November 12th, 2019 (1441ربيع الأول14)

عمومی سوالات

 

یہ بات کہی جاتی ہے کہ اس طرح کے اندیشے پائے جاتے ہیں کہ اگر جماعت اسلامی اقتدار میں آگئی تو عورتوں کو پکڑ پکڑ کر زبردستی بر قعے پہنائے جائیں گے۔۔۔۔۔۔خاص طور پر اونچے طبقوں میں یہ پروپیگینڈا پایا جاتا ہے۔۔۔۔۔۔۔ اس کے جواب میں سب سے پہلے تو میں اُن خواتین کو اطمینان دلاتا ہوں کہ انشأاللہ اگر ہمارے ہاتھ میں اختیارات آئے تو کوئی پولیس آپ کو زبردستی برقعے نہیں پہنائے گی۔۔۔۔۔ اس کے بعد میں اُن خواتین سے پوچھتا ہوں کہ پچھلے پچاس ساٹھ سال کے دوران میں برقع آپ کے معاشرے سے آخر کس طرح رخصت ہوا ہے؟ کیا کبھی سڑکوں پر کوئی پولیس کھڑی کی گئی تھی جس نے زبردستی آپ کے برقعے اتروائے ہوں؟؟؟ اگر ایسا نہیں ہوا بلکہ صرف تعلیم اور مغربی تہزیب کے اثرات اور ماحول کے دباؤ نے آپ سے برقعے اتروائے ہیں تو انشأاللہ جب اسلامی تعلیم پھیلے گی اسلامی تہذیب کو مغربی تہذیب کی جگہ فروغ نصیب ہوگا اور ماحول بدلے گا تو پھر خود ان لباسوں میں پھرتے ہوئے شرم محسوس ہونے لگے گی جن میں خواتین آج پھر رہی ہیں۔۔۔۔ ابتدائی اسلامی معاشرے میں بھی عورتوں کو مار مار کر پردہ نہیں کرایا گیا تھا بلکہ اللہ اور اُس کر رسول(ص) کی تعلیمات نے جب عورتوں کے دلوں میں ایمان پیدا کردیا تو عورتوں کو صرف یہ بتانا کافی ہوگیا کہ اللہ اور رسول(ص)کو بے حجابی پسند نہیں ہے۔۔۔۔۔۔اس کے بعد انہوں نے خود اپنی خوشی سے پردہ اختیار کر لیا۔۔۔۔۔(سید ابوالاعلی مودودیؒ ،دین اور خواتین)

جی ہاں ہمارے پاس گوشۂ عافیت کے نام سے شیلٹر ہوم کراچی میں ہے۔

نوکری کرنے سے مراد پیسہ کمانے کے لیے کسی قسم کی ملازمت کرنا ہے تو یہ بالکل جائز ہے۔ اللہ تعالیٰ نے عورت پر کمانے کی ذمہ داری نہیں ڈالی۔اس کی کفالت کی، اس کا خرچہ اٹھانے کی ذمہ داری مرد پر ڈالی ہے وہ باپ ہو، شوہر ہو، بھائی ہو یا بیٹا۔ لیکن اگر کسی مجبوری کی وجہ سے اور مجبوری نہ بھی ہو تو کسی اور وجہ سے وہ کمانا چاہتی ہو یا کمانا مقصد نہ بھی ہو کسی اور مقصد سے ملازمت کرنا چاہے تو اس کی اجازت ہے مگر اس بات کا خیال رہے کہ اس اجازت کی وجہ سے جو دوسری ذمہ داریاں عورت پر ڈالی گئی ہیں یا دوسرے جو احکام اس کو دیئے گئے ہیں وہ ساقط نہیں ہوں گے۔ ان کی ادائیگی اپنی جگہ رہے گی مثلاََ اولاد کی تربیت، شوہر کی اطاعت، پردے کے احکام وغیرہ

محترم بھائی آپ گھر بسانا چاہتے ہیں بہت اچھی سوچ اور جذبہ ہے۔ اگر آپ ان فضول اورچھوٹی چھوٹی باتوں کی نشاندہی کر دیتے جن پر آپ کی بیوی جھگڑتی ہے تو مشورہ دینا آسان ہوجاتا مگر پھر بھی چند بنیادی باتیں پیش خدمت ہیں شاید آپ کے کام آئیں اور آپ کے گھر بسانے میں معاون ہوں۔ میاں بیوی کا رشتہ بہت اہم رشتہ ہوتا ہے یہ صرف دو افراد کا نہیں دو خاندانوں کا رشتہ ہوتا ہے اسی رشتے کی مضبوطی پر معاشرے اور نئی نسل کے استحکام کا انحصار ہوتا ہے۔ جب دو مختلف ماحول میں پلنے والے مختلف مزاج کے مرد و عورت نکاح کے بندھن (عقد) میں بندھتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان کے درمیان رحمت و موّدت ڈال دیتا ہے(سورۃ روم:۲۱) ۱۔ اسلام دونوں کو ان فرائض اور حقوق واضح طور پر بتاتا ہے۔ آپ کسی مستند کتاب سے آپ پر شوہر کی حیثیت سے جو ذمہ داری ڈالی گئی ہیں اور جو حقوق دیئے گئے ہیں سمجھ لیں۔ میں مولانا مودودیؒ کی کتاب حقوق الزوجین تجویز کروں گی۔ ۲۔آپ قوام کی حیثیت سے اپنی ذمہ داریوں کی ادائیگی کی فکر کریں اور اپنی بیوی کو بھی نرمی کے ساتھ اس کی ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلائیں۔ جہاں ہر فرد کو صرف اپنے حقوق کی فکر ہو اور فرائض پر توجہ نہ ہو وہاں کبھی تعلقات اور معاملات درست نہیں ہوسکتے۔ ۳۔ آپ گھر کے سربراہ ہیں گھر کے اخراجات پورے کرنے کے ساتھ تربیت اور ماحول کی حفاظت آپ کی ذمہ داری ہے آپ خود اسلام کے بنیادی احکام کی پابندی کریں اور اپنے گھر میں اس کو رواج دینے کی کوشش کریں۔ اللہ کی نعمتوں پر دل سے ان نعمتوں کا احساس و اعتراف کریں اور شکر گزار ہوں اور بیوی کو بھی اللہ کی نعمتوں کا احساس دلائیں۔ ۴۔ جب دو مختلف مزاج کے افراد مل کر رہتے ہیں تو اختلافات ضرور ہوتے ہیں، ہوسکتا ہے جو بات آپ کو چھوٹی سی اور فضول لگ رہی ہے وہ دوسرے کی نظر میں اتنی چھوٹی اور فضول نہ ہو۔ اس سلسلے میں میرا مشورہ ہے آپ سورۃ النساء کی آیت ۹ میں اللہ سبحانہ تعالیٰ کی نصیحت کو گرہ میں باندھ لیں۔ ’’اور عورتوں کے ساتھ حسن و خوبی سے گزر بسر کرو اگر تم کو وہ ناپسند ہوں تو ممکن ہے کہ تم ایک چیز ناپسند کرو اور اللہ تعالیٰ اس کے اندر کوئی بڑی خیر رکھ دے‘‘۔ ۵۔ شیطان ازل سے میاں بیوی کے رشتہ کا دشمن ہے اور آج فتنوں کے دور میں اس کی دشمنی عروج پر ہے۔ شیطان کی دو اہم صفات اور ہتھیار ’’غصّہ‘‘ اور ’’تکبر‘‘ ہیں۔ ان دونوں صفات کی سختی سے بچیں۔ شیطان کی چالوں سے بچ جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ آپ کی بہترین مدد فرمائے اور آپ کو خوشیوں اور محبت بھری ازدواجی زندگی عطا فرمائے۔

5 .   میری شادی کو دس سال ہوگئے ہیں۔ میرے شوہر مار پیٹ، گالی گلوچ شروع سے کرتے تھے، پھر پتہ چلا کہ شراب پیتے ہیں۔ آخری دو سالوں میں نوبت یہ آگئی کہ ساتھیوں کو گھر لے آئے ؤاور زبردستی کرتے کہ ان کے ساتھ بیٹھو، زنا کرنے پر مجبور کرتے۔ میں اپنے والدین کے گھر آگئی ہوں اور خلع دائر کردی ہے۔ لیکن معلوم ہوا کہ کورٹ کے خلع تفویض کرنے سے خلع نہیں ہوگی جب تک شوہر خود نہ چاہے۔ میرے لیے دین میں کیا راستہ ہے؟ میں اُن کے ساتھ رہنا نہیں چاہتی اور وہ مجھے چھوڑنا نہیں چاہتے۔

دین نے ہی یہ راستہ دکھایا ہے کہ اگربیوی شوہر سے علیحدہ ہونا چاہتی ہو اور شوہر طلاق دینا نہیں چاہتا تو خلع کے لیے عدالت میں کیس کیا جاسکتا ہے۔ شوہر کو عدالت میں بُلانے کے لیے سمن بھیجے جاتے ہیں اور اگر وہ اطلاع پا کر بھی نہ آئے تو کچھ پیشیوں کی سماعت کے بعد کورٹ عورت کے حق میں فیصلہ دے سکتی ہے جو شرعی طور پر نافذ ہو جاتا ہے ۔ خلع کی نوبت آتی ہی اُس وقت ہے جب شوہر طلاق نہیں دیتا اور وہ آنا نہیں چاہتا ایسی کوئی دفع نہ قانون میں ہے نہ شریعت میں کہ شوہر نہ چاہے تو خلع نہیں ہوگی۔ خلع جائز بھی ہے اور قانونی بھی، چاہے شوہر حاضر ہو یا نہ ہو۔ ہاں جان بوجھ کر شوہر سے چُھپا کر خلع لے تو یہ غیر شرعی اور ناجائز ہوگا۔