December 8th, 2019 (1441ربيع الثاني10)

عافیہ صدیقی ۔۔۔ غیرت و حمیت پر سوالیہ نشان

صائمہ تسمیر

چشم فلک نے یہ کیسا منظر دیکھا کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کہلائے جانے والے وطن عزیز میں ایک نہتی، بے بس اور معصوم عورت کو، تین بچوں سمیت دن دہاڑے اغواء کرلیتے ہیں۔ ستم یہ کہ محض اغواء نہیں کرتے، بلکہ امریکی ایجنسی ایف بی آئی کے حوالے کردیا جاتا ہے۔ صرف یہی نہیں، بلکہ اہل خانہ کو لب سیے رکھنے کا حکم نامہ بھی جاری کیا جاتا ہے۔ بصورت دیگر خطرناک نتائج کی دھمکی دی جاتی ہے۔
30 مارچ 2003 کو اغواء ہونے والی عافیہ صدیقی کے لواحقین، 5سال تک لاعلمی کے کرب میں مبتلا رہتے ہیں۔
جب کوئی اپنا خالق حقیقی سے جا ملے، تو کسی نہ کسی صورت دل بیقرار کو قرار آہی جاتا ہے، مگر کسی عزیز کے لاپتا ہونے کا غم، ناسور بن کر ڈستا ہی رہتا ہے۔ یوں ہی عصمت صدیقی بھی عافیہ کے غم میں گھلتی جارہی تھیں کہ اللہ کی رحمت متوجہ ہوتی ہے اور 6جولائی 2008 کو صحافی یوان ریڈلے، اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے، انکشاف کرتی ہیں کہ ’’کابل کے قریب بگرام ائر بیس پر، ایک پاکستانی خاتون بغیر کسی جرم کے، چار سال سے مردوں کی جیل میں قید ہے۔ قیدی نمبر 650 کی بیرک سے بلند ہوتی صدائیں، بگرام جیل کو ہلا ڈالتی ہیں۔ اسے بدترین تشدد کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ اذیت و تشدد کی وجہ سے وہ مسلمان عورت ذہنی توازن کھو بیٹھی ہے اور کوئی اس کا پرسان حال نہیں‘‘۔
آہ ۔۔۔!!
ہم تو ماؤں بہنوں کی عزت کے محافظ قوم تھے۔ ان کی ایک پکار پر لبیک کہہ کر، ان کی عصمت و عفت کی حفاظت کرنا ہمارا شیوہ رہا ہے۔ پھر یہ دختر فروشی کی کیسی رسم چل پڑی ہے؟؟ ہماری غیرت نے کیسے گوارا کر لیا کہ غیروں کی قید میں ہماری بہن کی حرمت روز پامال ہوتی رہے، اور ہم کان منہ لپیٹے سوئے پڑے رہے؟؟ اے میری بہنا ہم شرمندہ ہیں ۔۔۔ ہمارے سر جھکے ہوئے ہیں ندامت سے، شرمندگی سے۔۔۔!!
آگے چلتے ہیں۔ یوان ریڈلے کے انکشاف کے بعد بھی امریکی حکام لیت و لعل سے کام لیتے ہیں۔ عافیہ کو تحویل میں لینے سے مسلسل انکاری ہوتے ہیں۔ مگر ریڈلے کے صحافیانہ دلائل کے آگے بے بس ہوجاتے ہیں چنانچہ ایف بی آئی حکام 5اگست 2008کو عافیہ کو، نیویارک کی عدالت میں پیش کردیتے ہیں۔ جہاں اپنے ہی قانون کو پیروں تلے روندتے ہوئے، عافیہ کی برہنہ تلاشی لی جاتی ہے۔ عافیہ پر بگرام جیل میں، امریکی فوجیوں پر گولی چلانے کا الزام لگایا جاتا ہے۔ اس بے بنیاد الزام کے ٹھوس دلائل اور شواہد نہ ہونے کے باوجود، 4اپریل 2010 کو، امریکی عدالت انصاف، ناانصافی کی بدترین تاریخ رقم کرتے ہوئے، 86برس قید کی سزا سنا دیتی ہے۔ اس کے بعد سے آج تک، ناکردہ گناہوں کے پاداش میں، امریکی ٹارچر سیلوں میں، ہماری بہن پر، بے پناہ تشدد کیا جارہا ہے۔
امریکی عدالت انصاف کا یہ ظالمانہ فیصلہ جہاں ایک طرف حقوق نسواں، انصاف و مساوات کے علم برداروں کے دہرے معیار کو بے نقاب کرتا ہے، تو دوسری طرف یہ مسلم امہ و اہل پاکستان کی غیرت و حمیت پر بہت بڑا سوالیہ نشان بھی ہے۔ عافیہ تو ہر ہر قدم پر عزیمت و استقامت کا مظاہرہ کرکے، ربّ کائنات کے سامنے سرخرو ٹھیری۔ یقیناًربّ مہربان کی بہترین میزبانی عافیہ کی منتظر ہیں۔ مگر بروز حشر ہمارا شمار کن میں ہوگا۔۔۔؟؟ بحیثیت قوم ہم عافیہ کے مجرم ہیں۔
حکمراں طبقے کی اپنی صاحب زادی، غیر کی قید میں یوں ظلم سہہ رہی ہوتی، تو کیا وہ یونہی ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہتے۔۔۔؟؟ ہرگز نہیں بلکہ دن رات ایک کرکے، تمام اختیارات و وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے، اپنی لخت جگر کو آزاد کروا کر ہی دم لیتے۔ مگر عافیہ کے بارے میں ایسی فعالیت اور حساسیت کیوں مفقود ہے؟ کیوں حکمراں طبقہ جان بوجھ کر انجان و بیگانہ نظر آتے ہیں؟ کیا عافیہ اس قوم کی مایہ ناز و قابل فخر بیٹی نہیں؟؟
اے لیڈران وطن!! کچھ تو غیرت و حمیت کا مظاہرہ کیجیے۔ کچھ تو اپنے منصب کا حق ادا کیجیے۔ کیوں اتنی بے حسی ہے۔۔۔؟؟
ہم اپنے حصے کا کام کرتے رہیں گے۔ ہم دہائی دیتے رہیں گے، تاوقتیکہ کوئی ابن قاسم اٹھے اور اپنی بہن کو کفر کے زندانوں سے نکال لائے۔ ہم پرامید ہیں۔ ربّ کعبہ کی قسم ظلم کی یہ سیاہ رات ختم ہوکر رہے گی۔ ایک نہ ایک دن روشن صبح ضرورطلوع ہوگی۔
داستاں تیری گھر گھر سنائیں گے ہم
قوم سوئی ہے اس کو جگائیں گے ہم
دیکھنا ایک دن بدلے گا جغرافیہ ۔۔۔
استقامت کو تیری سلام عافیہ ۔۔۔