December 8th, 2019 (1441ربيع الثاني10)

عافیہ کی جرم بے گناہی کے پندرہ سال

غزالہ عزیز

تیس مارچ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی قید بے گناہی کے پندرہ سال گزر گئے۔ تیس مارچ 2003ء میں انہیں کراچی سے گرفتار کیا گیا تھا۔ پرویز مشرف نے قوم کی اس بیٹی کو گرفتار کرکے امریکی تحویل میں افغانستان روانہ کردیا۔ اس کی تصدیق پاکستان کی وزارت داخلہ نے کی، اس وقت کے وزیر داخلہ فیصل صالح حیات نے تصدیقی بیان دیا کہ عافیہ کو امریکیوں کے حوالے کردیا ہے۔ پرویز مشرف کے یوں تو جرائم کی طویل فہرست ہے لیکن قوم کی بیٹی امریکیوں کے حوالے کرنا سب سے بڑا اور گھناؤنا جرم ہے۔
مارچ کے مہینے کی ابتدا کے ساتھ ہی پوری دنیا میں خواتین کا دن منانے کی تیاریاں شروع ہوجاتی ہیں۔ خواتین کے حقوق کی بحالی اور مظلوم عورتوں کے لیے مطالبات ایک اچھی روایت ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اس موقعے پر مظلوم ترین خاتون ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کے لیے بات کرنے کی طرف توجہ کیوں نہیں دی جاتی۔ مغرب جو حقوق نسواں کا بڑا علمبردار بنا پھرتا ہے حالاں کہ سچ یہ ہے کہ اُس نے نسوانی حرمت کی سب سے زیادہ توہین کی ہے۔ آج شام، فلسطین، عراق، افغانستان اور کشمیر میں مظالم کا سب سے زیادہ شکار خواتین ہیں۔ کیا ایک دن کے لیے ان کی حیثیت اور حقوق کو زبانی کلامی مان لینا، ان ممالک کی مظلوم خواتین کو ظلم سے نجات دلاسکتا ہے، ہرگز نہیں!!! ڈاکٹر عافیہ کا جرم کیا تھا؟؟ پرویز مشرف نے 30 مارچ 2003ء کو انہیں گرفتار کرکے افغانستان منتقل کروایا۔ 2010ء تک افغانستان میں انہیں بے گناہ قید میں رکھا۔ شدید ترین تشدد کا نشانہ بنایا جاتا رہا، عافیہ پر مظالم اور اُن کی قید کا ذمے دار پرویز مشرف ہے، اس نے اپنی کتاب میں ڈالروں کے بدلے ہم وطنوں کو بیچنے کا اعتراف کیا۔ اس نے قوم کی بیٹی کا سودا کیا۔ اس سودے سے اس نے اندرون ملک اور بیرون ملک جائدادیں خریدیں۔ ان جائدادوں میں وہ عالیشان فارم ہاؤس بھی شامل ہے جو آج سُونا پڑا ہے۔ وہ خود وہاں رہنے بسنے سے خوفزدہ ہے۔
دوسری طرف مظلوم ترین خاتون عافیہ افغانستان کے اذیت خانوں میں برسوں اذیت سہتی رہی۔ مغربی صحافی ایوان ریڈلی اپنی رہائی کے بعد خود شہادت دیتی ہیں کہ عافیہ کی چیخوں سے جیل گونجتا رہتا تھا۔ امریکی حکام نے افغانستان کی جیلوں میں ان پر مظالم ڈھائے لیکن اپنے ہاں ان کی گرفتاری 17 جولائی 2009ء کی ظاہر کی۔ 6 سال افغانستان میں بدترین تشدد سے گزار کر 2009ء میں گرفتاری کا اعلان کیا تو اس الزام کے ساتھ کہ انہوں نے امریکی فوجی سے اس کی رائفل چھین کر اس پر حملہ کیا ہے اور گولی چلائی ہے۔ حالاں کہ عین گرفتاری کے وقت وہ خود بندوق کی گولی سے شدید زخمی تھیں۔ اس جھوٹے الزام کے ثبوت ناکافی تھے، بلکہ ان کی بے گناہی کو ظاہر کررہے تھے۔ لیکن امریکی عدالت نے عدل و انصاف کا ذرا پاس نہ رکھا اور عافیہ کو 89 سال کی قید کی سزا سنائی۔ یہ سزا امریکی محکمہ عدالت اور انصاف پر سیاہ دھبا نہیں بلکہ پوری سیاہی ملنے کے مترادف ہے۔
اِدھر پاکستان میں حکومتیں بدلتی رہیں لیکن کسی حکومت کو مظلوم عافیہ کی رہائی سے کوئی دلچسپی نہ تھی۔ بلکہ اگر یہ کہا جائے تو درست ہوگا کہ عافیہ کی قید اور رہائی نہ ہونے کا سبب خود پاکستانی حکمران تھے۔ نواز شریف جب تک حکومت سے باہر تھے تو عافیہ کو قوم کی بیٹی قرار دیتے تھے اور اس کی رہائی تک چین سے نہ بیٹھنے کی باتیں کرتے تھے۔ لیکن پچھلے سال صدر بارک اوباما کے آخری دنوں میں جب خود امریکی اٹارنی مشورہ دے رہے تھے کہ وہ وقت ضائع نہ کریں اور امریکی حکومت کو ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کے لیے خط لکھیں تا کہ آپ کی قوم کی بیٹی آزاد ہوجائے تو اس وقت نواز شریف کے پاس خط لکھنے کے لیے پانچ منٹ نہیں تھے۔ انہیں خط لکھنا تھا نہ لکھا اور وہ موقع گنوا دیا۔ ایسا کیوں ہوا؟ ڈاکٹر عافیہ کے لیے ایک خط ان سے لکھا نہ جاسکا آج بھی یہ عالم ہے انہیں بھارتی وزیر اعظم کی سالگرہ یاد رہتی ہے، انہیں اس کو مبارک باد اور تحائف کا بھیجنا بھی یاد رہتا ہے لیکن یاد نہیں رہتا تو قوم سے کیے وعدے یاد نہیں رہتے۔
مارچ میں ڈاکٹر عافیہ کی سالگرہ کا دن یاد نہیں رہتا، 2 مارچ ڈاکٹر عافیہ کی سالگرہ کا دن تھا۔ لیکن پاکستانی سفارت خانہ سے کوئی ان سے نہ ملنے جاتا ہے نہ وزیراعظم کا خط جاتا ہے نہ ہی اس کے لیے کوئی سوچ یا خیال ہی آتا ہے۔ ریمنڈ ڈیوس قاتل تھا، لیکن جب تک پاکستان میں رہا اس کا سفارت خانہ پورے وقت اس کی نگہبانی کرتا رہا اور پھر رہا کراکر واپس پہنچایا۔ کلبھوشن بھارتی جاسوس تھا اس نے قید میں بھی اس کی ماں اور بیوی کو بھارت سے بلا کر ملوایا۔ لیکن ہماری حکومت ہمارے وزیراعظم نہ خود عافیہ کا ذکر کرتے ہیں نہ خیال کرتے ہیں اور نہ سفارت خانے کو ہدایت کی جاتی ہے کہ اس سے جا کر ملاقات کی جائے اس کی خبر گیری کی جائے۔ اس کی ماں اور بہن سے اس کی ملاقات کا کوئی اہتمام کیا جائے۔ خواتین کے حقوق کا نعرہ لگاتے ہوئے یوم خواتین کے موقعے پر مغرب سے اس مظلوم ترین خاتون کے حق کے بارے میں سوال کیا جانا چاہیے، ہر گروہ اور ہر طبقے کو اُن کی رہائی کے لیے مطالبہ کرنا چاہیے، یقیناًاہل علم، اہل سخن اور اہل قلم پر ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کے لیے کوششیں واجب ہیں۔