October 20th, 2019 (1441صفر21)

یاداشت اور دہرائی کی اہمیت

 

یاداشت:

ہم وہ بات یاد رکھتے ہیں جو بات ہمیں سمجھ آتی ہے، سمجھتے وہی بات ہیں جس کی طرف ہم توجہ دیتے ہیں اور توجہ ہم اس بات کو دیتے ہیں جسے ہم توجہ دینا چاہتے ہیں۔ ایدورڈ بولیز
یہ بات ماہر یاداشت کی یاداشت کے بارے میں کی گئی تحقیق کا نچوڑ ہے۔ 

* ہم جو کچھ کتابوں سے یاد کرتے ہیں یا سیکھتے ہیں وہ ہمیں پڑھائی میں مدد دیتا ہے اور جو کچھ ہم معاشرے سے سیکھتے ہیں وہ ہماری عملی ذندگی کے لئے کارآمد ہوتا ہے۔ 
* ہمیں اس بات کی ضرورت ہے کہ ہم زیادہ سے زیادہ کیسے سیکھ سکتے ہیں اور کیسے زیادہ سے زیادہ باتوں کو یاد رکھ سکتے ہیں۔ اگر ہم کچھ چیزوں کو مدِ نظر رکھیں تو زیادہ سے زیادہ باتوں کو یاد رکھ سکتے ہیں اور ان سے ہم سیکھ سکتے ہیں۔
* جب ہم کسی بات کو اچھے سے سمجھ لیتے ہیں تو وہ ہماری یاداشت کا حصہ بن جاتی ہے پھر ہم اس بات کو نہیں بھولتے۔ چیزوں کو یاد رکھنے کے لئے اپنے دماغ میں ایک تصویری خاکہ بنا لیں اور اسے چھوٹے چھوٹے حصوں میں توڑ لیں پھر اس کے سوالات بنائیں اور اپنا امتحان لیں اس طرح ایک فائل کی صورت میں تمام باتیں ہمارے دماغ میں محفوظ رہ جائیں گی اور ہماری یاداشت کا حصہ بن جائیں گی۔

یاداشت کیسے کام کرتی ہے:

انسانی دماغ کی یاداشت دو حصوں میں بٹی ہوئی ہے۔ جلدی بھولنے والی یاداشت (short term memory)، دیر تک یاد رہنے والی یاداشت (long term memory).
شورٹ ٹرم میموری وہ ہوتی ہے جو ہماری فوری توجہ کا مرکز بنتی ہے، ہم ایک وقت میں محض سات باتوں کو فوری طور پر یاد رکھ سکتے ہیں، جیسے کسی کا فون نمبر جو سات اعداد پر مشتمل ہوتا ہے۔ اگر ہم اسے بار بار پڑھیں اور یاد رکھنے کی کوشش کریں تو وہ ہماری دیر پا یاداشت کا حصہ بن جاتا ہے۔

 

لونگ ٹرم میموری وہ معلومات ہیں جو ہماری زندگی کا حصہ بن جاتی ہیں پھر جب زندگی میں کبھی بھی ان معلومات کی ضرورت محسوس ہو تو دماغ خود بخود ان یاداشت کو ہمارے سامنے لے آتا ہے اور ہم اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ 
شورٹ ٹرم میموری کو لونگ ٹرم میموری میں تبدیل کرنے کے دو طریقے ہیں۔ پہلا تو یہ کہ بات کو تھوڑا بہت سمجھا جائے پھر بار بار اس بات کو دہرایا جائے جیسے ہم پہاڑے ( multiplication tables) یاد کرتے ہیں۔ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ ہم بات کو مکمل طور سے سمجھیں اور وہ بات ہمیں یاد رہ جائے یا ایک دو بار دہرانے سے وہ بات یاد ہو جائے جیسے آئیڈیاز، کلاس لیتے ہوئے لیکچرز یا تاریخ پڑھتے وقت جنگوں کا سن یاد رکھنا وغیرہ، اگر ہم مکمل طور پر سمجھ کر اسے پڑھیں تو یہ ہماری دیرپا یاداشت کا حصہ بن جاتے ہیں۔
یاد رکھنے کے دونوں ہی طریقے کارآمد ہیں۔ 

ہم بھولتے کیسے ہیں اور کیسے یاد رکھ سکتے ہیں؟

اس کے چار نظریات ہیں.

۱۔ دھند لاہٹ:

یہ ایسے ہی ہے جب ہم کسی راستے پر چلتے ہیں اور وہاں لکڑی سے راستہ بند ہو اور آپ اس پر راستہ ڈھونڈیں اور راستہ بنا لیں۔ پھر کچھ اس راستے کو استعمال کرنا چھوڑ دیں تو وہ راستہ خود بخود بند ہو جائے گا۔ ایسے ہی جب ہم کسی بات کو بار بار دہراتے ہیں تو وہ یاد رہتی ہے پھر جب دہرانا چھوڑ دیتے ہیں تو ہم بھول جاتے ہیں۔ 
یاداشت کے بارے میں ایک تحقیق کے مطابق ہم ایک دن کے بعد محض% ۵۴ بات کو یاد رکھ پاتے ہیں، سات دن کے بعد ۳۵ فیصد، چودہ دن کے بعد ۲۱ فیصد، اکیس دن کے بعد ۱۸ فیصد، اٹھائیس دن کے بعد ۱۹ فیصد اور ۶۳ دنوں کے بعد۱۷ فیصد بات یاد رہتی ہے۔ 
جب طالب علم کوئی لیکچر سنتا ہے تو وہ اسے دوبارہ نہیں سن سکتا یا اسے دوبارہ نہیں دہرا سکتا اس لئے محض چودہ دن کے بعد لیکچر کا ۹۰ فیصد حصہ طالب علم بھول جاتے ہیں اگر آپ لیکچر یاد رکھنا چاہتے ہیں تو اس کے فوری نوٹس بنائیں تاکہ بوقت ضرورت اسے دہرا سکیں۔
* بغیر دہرائے ہم یاد کئے ہوئے نوٹس بھول سکتے ہیں اس لئے دو دن کے بعد ہمیں اپنے یاد کئے ہوئے نوٹس دہرا لینے چاہئے۔

۲۔ دوبارہ یاد کرنا:

اس نظریے کے مطابق بھولی ہوئی باتیں دراصل دہندلاہٹ کا شکار ہو جاتی ہیں اور بہت ساری باتیں آپس میں مل کر گڈ مڈ ہو جاتی ہیں اور اس کے نتیجے میں ہم باتوں کو بھول جاتے ہیں۔ اس مسئلے سے بچنے کے لئے ہمیں سمجھ کر مضمون کو یاد رکھنا چاہئے تا کہ بوقت ضرورت ہم بھول نہ جائیں۔

۳۔ مداخلت:

یہ نظریہ ایک ہی موضوع پر نئی اور پرانی معلومات کے درمیان ہونے والے تنازع پر بات کرتا ہے۔ جب ہم کسی موضوع پر نئی معلومات حاصل کرتے ہیں تو وہ پرانی معلومات سے گڈ مڈ ہو جاتی ہے اور ہم درست بات یاد نہیں رکھ پاتے اس لئے کوئی بھی نئی بات یاد کرنے سے پہلے پرانی باتوں کو ایک بار دہرا لینا چاہئے اور یہ دیکھ لینا چاہئے کہ یہ نئی معلومات ہمارے لئے کتنی کار آمد ہے اور اس میں پرانی معلومات سے کتنی مطابقت ہے۔ 

۴۔ ملی جُلی معلومات:

ہم ایک وقت میں بہت ساری معلومات کوایک ساتھ دیکھ رہے ہوتے ہیں لیکن سب سے بہتر معلومات کو یاد رکھتے ہیں اس نظریے کے مطابق ہمیں ایک وقت میں ایک ہی مضمون کے بارے میں ہی معلومات جمع کرنی چاہئے تا کہ بعد میں ہماری معلومات گڈ مڈ نہ ہو جائیں اور بوقتِ ضرورت ہمارے کام آسکیں۔
ہمارا طرزِ عمل سیکھنے کے معاملے میں سب سے زیادہ اثر انداز ہوتا ہے۔ اگر ہم یہ سوچیں کہ یہ مضمون انتہائی غیر دلچسپ ہے تو ہم کبھی بھی اسے یاد نہیں رکھ سکتے۔ سب سے پہلے اپنے اہداف متعین کریں پھر ان کو پورا کرنے کی کوشش کریں۔ اگلے کئی سالوں تک کے لئے اہداف متعین کریں اور پھر اپنی پڑھائی پر توجہ دیں تو ہم بہت جلد کامیابی کی سیڑھی پر چڑھ سکتے ہیں۔

یاد رکھنے کے طریقے:

نیچے دیئے گئے چار طریقے ہماری یاداشت کو مزید بہتر بنا سکتے ہیں۔ ان میں سے اگر ہم کسی ایک طریقے کو بھی اپنائیں تو ہم خود اپنی یاداشت میں مثبت تبدیلیاں محسوس کریں گے۔ 
۱۔ پہلے اپنا ہدف متعین کریں: اپنی تمام تر توجہ اس پر مرکوز کریں، اسے یاد رکھنے کے لئے اپنے دل کو مائل کریں، جو یاد کرنا ہے اس کا سب اہم حصہ یا مرکزی خیال سب سے پہلے یاد کریں، اگر آپ نے اپنی تمام تر توجہ اس کی طرف مرکوز کرلی تو آپ اسے کبھی نہیں بھولیں گے۔ 
۲۔ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ جو کچھ بھی یاد کر رہے ہوں اس کا ایک خاکہ اپنے دماغ میں بنائیں۔ بہت سارے لوگوں کے لئے الفاظ یاد کرنا مشکل ہو جاتا ہے جب وہ اپنے خیالات میں ایک تصویر بناتے ہیں تو وہ بات انہیں یاد رہ جاتی ہے۔ آپ بھی بہت احتیاط سے پہلے اپنے دماغ میں جو یاد کرنا ہے اس حوالے سے ایک تصویر بنائیں۔ جب امتحان میں بیٹھیں تو اس خاکے یا تصویر کے بارے میں کچھ دیر سوچیں تو آپ کو تمام چیزیں یاد آجائیں گی اور آپ بہترین طریقے سے امتحان دے سکیں گے۔ 
۳۔ اپنی یاد کی ہوئی نئی چیزوں میں اپنی پرانی یادوں کے حوالے سے ربط پیدا کریں اور اسے ذہن نشین کریں۔ پھر جب امتحان میں بیٹھیں تو پرانی یادوں کے ذریعے اسے ذہن میں لائیں۔ اس طرح نئی چیزیں بھی یاداشت کا حصہ بن جائیں گی۔ اگر آپ پرانی یادوں کا نئی یادوں سے ربط بنانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں، تو آپ کے پاس معلومات کا ایک خزانہ ہوگا اورآپ اس کے بادشاہ ہوں گے اور کوئی بھی بات یاد کرنے میں کبھی بھی کوئی دقت پیش نہیں آئے گی۔
۴۔ یاد کی ہوئیں چیزوں کو بار بار دہرائیں اور اسے اپنے الفاظ میں لکھیں پھر اس کی تصیح کریں اور دوبارہ یاد کریں۔ اپنے لکھے ہوئے الفاظ یاد رہ جاتے ہیں اس طرح آپ باآسانی کوئی بھی بات یاد رکھ سکتے ہیں۔