضِ قلب، کمر کا درد، جوڑوں اور ہڈیوں کا درد جیسی بیماریوں سے بھی محفوظ رہ سکتے ہیں۔ پانی نہ صرف ہمارے گردے کے کام کرنے کے عمل کو بہتر بناتا ہے بلکہ ہماری جلد کو نرم و ملائم بھی رکھتا ہے۔اگر ہم جسم کی ضرورت کے مطابق پانی نہیں پئیں گے تو پیشاب میں جلن، نمکیات کی کمی اور گردے میں پتھری کی شکایت بھی ہو سکتی ہے جو ہمارے لئے بہت تکلیف دہ ہو سکتی ہے۔

پانی انسانی جسم کے گردشِ خون، نظامِ اخراج، اعصابی نظام اورنظامِ تنفس کو درست رکھنے میں مدد دیتا ہے۔ اس کے علاوہ پانی تھوک بنانے کے عمل، غذائی اجزاء کی نقل و حمل، جسم کا درجہء حرارت اور جلد کی اجزاء کو منظم رکھتا ہے اور بہت ساری بیماریوں سے بچاتا ہے۔اس لئے زیادہ سے زیادہ پانی پینا چاہئے۔

جڑی بوٹیوں سے بنی مشروبات:

ہربل (جڑی بوٹیوں سے بنی ہوئی) چائے ہماری صحت کے لئے بہت مفید ہوتی ہیں، یہ ہمیں بہت ساری چھوٹی چھوٹی بیماریوں سے بچاتی ہے اورہمارے جسم اور دماغ کو تروتازہ رکھتی ہے ہربل چائے نیند کی خرابی، سوزش، جسم میں درد، دفاعی نطام کو مضبوط کرنا، نظامِ انہظام کو بہتر بنانا اورجسم کو متحرک رکھنے میں بہترین کردار ادا کرتی ہے، اس کے علاوہ بیماریوں سے لڑنے کی طاقت پیدا کرتی اور چھوٹی چھوٹی بیماریوں سے جسم کو محفوظ رکھتی ہے۔ اسکے علاوہ یہ چائے جسم میں بننے والی نقصاندہ چربی کو ختم کرتی ہے۔ چائے میں موجود آئرن کی مقدار ہمیں مزید طاقتور بناتی ہے۔ اس چائے میں کیلشم اور منرلز بڑی تعداد میں ہوتے ہیں جو کہ ہماری ہڈیوں، بالوں، ناخنوں اور دانتوں کو مضبوط بناتا ہے۔

مکمل نیند:

جو لوگ اپنی زندگی میں کامیاب انسان بننا چاہتے ہیں انہیں چاہئے کہ وہ رات کو مکمل اور بھرپور نیند لیں۔ جو لوگ رات کو چار سے پانچ گھنٹے یا اس سے کم سوتے ہیں وہ اپنی بہترین کارکردگی کا پندرہ فیصد حصہ کھو دیتے ہیں۔ اس لئے عام طور پر کم سے کم سات سے آٹھ گھنٹے مکمل نیند لینی چاہئے۔ مکمل نیند ہمیں دماغی دباؤ اورسوزش سے بچاتی ہے، چوٹ لگ جانے کی صورت میں جلد کو صحت یابی کی طرف لاتی ہے اس کے علاوہ ذہنی اور جسمانی طور پر متحرک رکھتی ہے۔ نیشنل سلیپ فاؤنڈیشن کے مطابق ہر روز نو سے دس گھنٹے نیند صحت مند ذندگی کے لئے ضروری ہے۔ ہمیں سونے کا ایک وقت مقرر کرنا چاہئے اوراس وقت کی پابندی کرنی چاہئے۔ ایک بالغ انسان کو ہر روز نو سے دس گھنٹے سونے کے لئے مقرر کرنا چاہئے۔

متحرک اور صحت مند رہیں:

جسمانی ورزش ہماری صحت کو مزید بہتر بناتی ہے۔ ورزش صحت مند طرزِ زندگی میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ بے مقصد اور بے قاعدہ طرزِ زندگی ہمیں موٹاپےاور بیماری کی طرف لے جاتی ہے۔ اگر آپ صحت مند، خوشیوں سے بھرپور اور لمبی ذندگی چاہتے ہیں تو روز ورزش کریں، اپنے جسم اور مسلز کو متحرک رکھیں۔ متحرک جسم آپ کو صحت مند اور طاقتور رکھتا ہے۔ ورزش ہمارے زیادہ وزن کو گھٹاتی ہے بلکہ کم وزن کو بڑھاتی بھی ہے۔ جب ہم ورزش کرتے ہیں تو ہم اپنی کیلوریز کو گھٹاتے ہیں جس سے ہم زیادہ متحرک ہوجاتے ہیں۔ ورزش ہمارے جسم کو نہ صرف متحرک رکھتی ہے بلکہ ہمارے مزاج اور دماغی دباؤ کو بھی کنٹرول کرتی ہے اس کے علاوہ ورزش ہماری شادی شدہ ذندگی کو بھی بہتر بناتی ہے۔

روزانہ ورزش ہمیں بہت ساری بیماریوں سے بچاتی ہے۔ اسٹروک، میٹابولک سینڈروم، ذیابطیس، ڈپریشن، کینسر اور گٹھری کا درد جیسی بیمارویوں سے انسان محفوظ رہتا ہے۔ اگر ہم روزانہ ورزش کریں تو صحت مند جسم کے ساتھ ساتھ ہم اپنی خود اعتمادی کو بھی بحال رکھ سکتے ہیں۔ تحقیق سے یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ روزانہ ورزش کرنے سے ہمیں بے شمار فوائد حاصل ہوتے ہیں یہ ہماری مدتِ حیات کو بڑھاتا ہے، بیماریوں کے خطرات کم کردیتا ہے، ہڈیوں کی کثافت دور کرتا ہے اور وزن کو گھٹاتا ہے۔

اپنے دماغ کو مزید پر سکون رکھنے کے لئے گہری سانسیں لیں، جو کام ہمیں پر سکون رکھتے ہیں جیسے دعا، نماز، مراقبہ، یا یوگا وغیرہ کو اپنی روزمرہ کے معمولات میں شامل کریں۔

صحت مند غذا:

صحت مند غذا ہی انسان کو صحت مند زندگی دے سکتی ہے۔ تازہ اور سادہ غذا صحت کے لئے بہت ضروری ہے جیسے پھل، سبزیاں اور سلاد اپنے کھانوں میں لازمی شامل کریں۔ ڈبوں میں بند کھانا کھانے سے گریز کریں، ایسا کھانا کھائیں جس میں روغن کم لیکن فائبر اور پروٹین زیادہ ہو جیسے دودھ، دہی یا پنیر وغیرہ۔ یو۔ایس کے شعبہء زراعت کے مطابق ہمیں روز مرہ کی خوراک میں اناج، پھل، سبزی، کم فیٹ یا بغیر فیٹ والی ڈیری کی اشیاء روزمرہ کے استعمال میں رکھنی چاہئیں۔

اگر ہم اپنی غذا کو متعین اور وزن کو متوازن کرلیں تو ایک صحت مند طرزِ ذندگی ہماری منتظر ہے۔ جن پھلوں اور سبزیوں کے رنگ شوخ ہوتے ہیں وہ جسم میں اینٹی۔اوکسیڈینٹ کی مقدار بڑھا دیتے ہیں، اینٹی۔اوکسیڈینٹ ہماری صحت کے لئے بہت مفید ہوتا ہے کیونکہ یہ جسم سے مردہ خلیوں کو خارج کر دیتا ہے۔ مختلف رنگوں کی سبزی اور پھل کھائیں جیسے سفید رنگ میں لوبیا، پیلے میں آم یا انناناس، نارنجی میں سنترہ(کینو)یا پپیتا، لال میں سیب، اسٹرابیری، ٹماٹر یا تربوز، سبز میں کھیرا، سلاد کے پتے یا امرود وغیرہ۔

یہ چیزیں ہفتے میں ایک سے دو دفعہ ہی کھائیں کیوں کہ زیادہ کھانا آپکی جیب اور صحت دونوں پر بُرے اثرات مرتب کرتا ہے۔

صحت مند اسنیکس کا بہترین وقت:

اگر آپ اسنیکس کھانا چاہتے ہیں تو کھانے کے کم از کم تین سے پانچ گھنٹے بعد اسنیکس لیں، اگر آپ نے صبح جلدی ناشتہ کیا ہے تو گیارہ بارہ بجے اسنیکس لینے کی ضرورت پڑ جاتی ہے، عمومی طور پر لوگ اسنیکس کو جنک فوڈ کو سمجھتے ہیں جبکہ ایسا نہیں ہے۔ اسنیکس ہمارے خون میں شوگر کے لیول کو برقرار رکھنے میں مدد کرتے ہیں، یہ دو کھانوں کے درمیان میں لیا جاتا ہے۔

اگر آپ کام کرتے ہوئے بھوک محسوس کر رہے ہیں تو پھل یا سبزی کا جوس لے سکتے ہیں۔ بسکٹ، ٹافی، چاکیلٹ وغیرہ کو اسنیکس کے طور پر لینے سے مکمل پرہیز کریں۔

تمباکو نوشی ایک خاموش قاتل:

اگر آپ تمباکو نوشی کرتے ہیں تو آپ نے اپنی ذندگی کے سات سال کم کر دیئے ہیں۔ سی۔ڈی۔سی کی رپورٹ کے مطابق ایک سموکر کے جسم میں عام انسان کے مقابلے میں بیمار ہونے کے دو سے چار فیصد امکانات بڑھ جاتے ہیں جبکہ پھیپھڑوں میں کینسر کے امکانات ۲۵ فیصد بڑھ جاتے ہیں۔ تمباکو نوشی سے دل کے امراض، پھیپھڑوں کا کینسر، منہ، ناک، آنتوں، گردوں، بون میرو اورخون کا کینسر جیسی موزی اور جان لیوا بیماریوں کے خدشات بڑھ جاتے ہیں جبکہ ٹی ۔بی کے خدشات بھی بڑھ جاتے ہیں۔ تمباکو نوشی پیسوں سے بیماری خریدنے کا دوسرا نام ہے۔ اس لیئے آپ فوری طور پر تمباکو نوشی بند کر دیں۔ یہ ایک خاموش قاتل بھی ہے اس لئے اسے ترک کرنے کے لئے آپ جو بھی کوشش کر سکتے ہیں کریں۔

لوگوں سے میل جول:

بہت سارے لوگ اپنی مصروفیت یا عادت کی وجہ سے تنہا رہ جاتے ہیں، لوگوں سے ملنا جلنا انسان کو دماغی طور پر متحرک رکھتا ہے۔ اس لئے مصروفیت کے باوجود لوگوں سے ملنا بہت ضروری ہے۔ لوگوں سے چند گھنٹوں کی ملاقات پورے ہفتے کے لئے انسانی دماغ کو متحرک رکھتی ہے۔ یہ دیکھا گیا ہے خاندان اور دوست انسان کی تنہائی کو دور کرنے میں سب سے زیادہ مدد کرتے ہیں۔ یہ انسان کو مثبت سوچ دیتے ہیں اورمعاشرے سے جوڑ کر رکھتے ہیں۔ اگر آپ کے پاس پیسے نہیں ہیں لیکن آپ مثبت سوچ رکھتے ہیں اورمعاشرتی طور پر متحرک ہیں تو پریشانیوں سے آپ بہت دور ہیں اورایک مکمل صحت مند ذندگی گزار رہے ہیں۔ معاشرے میں ہونے والی سماجی تقریبات کی اچھی یادیں آپ کے ذہن پر اور مزاج پر خوشگوار اثرات مرتب کرتی ہیں۔ اس لئے ایسی تقریبات میں اپنی شرکت کو لازمی بنائیں۔

وٹامن ڈی حاصل کریں:

تازہ ہوا انسان کی صحت خاص طور سے ہڈیوں کی صحت کے لئے بہت ضروری ہے۔ سورج کی روشنی میں وٹامن ڈی بڑی مقدار میں پایا جاتا ہے۔ اس لئے تازہ ہوا اور سورج کی روشنی انسانی ہڈیوں کے لئے یکساں طور پرمفید ہے۔ خواتین میں زیادہ تر ہڈیوں کی کمزوری کی بیماری پائی جاتی ہے۔ اگر اس بیماری سے بچنا چاہتے ہیں تو سورج کی روشنی یا تازہ ہوا میں زیادہ سے زیادہ وقت گزاریں۔

وٹامن ۔ڈی بہت ساری بیماریوں مثلاََ ہڈیوں کی بیماری، ڈپریشن، ذیابطیس، دل کی بیماریاں، بلند فشارِ خون، انفلوئنزا، موٹاپا، ہڈیوں کا کھوکلا ہونا، گٹھیا جیسی خطرناک بیماریوں میں یکساں طور پر مفید ہے۔

ابریڈن یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق سورج کی روشنی موٹاپے کو کم کرنے میں بہت اہم کردار ادا کرتی ہے۔ جبکہ بوسٹن یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق سورج کی روشنی موٹاپا، پھیپھڑوں کی بیماری اور سگریٹ نوشی کے مضر اثرات سے بھی بچاتی ہے۔ وٹامن ۔ڈی جسم میں موجود انسولین کی مقدار کو درست رکھتا ہے، نفسیاتی امراض کو دور کرتا ہے، جسم کے مدافعتی نظام کو بہتر بناتا ہے، بھوک کو کنٹرول کرتا ہے اور جسم کی چربی کو گھلاتا ہے۔

اپنے آپ کو وقت دیں:

وہ چیزیں جو آپ کو چھوٹی چھوٹی خوشیاں دے سکتی ہیں اس سے اپنے دن کو خوبصورت بنائیں۔ کچھ لمحے سورج کی روشنی میں گہرے سانس لیں، ذائقہ دارکھانے کھائیں، ہر وہ چھوٹے چھوٹے کام کریں جو آپ کے دماغ کو پر سکون اور صحت مند رکھتے ہیں۔ کام کرکے بیٹھ جائیں اور اپنی خوشیوں کو محسوس کریں۔

لوگوں کے ساتھ مہربانی کریں:

چھوٹے چھوٹے ایسے کام جو دوسروں کو خوشی دے سکتے ہیں جسے اپنی قریبی دوست کو مسیج، ٹکیسٹ یا کال کرلیں، کسی خاص دوست کے لئے کھانا باہر سے خرید لیں پھول تحفے میں دیں، بس میں بیٹھنے کے لئے کسی بزرگ کو جگہ دے دیں، آس پاس کے لوگوں کا خیال رکھیں اور ضرورت پڑنے پر ان کی مدد کریں۔

معلومات حاصل کریں:

جو لوگ کتابیں پڑھتے ہیں یا نت نئی معلومات حاصل کرنے کے لئے کوشش کرتے ہیں اور پڑھنے کے دیوانے ہوتے ہیں، ان کی ذندگی لمبی ہوتی ہے، پڑھائی صرف اسکول اور کالج میں ہی نہیں ہوتی بلکہ ہر وقت نئی معلومات حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ اس کے لئے نئی کتابیں پڑہیں یا مختلف موضوعات پرنئی اور دلچسپ تحقیقات آن لائن پڑہیں۔ اگر مصروفیت کی وجہ سے پڑھنے کا وقت نہ مل سکے تو ایسے لوگوں کے ساتھ وقت گزاریں جو بہت زیادہ پڑھتے ہیں اور معلومات رکھتے ہیں۔

باقاعدگی سے طبی معائنہ کروائیں:

باقاعدگی سے طبی معائنہ اپنے فیملی ڈاکٹر سے کروائیں کیونکہ طبی معائنہ زندگی کو محفوظ اور طویل بناتا ہے۔ طبی معائنے سے جسم میں ہونے والی چھوٹی موٹی بیماریاں یا خطرناک اور موزی امراض شروع میں ہی معلوم ہو جاتی ہیں اور ان کا فوری علاج کیا جاسکتا ہے۔ اس سے زندگی صحت مند اور لمبی ہو جاتی ہے۔ وہ لوگ جو ساٹھ سال یا اس زیادہ عمر کے ہیں انہیں باقاعدگی سے اپنا معائنہ لازمی کروانا چاہئے کیونکہ قدرتی طور پر اس عمر میں بیمار ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ کچھ بیماریاں ایسی ہوتی ہیں جن کی علامات ظاہر نہیں ہوتیں، بیماری جسم کے اندر بڑھ رہی ہوتی ہے اور جسم بظاہر صحت مند نظر آتا ہے۔ جب تک آپ ڈاکٹر کے پاس طبی معائنہ کے لئے نہیں جاتے بیماری کا پتہ نہیں چلتا۔ اگر کوئی دائمی مرض جیسے ذیابطیس، بلند فشارِخون، سرطان، آنتوں کا سرطان، ہڈیوں کا کھوکلا ہونا، چھاتی کا سرطان، معدہ کا زخم، شریانوں کا پھیلاؤ جیسی بیماریوں کی جانچ کے بغیر شناخت ناممکن ہے۔ ۴۵ سال کی عمر کے بعد ان امراض کے خطرے کا عنصر بڑھ جاتا ہے۔ ایک صحت مند انسان کو ہر پانچ سال کے بعد ان بیماریوں کا طبی معائنہ لازمی کروانا چاہئے۔ اگر آپ کے خاندان میں کسی کو ذیابطیس یا بلند فشارِ خون ہے تو چالیس سال کے بعد ہر سال اپنا ٹیسٹ کروائیں۔ اگر آپ کا وزن زیادہ ہے یا موٹاپے کا شکار ہیں تو آپ میں بیماری کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ ایسے میں ہر دو سال بعد اپنے ڈاکٹر سے وزن کا معائنہ کروائیں، کمر کو ناپیں اور ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق علاج کروائیں اور اپنا وزن کم کریں اور اپنے آپ کو ذہنی سکون دیں۔