December 8th, 2019 (1441ربيع الثاني10)

عافیہ کے حقوق نسواں؟

ڈاکٹر فوزیہ صدیقی

ہرسال ’’عالمی یوم خواتین‘‘ منانے کا مقصد یہ بیان کیا جاتا ہے کہ کسی امتیاز کے بغیر معاشرے میں مساوی حقوق حاصل کرنے کے لیے خواتین کی جدوجہد ’’انسانی حقوق‘‘ کا احترام کرنے کے بارے میں اجتماعی کوشش کرنا ہے۔ لہٰذا ’’انٹرنیشنل ویمن ڈے‘‘ کو اپنا دن سمجھ کر منائیں کہ آپ معاشرے میں خواتین کے لیے حقیقی مثبت فرق قائم کرنے کے لیے کیا کرسکتے ہیں۔
عورتوں کے حقوق کے حوالے سے مغرب کا فلسفہ اپنی جگہ مگر کیا پاکستان سمیت مسلمانوں کے کسی ملک میں خواتین کے حقوق کے لیے دن منانے کی ضرورت ہے؟ ایسا ملک جہاں کی اکثریت کا دین اسلام ہو جو سکھاتا ہے کہ بیٹی ایک نعمت ہے، بیٹی کا ہونا شرم کی بات نہیں ہے اور جنت ماں کے پیروں کے نیچے ہے۔ عصمت دری ایک ناقابل معافی جرم اور ناقابل قبول گالی ہے۔ اس لیے خواتین کے دن کے موقع پر تقاریر اور سیمنار منعقد کرنا خواتین کے تحفظ، فلاح و بہبود کے لیے کافی نہیں ہے۔
عافیہ کو ’’Woman of the Century‘‘کا خطاب امریکی تنظیم آئی آر سی (IRC) نے دیا ہے۔ اس سال نیویارک میں عورتوں کا عالمی دن Free Political Prisoners کے عنوان سے عالم اسلام کی دو بیٹیوں دختر پاکستان ڈاکٹر عافیہ صدیقی اور دختر فلسطین احد تمیمی سے منسوب کیا جارہا ہے۔ اس کے علاوہ امریکی دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی، سائوتھ افریقا، برطانیہ میں برمنگھم، مانچسٹر، ناروے، ترکی اور کئی دیگر ممالک میں ’’عالمی یوم خواتین‘‘ ڈاکٹر عافیہ سے منسوب کیا جارہا ہے۔ میری پاکستان میں تمام انسانی اور عورتوں کے حقوق کی جماعتوں کے رہنمائوں سے اپیل ہے کہ ڈاکٹر عافیہ کی قید ناحق کے خاتمے اور وطن واپسی کے لیے آگے بڑھ کر بھرپور کردار ادا کریں۔
عورتوں کے حقوق کے حوالے سے صورت حال تشویشناک ہونے کے ساتھ ساتھ شرمناک بھی ہے۔ دیہات کی عورت مرد کے ساتھ کھیتوں، کھلیانوں اور بھٹوں میں مساوی مزدوری کرنے کے باوجود معاشرتی اور معاشی حق سے محروم ہے۔ گھریلو کمسن ملازمائیں نہ صرف چائلڈ لیبر قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے بلکہ تشدد کا شکار، تحفظ اور انصاف سے محروم ہے۔ دیہاتوں میں کاروکاری اور نو عمر لڑکیوں کی قرآن سے شادی جیسی جاہلانہ رسوم کو ختم کرنے کی کوئی سنجیدہ کوشش نظر نہیں آتی ہے۔ شہروں میں اسکول، کالج، یونی ورسٹی، اسپتال، دفاتر اور فیکٹریوں میں خواتین کے ساتھ امتیازی سلوک روا رکھا جاتا ہے۔ اگر خواتین کے عالمی دن کے موقع پر عافیہ کی پندرہ سالہ طویل قید ناحق پر نظر دوڑائی جائے تو دنیا بھر کے لیے یہی پیغام ہے کہ عافیہ وہ شخصیت ہے جس نے اکیلے عورت پر تاریخ میں ہونے والے ہر ظلم کو سہا ہے۔
عافیہ کے ساتھ ہونے والے مظالم کا جائزہ لیا جائے تو وہ کون سا ظلم ہے جو اکیلی عافیہ پر نہیں کیا گیا۔ ایک عورت کو جس طرح ستایا جاسکتا ہے وہ تمام حربے عافیہ پر آزمائے گئے ہیں یا دوسرے لفظوں میں ایک عورت پر جو جو مظالم کیے جاسکتے ہیں وہ تمام مظالم اکیلی عافیہ نے سہے ہیں۔ ذرا سوچیے، اغواء اسے کیا گیا، بچے اس سے چھینے گئے، سرحد پار انسانی اسمگلنگ کا جرم اس کے ساتھ کیا گیا، خفیہ عقوبت خانے میں انسانیت سوز مظالم اس پر ڈھائے گئے، پانچ سال تک اسے لاپتا رکھا گیا، گولیاں اسے ماری گئی، پاکستانی شہری ہونے کے باوجود غیرقانونی طور پر پہلے پاکستان سے افغانستان اور پھرافغانستان سے امریکا منتقل کیا گیا، جھوٹا اور من گھڑت مقدمہ اس پر قائم کیا گیا، امریکی جیل میں برہنہ کیا گیا، کپڑوں کی واپسی کے لیے قرآن پاک اس کے قدموں پھینک کر چلنے کا کہا گیا، عدالت میں قانونی دفاع کے حق سے محروم رکھا گیا، مرضی کے وکیل کرنے کا حق اس سے چھین لیا گیا، جو جھوٹا الزام لگایا گیا تھا وہ ثابت نہ ہونے کے باوجود 86 سال کی ناقابل فہم سزا سنا کر اب اسے امریکی جیل کی اندھیری کوٹھڑی میں قید تنہائی کی اسیر بنا دیا گیا ہے۔
انسانی اور عورتوں کے حقوق کی خلاف ورزی کے حوالے سے مارچ کے مہینہ کا عافیہ کی زندگی سے گہرا تعلق
بنتا ہے۔ 2 مارچ عافیہ کی پیدائش کا دن ملک بھر میں عقیدت اور احترام کے ساتھ منایا گیا۔ گزشتہ کئی سال سے 8 مارچ کو ’’عورتوں کے حقوق کا عالمی دن‘‘ عافیہ کے نام منسوب کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ 23مارچ، 1998ء میں ’’یوم پاکستان‘‘ کے موقع پر عافیہ کو ’’پرائڈآف پاکستان‘‘ ایوارڈ ملاتھا جب کہ 30مارچ کو عافیہ اور اس کے تین کمسن بچوں کو کراچی سے اغواء کرکے امریکیوں کے حوالے کیا گیا تھا۔
مہذب معاشروں میں خواتین کا احترام کیا جاتا ہے، انہیں بیچا نہیں جاتا ہے۔ خواتین ماں، بہن، بیٹیوں کے حقوق کا ایک نہیں بلکہ سال کا ہر دن مختص ہے۔ عورت ماں، بہن، بیٹی اور بیوی ہر رشتے میں قابل احترام ہے۔ ہمارے دین اسلام نے تو ہر مومن کی منزل ’’جنت‘‘ کو ماں کے قدموں تلے رکھ دیا ہے۔ کسی عورت کا اس سے بڑھ کر احترام نہیں کیا جاسکتا ہے۔ اگر خواتین کے حقوق کا احترام نہ کیا جائے تو عالمی دن منانے کا مقصد فوت ہوجاتا ہے۔ کسی بھی قوم کی غیرت اور حمیت کی پہچان ان کے معاشرے میں ماں، بہن اور بیٹی کے مقام سے ہوتی ہے مگر افسوس ہم 21 ویں صدی کے آج کے اس ترقی یافتہ دور میں پستی کی سمت میں سفر کررہے ہیں۔
خواتین میں تعلیم کا فقدان ان کی معاشرتی اور معاشی حیثیت قائم کرنے میں بڑی رکاوٹ ہے۔ تعلیم صرف ڈگری کا نام نہیں ہے۔ اپنے نام کے آگے ڈگریاں درج کرنے سے کوئی تعلیم یافتہ نہیں بن جاتا ہے۔ تعلیم اصل میں انسانی سوچ اور رویوں میں شعور اجاگر کرنے اور عملی زندگی میں حکمت اپنانے کا نام ہے۔ عافیہ کا خواب تعلیم یافتہ پاکستان تھا تاکہ ایک باشعور قوم اور ترقی پزیر ملک کے پرچم کو اقوام عالم میں سربلند کیا جاسکے۔
خواتین کے حقوق اور ان کی حفاظت کے حوالے سے تو مسلمانوں کی تاریخ قابل فخر رہی ہے۔ پیغمبر اسلام محمد رسول اللہؐ نے خاتون جنت بی بی فاطمہ ؓ کے لیے چادر بچھا کر دور جہالت میں عورتوں کے احترام کی جو بنیاد رکھی تھی اسے بعد میں آنے والے مسلم حکمرانوں، ائمہ کرام اور دانشوروں نے بلند تر مقام تک پہنچایا تھا۔ اقوام عالم کی تاریخ میں محمد بن قاسم، طارق بن زیاد معتصم باللہ اور سلطان محمد فاتح بیٹیوں کی حرمت کی حفاظت کرکے امر ہوگئے۔ جب مسلمان اپنی تاریخ سے روگردانی کرنے لگے تو ان میں ایسی مائوں کا فقدان ہوگیا جنہوں نے، محمد بن قاسم، طارق بن زیاد، عمربن عبدالعزیز، معتصم باللہ، سلطان محمد فاتح، سلطان صلاح الدین ایوبی، محمود غزنوی اور ٹیپو سلطان جیسے جرات مند، نڈر اور عادل حکمرانوں کو جنم دیا تھا اور اسلامی تاریخ میں ایک ایسا حکمران برسر اقتدار آگیا جس نے چند روزہ حکمرانی اور ٹکوں کے لالچ میں مسلمانوں کی تاریخ پر ’’بیٹی فروشی‘‘ کا شرمناک دھبہ لگا دیا جسے مٹانے کے لیے عافیہ موومنٹ ملکی اور عالمی سطح پر عافیہ کی وطن واپسی کے لیے 15 سال سے جدوجہد کررہی ہے تاکہ مستقبل کا مورخ ہمیں ’’بیٹی فروش‘‘ قوم کے طور پر یاد نہ کرے مگر افسوس کہ دینی حمیت، قومی غیرت اور سیاسی جرات سے عاری 9 وزرائے اعظم گزرگئے۔