October 14th, 2019 (1441صفر14)

عافیہ صدیقی اور ایک خط کا سوال

عارف بہار

پچھلے چند روز سے پاکستان میں قید ڈاکٹرشکیل آفریدی کی رہائی کے بدلے امریکی قید میں ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے رہائی کی بات چیت کی خبریں سامنے آرہی ہیں۔ ڈاکٹر شکیل آفریدی اسامہ بن لادن اور ایبٹ آباد آپریشن کے معاملے میں قیدہیں اور کہا جاتا ہے کہ ڈاکٹر شکیل آفریدی کی پولیو مہم کے نتیجے میں ہی امریکا اسامہ بن لادن تک پہنچنے میں کامیاب ہوا تھا۔ اسی لیے امریکا کے لیے شکیل آفریدی کی اہمیت کا اندازہ لگانا چنداں مشکل نہیں۔ امریکا ہر قیمت پر شکیل آفریدی کو رہا کرکے عزت اورتکریم کے ساتھ لے جانا چاہتا ہے۔ ان کے خیال میں یہ وہی شخص ہے جس نے امریکا کے دشمنِ اول اسامہ بن لادن کو ڈھونڈ نکالنے میں سب سے ٹھوس تعاون کرکے ایک انہونی کو ممکن بنایا تھا۔ امریکی حکام ہر ملاقات میں پاکستان کے حکمرانوں سے خاموشی سے شکیل آفریدی کی رہائی کا مطالبہ کرتے رہے اب تو بات یہاں تک جا پہنچی تھی کہ امریکی کانگریس نے شکیل آفریدی کی رہائی کی قرارداد منظور کی۔ گویا کہ شکیل آفریدی کی رہائی کو امریکا نے عزت اور انا کا مسئلہ بنا رکھا ہے۔ وہ جس شخص کو ہیرو کی آنکھ سے دیکھ رہے ہیں پاکستان میں ولن بنا جیل کی تنہائیوں کا شکار ہے۔ آج امریکا اور پاکستان قدم قدم پر اسی نوع کے تضادات کی زد میں آکر ہر گزرتے دن کے ساتھ خرابی کی طرف جارہے ہیں۔ شکیل آفریدی کی طرح ڈاکٹر عافیہ کی رہائی بھی پاکستان میں قومی عزت اور انا کا معاملہ بن گیا ہے کیوں کہ پاکستان میں یہ رائے بہت مضبوط ہے کہ عافیہ پاکستان کی بیٹی ہے اور ان کی بے عزتی اور قید درحقیقت پاکستان کی قومی عزت اور غیرت پر برسنے والا مستقل اورمسلسل تازیانہ ہے۔ پاکستان میں ہمیشہ سے یہ سوچ موجود رہی ہے کہ شکیل آفریدی کے بدلے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کو یقینی بنانے کی کوشش کی جانی چاہیے گویا کہ پاکستان اور امریکا کو اپنی اپنی اناؤں کا تبادلہ کرکے اپنے تعلقات کی تاریخ کا ایک ناگوار باب ہمیشہ کے لیے بند کر دینا چاہیے۔ ا مریکی جیل میں قید زندہ لاش کی شکل میں 86سالہ قید پر مبنی زندگی کے دن گزارے والی ڈاکٹر عافیہ امریکی کی یونی پولر دنیا کا سب سے قبیح روپ ہیں۔ امریکا نے ایک جدید تعلیم یافتہ مسلم خاتون کو حیلوں بہانوں سے گرفتار کر کے افغانستان میں بگرام ائر بیس کے عقوبت خانے میں لے جا کر جس طرح غیر انسانی سلوک کا شکار بنایا، ان کے

 

معصوم بچے کو تشدد کرکے موت کے گھاٹ اُتارا گیا یہ روح فرسا کہانی مغرب کی جدیدیت، انسان دوستی، خواتین کے حقوق اور آزادیوں کے دعوؤں کا منہ چڑا تی ہے۔ یہ ایسی کہانی ہے جو آنے والے زمانوں میں یونی پولر دُنیا کی واحد طاقت کی سفاکی اور وحشت کی یادگار رہے گی۔ دنیا کو معلوم ہوگا کہ جب دُنیا قدرت کے قائم اور عطا کردہ حسن یعنی توازن سے ذراسی دیر کو بھی محروم ہو جاتی ہے تو کیسی قیامتیں اور مصیبتیں انسانیت کے گھر کی راہ دیکھ لیتی ہیں۔ اس لیے دُنیا کو اس کے قدرتی حسن

یعنی توازن پر قائم رہنا چاہیے۔ عدم تواز ن سے دُنیا میں واحد طاقتور خود کو ارضی دیوتا سمجھ کر انسانوں کو اپنی بندگی اور پرستش پر مجبور کرتا ہے۔ اسی روش اور رویے کو تاریخ میں فرعونیت کہا گیا ہے۔ عافیہ پاکستانی شہری ہیں۔ اس لحاظ پاکستان قوم اور حکومتوں کا فرض ہے کہ وہ ان کی رہائی کے لیے ہمہ وقت مصروف جدوجہد رہیں۔ امریکا میں ایک نئی حکومت تشکیل پا چکی ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ امریکا کے ایک منفر دقسم کے صدر ہیں۔ ان کا انتخاب بھی دنیا کے لیے ایک حیران کردینے والا واقعہ تھا۔ ان کی اس انفرادیت کی پٹاری سے کیا برآمد ہوتا ہے؟ اب دنیا کی نظریں اس بات پر لگی ہیں۔ باراک اوباما قصۂ پارینہ بن چکے ہیں مگر ابھی ان کے اقتدار کیآخری سانسیں چل رہی ہیں۔ ایسے میں ڈاکٹر عافیہ

 

کی رہائی کے لیے قائم تنظیم عافیہ موومنٹ کے میڈیا انفارمیشن سیل کی طرف سے ایک خبر جاری ہوئی ہے جس کے مطابق داکٹر عافیہ کے امریکی اٹارنی اسٹیفن ایف ڈاونز اور کیتھی مینلے نے حکومت پاکستان سے اپیل کی ہے کہ وہ عافیہ کی رہائی کے لیے امریکا کو باضابطہ خط لکھنے میں تاخیر کرکے رہائی کا تاریخی موقع نہ گنوائے۔ اب جب کہ شکیل آفریدی کی رہائی کے بدلے عافیہ صدیقی کی رہائی کی بات چل رہی ہے تو عافیہ کی رہائی میں دیر کرنا بہت غلط ہوگا۔ اگر پاکستان باضابطہ طور پر درخواست دے تو اوباما انتظامیہ مثبت جواب دینے کے تیار بیٹھی ہے۔ عافیہ صدیقی کے ان وکلا کے اس بیان کی ویڈیو کلپ سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہے۔ 2سال قبل بھی عافیہ صدیقی کے وکلا پاکستان آئے تھے اور انہوں نے مختلف تقریبات اور میڈیا کے سامنے دوٹوک انداز میں کہا تھا کہ حکومت پاکستان اگر امریکی انتظامیہ کے نام یک خط لکھے تو عافیہ کی رہائی کا معجزہ رونما ہوسکتا ہے۔ 2سال گزرنے کے بعد بھی عافیہ صدیقی کے وکلا ایک خط کا سوال اور مطالبہ کر رہے ہیں۔ نجانے حکومت کن مصلحتوں اور مجبوریوں کا شکار ہو کر عافیہ صدیقی کے لیے اتمام حجت کرنے سے گریزاں ہے حالاں کہ جہاں ان امریکی وکلا ء کی وڈیو کلپ سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہے وہیں۔ میاں نوازشریف کا ایک وعدہ بھی میڈیا میں زیر بحث ہے کہ جس میں انہوں نے عافیہ صدیقی کی والدہ سے ان کی بیٹی کو عزت کے ساتھ وطن واپس لانے کاکہا تھا۔ یہ وعدہ اس وقت ہوا تھا جب میاں نوازشریف وزیر اعظم نہیں تھے۔ وزیر اعظم بننے کے بعد وہ اپنے وعدے کو فراموش کربیٹھے نوبت یہاں تک جا پہنچی کہ ایک رسمی ساخط لکھنا بھی گوارا نہیں۔ امریکا سے ملنے والے عافیہ صدیقی کی رہائی کے اس اشارے اور پیدا ہونے والے امکان کے بعد ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کے لیے سستی اور کوتاہی ایک تاریخی غلطی ہوگی۔ وزیر اعظم کے خارجہ امور کے معاون خصوصی طارق فاطمی نے بھی شکیل آفریدی کی رہائی پر غور کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ جس کا مطلب ہے کہ درونِ خانہ پاکستان اور امریکا کے درمیان اپنے اپنے قیدیوں کی رہائی کے لیے ڈیل کی بات چل رہی ہے۔ اگر معاملہ محض ایک خط لکھنے کا ہے جس کا اظہار عافیہ صدیقی کے امریکی اٹارنی نے کیا تو اس میں تاخیر نہیں کی جانی چاہیے۔