December 10th, 2019 (1441ربيع الثاني12)

شعبہ تربیتِ حج و عمرہ

 

حج وعمرہ مجموعہ عبادات ہےاس فریضےکی ادائیگی کا مقام، طریقہ اورتاریخ اپنے اندرایک عظیم مقصد کے ساتھ روحانیت، وارفتگی ،دیوانگی اورخود سپردگی کے بے مثال مظاہرلیے ہوئے ہے۔ رب کعبہ نے اپنے بندوں کےاندر مناسک کے دوران خودشناسی اورخداشناسی کا احساس پیدا کروایا۔
مگر ہر سال زائرین کی بڑھتی ہوئی تعداد کے باوجود اثرات نظر نہیں آرہے تھے جن سےوہ فوائد سمیٹے جا سکتے جوان مناسک کے ذریعے حاصل ہونے چاہیے تھے شعبہٗ تربیتِ حج وعمرہ کا مقصد تربیت و رہنمائی کے ذریعے وہ روح بیدار کرنا ہے جس سے حضرت ابراہیم ؑ کا سا ایمان پیدا ہوسکے اور زائرین کی عملی زندگی اس بات کی گواہی دے کہـ’’ میری نماز، میرے تمام مراسم عبودیت اور میرا جینا مرنا سب اللہ رب العٰلمین کے لیے ہے‘‘
ایسی ہی فکری و عملی تبدیلیوں کے لیے یہ شعبہ قائم کیا گیا ہے۔ تاکہ مسلمانان ِعالم میں پھر سے یہ شعور پیدا کیا جا سکے کہ وہ ’’ تابہ ابدسعی و تغیر کے ولی ہیں‘‘ ۔ان ہی نکات کو پیش نظر رکھتے ہوئے اس شعبے کے مندرجہ ذیل مقاصد طے کیے گئے۔
1) عازمینِ حج کی تربیت ورہنمائی کے ذریعے ان کے اند حج و عمرے کی روح و مقصد بیدار کرنا۔
2) دین کی اصل روح کو سمجھتے ہوئے فکری و عملی تبدیلی لانا۔
3)حج کے موقع پر اتحاد امت کی فضا سازگار بنانا۔