December 8th, 2019 (1441ربيع الثاني10)

عافیہ کے لیے وہ خبر نہ آئی جس کا انتظار تھا

غزالہ عزیز
خبروں میں تسلسل کے ساتھ حکومت کی مظلوم خواتین کی داد رسی کی خبریں آتی چلی جارہی تھیں۔ تشدد کا شکار طیبہ کا کیس تو چل ہی رہا تھا۔ حکومت کو بھولی بسری عابدہ کی یاد بھی آگئی۔ تشدد کا شکار اس بچی کا کیس کافی پرانا تھا۔ حکومت نے فائیلوں کی گرد جھاڑنے کا حکم دے دیا۔ پشاور کی سر جڑی لڑکیاں جو پچھلے دس روز سے یعنی اپنی پیدائش کے بعد سے ہسپتال میں داخل تھیں۔ فوری طور پر ان کو ملک سے باہر علاج کے لیے بھجوانے کا حکم دیا اور تو اور بے چاری شبنم جو ہسپتال کے باہر فٹ پاتھ پر بچی کو جنم دینے پر مجبور ہوگئی تھیں اس کو بھی فوری طور پر ہسپتال میں داخل کرنے کے لیے ایمبولینس بھیج دی گئی۔
لیکن وہ خبر نہ آئی کہ جس کا انتظار تھا یعنی یہ کہ وزیراعظم نے ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کے لیے اوباما کو خط لکھ دیا ہے۔ میں ٹی وی کھول کر انتظار میں بیٹھی تھی۔ لیکن بیٹھی ہی رہ گئی، نہ جانے میری طرح کتنے ہی لوگ مایوس ہوئے۔ خبر نہ آئی۔
ڈاکٹر عافیہ قوم کی مظلوم بیٹی، نواز شریف نے اُسے اپنی بیٹی کہا تھا۔ اپنے حکومت سنبھالتے ہی اس کی رہائی اپنا پہلا کام کہا تھا۔ ڈاکٹر عافیہ کی والدہ ڈاکٹر عصمت صدیقی کہتی ہیں کہ ’’نواز شریف نے میری بیٹی کو رہائی دلانے کا وعدہ کیا تھا‘‘ میرے خاندان اور میری بیٹی نے اپنا امتحان مکمل کرلیا ہے اب حکومت کا امتحان ہے۔
افسوس کے نواز حکومت کو اپنا وعدہ یاد ہے اور نہ اس امتحان میں کامیابی کی پروا ہے، وہ کچھ دوسرے ضروری کام نمٹا رہی ہے۔
وزیراعظم صاحب کو تاریخ کی پروا بھی نہیں ہے کہ وہ کیا لکھے گی۔۔۔ کہ پاکستانی قوم کی بیٹی عافیہ کی رہائی کے لیے پاکستان کے وزیراعظم کو امریکی اٹارنی مشورہ دے رہے تھے کہ وہ وقت ضائع نہ کریں اور یہ سنہری موقع ہے اگر وہ امریکی حکومت کو ایک خط لکھ دیں تو اُن کی قوم کی بیٹی آزاد ہو جائے گی۔
لیکن تاریخ یہ بتائے گی کہ پاکستانی وزیراعظم کے پاس ایک خط لکھنے کا وقت نہیں تھا۔۔۔ پانچ منٹ نہیں تھے۔۔۔ وہ انتہائی مصروف تھے۔۔۔ البتہ اس مصروفیات میں انہوں نے اتنا وقت ضرور نکال لیا کہ بھارتی فلموں کی کلیرنس کے لیے کمیٹی قائم کردی تا کہ بھارتی فلموں کو سینماؤں کی زینت بنانے میں دیر نہ ہو۔
قوم کی بیٹی عافیہ کی رہائی اتنا بڑا اور اہم مسئلہ نہیں۔۔۔ انہیں اگر اس کو نمٹانا ہے تو کسی ایسے وقت جب اُس کی رہائی اُن کے لیے منفعت بخش بھی ثابت ہو۔ یعنی انتخابات سے قبل تا کہ ووٹ حاصل ہوں۔
لیکن وہ بھول رہے ہیں انہوں نے 2010ء میں انتخابات سے قبل اپنی تقریروں میں ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کا وعدہ کیا تھا یہ وعدہ اُن کے منشور کا بھی حصہ تھا۔ اس وعدے کے عوض انہوں نے لاکھوں ووٹ بھی حاصل کیے تھے۔ لیکن اقتدار کے سال پر سال گزرتے رہے انہیں اپنا وعدہ یاد نہ آیا۔۔۔ اب انہیں یاد دلایا جارہا ہے۔ عافیہ کے اٹارنی مشورہ دے رہے ہیں کہ یہ سنہرا موقع ہے۔ عافیہ کی فائل رہائی کے حکم کے لیے صدر اوباما کی میز پر موجود ہے۔ محض اُن کا لکھا ایک خط ڈاکٹر عافیہ کو رہائی دلا دے گا۔ لیکن وزیراعظم کو نہ اپنا وعدہ یاد آرہا ہے نہ قوم کی آواز اُن تک پہنچ پا رہی ہے اور نہ اٹارنی جنرل کی یاد دہانی اُن پر اثر کررہی ہے۔
ایسا کیوں ہے کہ وزیراعظم صاحب کی یادداشت اپنی ہی قوم کے بارے میں بھلاوے کا شکار ہو جاتی ہے۔ انہیں بھارتی وزیراعظم مودی کی سالگرہ کا دن بھی یاد رہتا ہے اور انہیں مبارک باد دینا بھی یاد رہتا ہے۔ پھر انہیں ان کا ہی نہیں ان کی والدہ کا بھی دھیان رہتا ہے۔ سو ان کے لیے بھی تحائف بھیجے جاتے ہیں، نہیں یاد رہتا تو اپنی قوم سے کیے گئے وعدے یاد نہیں رہتے۔۔۔ کہ ایک خط لکھنے میں اس قدر ہچکچاہٹ ہے۔
کاش وہ یہ بات سمجھ لیں کہ انتخاب اور تجارت کی کامیابی اصل کامیابی نہیں، اور اقتدار کی جس بلندی پر وہ پہنچ چکے ہیں اس سے آگے کوئی اور بلندی نہیں، ہاں بس اوپر ہی جانے کا راستہ باقی بچا ہے۔ بھلا زندگی کے سات عشرے کم ہوتے ہیں؟؟؟ اب انہیں اور کتنی شہرت، مال اور اقتدار کی ضرورت ہے۔ چلیے مان لیا کہ اس سب کی خواہش انسان کی سانسوں میں بسی ہے کہ جب تک سانس ہے جب تک ہوس ہے۔۔۔ پھر ٹھیک ہے تو عافیہ کی رہائی کے وعدے کو ایفا کریں۔۔۔ شاید اُن کی مزید کی خواہش پوری ہو جائے۔۔۔!!