October 14th, 2019 (1441صفر14)

عافیہ کے لیے بھی ہمت پیدا کریں

اسلام آباد ہائی کورٹ نے وفاقی دارالحکومت کی پولیس کی جانب سے امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کے اہلکاروں کے خلاف درج مقدمے کے اخراج کو کالعدم قرار دیتے ہوے اسے بحال کرنے کا حکم دیا ہے۔ جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے 2009ء میں میر علی میں ہونے والے ڈرون حملے کے حوالے سے سی آئی اے اسٹیشن چیف جان ریزرو اور قانونی مشیر جوناتھن بیکن کے خلاف ایف آئی آر عمل در آمد کیس کے دوران یہ ریمارکس دیے۔ انہوں نے کہاکہ اگر ایمل کاسی کو یہاں سے امریکا لے جایا جاسکتا ہے تو سی آئی اے چیف کو یہاں کیوں نہیں لایا جاسکتا۔ انہوں نے ایس ایچ او سے استفسار کیا کہ ایف آئی آر درج کرکے واپس کیوں لی تو اس نے غیر مشروط معافی مانگ لی۔ یعنی کچھ بھی کرکے غیر مشروط معافی مانگی جاسکتی ہے۔ ڈی آئی جی نے بھی عجیب منطق پیش کی کہ جائے وقوع کی حدود متنازع ہیں۔ جس پر جسٹس شوکت عزیز نے اس کی سرزنش کی اور توجہ دلائی کہ سی آئی اے اسٹیشن چیف نے اسلام آباد میں بیٹھ کر سازش کی اس لیے ایف آئی آر کی حدود بھی یہاں کی بنتی ہیں۔ جسٹس شوکت نے دلچسپ استفسارات کیے ہیں لیکن اس میں عوام کی جانب سے بھی کئی استفسارات سامنے آئے ہیں اب جب کہ انہوں نے خارج شدہ مقدمہ بحال کردیا ہے تو لگے ہاتھوں پاکستانی قوم کی بیٹی عافیہ صدیقی کا مقدمہ بھی سندھ ہائی کورٹ سے اسلام آباد ہائی کورٹ منتقل کروالیں عافیہ کے لیے تو لاکھوں پاکستانی بھی دستخط کرچکے اور اپیل دائر کرچکے ہیں۔ عافیہ کو بھی تو پاکستان سے امریکا کے حوالے کیا گیا تھا۔ ایمل کاسی کا معاملہ تھوڑا مختلف ہے۔ ایمل پر امریکا میں ایک واردات کا الزام تھا جب کہ عافیہ کو اغوا کرکے افغانستان پہنچایا گیا پھر اسے زخمی کرکے امریکا لے جایا گیا جہاں اس کے اغوا کے کئی سال بعد اس پر جعلی مقدمہ بنایاگیا اور وہ مقدمہ امریکی عدالت میں بھی ثابت نہیں ہوسکا پھر بھی اسے 86 برس کی سزا سنادی گئی۔ جسٹس شوکت عزیز سی آئی اے اسٹیشن چیف کے خلاف مقدمہ بحال کرنے کا حکم دے رہے ہیں ایمل کاسی کو حوالے کرنے اور سی آئی اے چیف کی طلبی کا موازنہ کررہے ہیں تو یہ مطالبہ خود بخود سامنے آئے گا کہ عافیہ کے حوالے سے بھی حکم جاری کردیں۔ انہوں نے حدود کے حوالے سے جو ریمارکس دیے وہ عافیہ کیس کے حوالے سے بھی اہم ہیں۔ اس لیے کہ عافیہ کے اغوا کی رپورٹ 2003 کی ہے۔ اسے امریکا کے حوالے 5 سال بعد کیا گیا اس کے خلاف مقدمہ افغانستان کے واقعے کا ہے تو امریکا میں مقدمہ چل ہی نہیں سکتا تھا۔ اس حوالے سے سابق چیف جسٹس مرحوم جسٹس سعید الزماں صدیقی کی بھی یہی رائے تھی کہ یہ مقدمہ امریکا میں غیر قانونی تھا۔ جسٹس شوکت کی یہ بات بھی معنی خیز ہے کہ اپنی ایجنسیوں پر تو ہم تنقید کرتے رہتے ہیں لیکن سی آئی اے اور بلیک واٹر کے خلاف ہمت نہیں ہے۔ انہوں نے ہمت کی انہیں اس کی جزا ملے گی لیکن اپنی ایجنسیوں کے قبضے میں موجود ہزاروں شہریوں کی بازیابی کے لیے بھی احکامات جاری کریں اور عافیہ صدیقی کے حوالے سے بھی۔ پاکستانی قوم نے بہت سے ایسے معاملات دیکھے ہیں جن میں آج ایک مسئلہ عروج پر ہوتا ہے لیکن کل وہ بات کوئی کر ہی نہیں رہا ہوتا۔ ایسا لگتا ہے کہ ایسی کوئی بات کبھی ہوئی ہی نہیں تھی۔ اس بات کا خدشہ اس معاملے میں بھی ہے ابھی امریکا سے تعلقات میں کشیدگی ہے اس لیے تمام ادارے اور سیاسی و غیر سیاسی لوگ امریکا کے خلاف باتیں کررہے ہیں اگر تعلقات معمول پر آنے لگے یا اس قسم کی دھمکیاں کام کر گئیں تو پھر یہ مقدمات دوبارہ داخل دفتر کردیے جائیں گے۔ ویسے سی آئی اے چیف تو پاکستانی حکمرانوں کے لیے بڑی بات ہوگی پہلے چھوٹے چھوٹے کام کرلیں پھر اتنی بڑی بات کہنے کی ہمت پیدا کریں۔ اگر تاریخی حوالوں سے دیکھا جائے تو پاکستان سی آئی اے چیف کو نہیں لاسکتا کیونکہ ہم کشمیر پر بھارت کو قبضہ کرنے دے سکتے ہیں لیکن واپس نہیں لے سکتے۔ حیدرآباد دکن، جونا گڑھ اور مناوادر بھی نہیں لے سکتے بلکہ ان پر تو دعویٰ بھی نہیں کرتے۔ ہم 1971 میں بھارت کے سامنے ہتھیار ڈال سکتے ہیں جنرل نیازی کا دیا ہوا پستول واپس نہیں لاسکتے۔ قوم کو یہ سانحہ بھلانے کے لیے کچھ بھی کرسکتے ہیں لیکن بدلہ نہیں لے سکتے۔ سیاچن چھوڑسکتے ہیں، کارگل سے اترسکتے ہیں، بھارت کو دریاؤں پر 26 ڈیم بنانے کا موقع دے سکتے ہیں لیکن اپنا حق نہیں لے سکتے۔ تو پھر سی آئی اے چیف ۔۔۔چھوڑیں کوئی اور بات کریں اتنا دم نہیں ہے بس عافیہ کی واپسی کے لیے سب مل کر ہمت پیدا کرلیں عافیہ کو لے آئیں۔

بشکریہ جسارت