October 14th, 2019 (1441صفر14)

جی ہاں آپ بھی ذہین ہیں

 

جی ہاں آپ بھی "ذہین" ہیں

ہر انسان دوسرے انسان سے بلکل مختلف ہوتا ہے، ہر کسی کے سیکھنے کا انداز اور کام کرنے کا انداز بھی مختلف ہوتا ہے۔ کچھ لوگ بہت زیادہ بولتے ہیں تو کچھ خاموش رہتے ہیں،ہر کوئی اپنی معلومات کے مطابق عمل کرتا ہے لیکن کچھ لوگ فوری جواب دیتے ہیں اورکچھ سو چ سمجھ کر کام کرتے ۔ بس ہم اپنے مزاج کے مطابق سیکھتے ہیں اور اس اسی کے مطابق عمل بھی کرتے ہیں ۔ہر اچھا برا وقت ہمیں کچھ نہ کچھ سکھا کر جاتا ہے ،ذندگی ہمیں ہر موڑ پر ایک نیا سبق دیتی ہے،اور ہر سبق سے ہم اپنے آپ کو پہچانتے ہیں،جب ہم اپنے آپ کو پہچانتے ہیں تو ہم بہترطریقے حالات سے نمٹنے کے قابل ہو جاتے ہیں
موثر طریقے سے حالات کا مقابلہ کرنے کے لئے کچھ چیزوں کو مدِنظر رکھیں۔ 

* اپنے آپ کو جانئے اور اس بات کو دیکھئے کہ کن حالات میں آپ سب سے زیادہ سیکھتے ہیں
* کون سا طریقہ آپ کے سیکھنے کے لئے سب سے زیادہ فائدہ مند ہے؟ اس کو دیکھتے ہوئے حکمتِ عملی طے کریں۔
* کن حالات میں ہم سب سے زیادہ حاضر جواب ہوتے ہیں۔
* جس دن ہمیں یہ بات سمجھ میں آجائے گی کہ کن حالات میں ہم چیزوں کو نہیں سمجھ پاتے یا سیکھنے کاعمل سست ہو جاتا ہے تو ہم مختلف حکمتِ عملی اپنا کر اپنے سیکھنے کے عمل کو بہتر بنا سکتے ہیں۔
۱۔ اگر ہم نے جان لیا کہ ہم کیا چاہتے ہیں کیسے سیکھتے ہیں اور کون سے عوامل ہمیں زیادہ سیکھاتے ہیں تو ہم حکمتِ عملی تشکیل دے سکتے ہیں اور زیادہ بہتر طریقے سے سیکھ سکتے ہیں جیسے کہ کچھ لوگوں کو تصویریں یاد رہتی ہیں ۔ایسے لوگوں کو چاہئے کہ اپنے نوٹس تصویری شکل میں اتاریں یا رنگوں کا استعمال کریں اس ے وہ زیادہ چیزیں یاد رکھ سکتے ہیں۔

* اگر آپ سنی ہوئی باتیں یاد رکھ سکتے ہیں تو آپ کو چاہئے کہ آپ اپنے لیکچرز ریکارڈ کریں اور کوئی بات سمجھ نہ آئے تو لیکچر کے درمیان سوالات کریں ،اس سے آپ کی معلومات میں اضافہ ہوگا اور بعد میں سن کر اسے یاد رکھ سکیں گے۔ 
* اگر آپ تفصیل سے کوئی بھی بات پڑھ کر یاد کرتے ہیں تو آپ کو چاہئے کہ آپ تفصیل سے نوٹس بنائیں۔ ایک ایک کر کے ترتیب سے نوٹس لکھیں اور دیکھیں کہ کون سا ماحول آپ کی پڑھائی کے لئے ساز گار ہے، جیسے دن کا وقت، رات کا وقت ،صبح کا وقت یا شام کا وقت ،اور اس وقت پر اپنی پڑھائی پر توجہ دیں۔
۲۔ جب ہم کچھ سیکھنے یا پڑھنے بیٹھیں تو ہمارے موڈاور کام میں مطابقت ہونی چاہئے اس کے لئے ہمیں حکمت عملی بنانی چاہئے جیسے کوئی ٹارگٹ رکھیں وغیرہ اوردیکھیں کہ اس ٹارگٹ کو کتنا پایا۔

* جب آپ لیٹریچر پڑھ رہے ہوں تو سب سے پہلے اس کا مرکزی خیال سمجھیں اور دیکھیں کہ کس طرح مصنف نے کون سے کردار کو کس طرح نبھایا ہے۔ 
* اگر آپ کوئی سائنس کی درسی کتاب پڑھ رہے ہیں تو اس کی اہم معلومات پہلے یاد کریں پھر اس کے مشکل نکات ، معلومات، تبصرے اور مثالیں یاد کریں۔
* اگر آپ ریاضی کا مضمون پڑھ رہے ہیں تو سب سے پہلے اس کے سوال کو سمجھیں پھر اس سوال کو حل کریں اور وقت مقرر کریں کہ اس وقت میں اپنا کام مکمل کرنا ہے۔ 
* اگر آپ کوئی نیا مضمو ن یا ٹاسک کر رہے ہیں تو اس کے لئے ان نکات پر عمل کر سکتے ہیں۔
۱۔ سب سے پہلے اپنے ٹاسک کی شناخت کریں کہ اس سے پہلے اس سے ملتا جلتا کوئی ٹاسک کیا ہے؟ 
۲۔ اگر آپ اپنے ٹاسک کے بارے میں کوئی پرانی بات یاد کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں تو فوری لائحہ عمل طے کریں کہ اس ٹاسک کو کیسے اور کتنے وقت میں مکمل کیا جاسکتا ہے؟ 
۳۔ پرانی حکمت عملی نئے ٹاسک کو مکمل کرنے کے لئے اپنائی جاسکتی ہے ۔

* جب ہم کچھ یاد کرتے ہیں تو ہم اپنا ٹیسٹ لے کر جائزہ لیتے ہیں اور یاد کرنے کے حوالے سے اپنی حکمتِ عملی بدلتے رہتے ہیں۔اسی طرح کسی نئی چیزکو یاد کرنے کے لئے ہم مختلف حکمتِ عملی اپناسکتے ہیں۔
* سب سے پہلے تو سمجھیں کہ یہ مضمون کس بارے میں ہے؟ کیا میں اسے اپنے الفاظ میں لکھ سکتا ہوں؟یا کسی اور کو اپنے الفاظ میں سمجھا سکتا ہوں؟
* اسے میں کیسے کروں؟
* اگر آپ ان سوالوں کے جواب نہیں دے پارہے تو پوچھئے آپ ایسا کیا کرسکتے ہیں جو اس کام کو مکمل کرنے کے لئے کارآمد ہو اس کے لئے حکمتِ عملی طے کریں۔
* اپنے کاموں کے حوالے سے سنجیدہ ہو جائیں ۔
۴۔ اگر آپ اس بات سے قاصر ہیں کہ اپنی حکمتِ عملی بنا کر اس پر عمل کر سکیں تو اپنی حکمتِ عملی کو بدلیں اورنئی حمکتِ عملی تشکیل دیں اگر پھر بھی آپ ناکام ہوتے ہیں تو اپنی حکمتِ عملی بدلیں اوربار بار ایک ہی پیراگررف کو پڑھیں اور ان وہ الفاظ جو سمجھ نہیں آتے انہیں بار بار دیکھیں اور یاد رکھنے کی کوشش کریں۔