December 8th, 2019 (1441ربيع الثاني10)

عافیہ کے لیے سب اپنے وعدے بھول گئے

میرافسرامان

مجھے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی والدہ محترمہ عصمت صدیقی صاحبہ کی طرف سے ایک درد بھرا خط ملا ہے۔یہ خط یقیناً دوسرے کالمسٹ حضرات کو بھی بھیجاگیا ہو گا۔ خواہش ہے کہ وہ بھی اپنی تحریروں میں پاکستان کی بیٹی مظلومہ امتِ مسلمہ ڈاکٹر عافیہ صدیقہ جس کو امریکا کے متعصب یہودی جج نے ناکردہ گناہوں کی پادائش میں86 سالہ قید سنائی تھی کی وطن واپسی کے لیے نوازشریف صاحب وزیر اعظم پاکستان زور ڈالیں۔ ان کو وہ وعدے یاد کرائیں جو انہوں نے اپنی الیکشن مہم کے دوران ڈاکٹر عافیہ کی وطن واپسی کے متعلق عوام سے کیے تھے اور الیکشن جیتنے اور پاکستان کے وزیر اعظم بننے کے بعد کراچی کے گورنر ہاؤس میں ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی والدہ صاحبہ اور اس کے بچوں سے کیے تھے۔ ا س خط کے مندرجات کے مطابق ڈاکٹر عافیہ کی ضعیف اوردکھیا والدہ صاحبہ نے حکمرانوں کے وعدے یا دکرائے ہیں کہ کس طرح ان حضرات نے ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کے لیے ان سے وعدے کیے تھے۔ اس معزز خاتون نے اپنی دُکھ بھری داستان میں سارے سیاست دانوں کے حوالے ہمیں اور پاکستانی عوام کو آگاہ کیا ہے کہ سیاست دان حضرات کس طرح مظلوم لوگوں سے وعدے کر کے بھول جاتے ہیں، مکر جاتے ہیں یا انہیں اپنی سیاست سے فرست نہیں ملتی کہ کسی مظلوم سے کیے گئے وعدے کو نبھائیں۔ وہ لکھتی ہیں عمران خان صاحب چیئرمین تحریک انصاف نے سب سے پہلے ڈاکٹر عافیہ کے ساتھ ہمدردی کرتے ہوئے اس کے مقدمے پر بات کی تھی اور کہا تھا کہ میں کوشش کروں گا کہ ڈاکٹر عافیہ کو واپس پاکستان لاؤں۔ مگر وہ اس وعدے کوپورا نہ کر سکے وہ اب پاناما لیکس کے لیے تو بڑی محنت کر رہے ہیں کہ کسی نہ کسی طرح نواز شریف کو سزا دلوا دیں مگر اپنے وعدے کو آج تک برقرار نہ رکھ سکے۔ اسی طرح پیپلز پارٹی نے پانچ سال حکومت میں گزار دیے مگر کچھ بھی نہیں کیا۔ پیپلز پارٹی کے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی صاحب نے بھی وعدہ کیا تھا کہ ڈاکٹر عافیہ کو میں واپس لاؤں گا۔ اسی پیپلز پارٹی کے دوسرے وزیر اعظم راجا پرویز اشرف صاحب نے بھی ایسے ہی وعدے کیے تھے مگر وہ بھی کچھ نہ کر سکے۔ پاکستان کے ہر مکتبہ فکر کے لوگوں نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کے لیے کوشش کی اور حکومت وقت کو بھی جھنجھوڑا مگر آج تک کسی حکومت نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو واپس پاکستان لانے کی سنجیدہ کو شش نہیں کی۔ اس میں شک نہیں کہ دیگر سیاسی اور مذہبی پارٹیوں نے ڈاکٹر عافیہ کوواپس لانے کے وعدے کیے مگر ان کو تو اقتدار ہی نہیں ملا کہ وہ اپنے وعدے کیسے پورے کرتے۔ ان پارٹیوں نے اپنے جلسوں، ریلیوں اور میٹنگوں میں ڈاکٹر عافیہ کا مقدمہ اچھے طریقے سے لڑا۔ ڈاکٹر عافیہ کی والدہ عصمت صدیقی کو شکوہ تو نواز شریف صاحب سے ہے، جو بجا بھی ہے کیوں کہ وہ حکمران ہیں۔ نواز شریف نے الیکشن مہم میں کئی جلسوں میں اعلانیہ کہا تھا کہ آپ مجھے ووٹ دیں، اگر میں کامیاب ہو گیا تو میں ڈاکٹر عافیہ کو امریکا سے ضرور واپس لاؤں گا۔ پھر جب وہ الیکشن جیت گئے پاکستان کے وزیر اعظم بھی بن گئے مگر ابھی تک اپنا وعدہ پورا نہیں کر سکے۔ عصمت صدیقی صاحبہ کے دُکھ بھرے فریادی خط کے مطابق نواز شریف صاحب وزیر اعظم بننے کے بعد کراچی تشریف لائے اور گورنر ہاؤس میں عصمت صدیقی صاحبہ اور ڈاکٹرعافیہ کے بچوں کو بلایا اور کہا کہ آپ میری والدہ ہیں میں آپ کا بچہ ہوں۔ اب میرے دکھ درد

کا وقت ختم ہو گیا ہے میں آپ کا بیٹا ہوتے ہوئے آپ سے وعدہ کرتا ہوں کہ میں ڈاکٹر عافیہ کو ضرور واپس پاکستان لاؤ ں گا۔ اب جس سے نواز شریف صاحب نے ماں ہونے کے ناتے وعدہ کیا وہ ماں آج نواز شریف سے فریادی ہے اور وہ نواز شریف کو وعدہ یاد کرا رہی ہے کہ اپنی ماں سے کیا گیا وعدہ پورا کرے۔ صاحبو! ڈاکٹر عافیہ کو دشمنِ پاکستان ڈکٹیٹر پرویز مشرف نے دوسرے مظلوم مسلمانوں کے ساتھ ڈالر کے عوض امریکا کو فروخت کیا تھا۔ اب مکافات عمل کے تحت ملک سے غداری اور قتل کے مقدموں میں پھنسا ہوا ہے۔ ملک سے فرار ہو چکا ہے۔ امریکی عدالت نے تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک نہتی عورت ڈاکٹر عافیہ کو86 سال قید تنہائی کی سزا سنائی تھی۔ عدالت کے مطابق، اس کا جرم یہ تھاکہ اس نے افغانستان کی قید کے دوران امریکی فوجیوں پر رائفل سے

حملہ کیا تھا مگر کوئی بھی فوجی ہلاک نہ ہی زخمی ہوا۔ البتہ فوجی کی جوابی فائرنگ سے ڈاکٹر عافیہ زخمی ہوئی۔ عدالت نے بہت زور لگایا تھا کہ وہ ڈاکٹر عافیہ کو القاعدہ کا دہشت گرد ثابت کرے مگر وہ ایسا نہ کر سکی تھی۔ پاکستان کے کچھ کالم نگار بھی معلومات کی کمی یا نادانستہ طورپر ڈاکٹر عافیہ کو دہشت گرد اور القاعدہ کی ممبر لکھتے رہے ہیں۔ اگر ایسا کوئی بھی ثبوت ہوتا تو امریکا کی عدالت ڈاکٹر عافیہ کو القاعدہ کی ممبر اور دہشت گردی میں سزا دیتی۔ صحیح بات تو یہ ہے کہ ڈاکٹر عافیہ اعلیٰ تعلیم یافتہ، اسلام کی بیٹی، اسلام کی مبلغ اور قرآن شریف کی حافظہ ہے۔ ڈاکٹر عافیہ کی بہن ڈاکٹر فوزیہ نے اپنی بہن کی رہائی کے لیے عافیہ موومنٹ بنائی۔ اس پلیٹ فارم سے وہ پاکستان کی ساری مذہبی اور سیاسی پارٹیوں سے رابطے کرتی رہی۔ ملک اور بیرونِ ملک عافیہ کی پاکستان واپسی کی مہم چلاتی رہی۔ سندھ ہائی کورٹ میں مقدمہ بھی دائر کیا۔ عدالت نے اپنے فیصلہ میں حکومت کو حکم دیا کہ وہ امریکا سے قیدیوں کے تبادلہ کا معاہدہ کر کے ڈاکٹر عافیہ کو پاکستان واپس لائے۔ قانون کے مطابق وہ اپنی سزا پاکستان میں پوری کرے۔ اسی فیصلہ کے تحت نواز شریف کے وزیر اعظم بننے کے بعد 28 اگست2013ء کو نواز حکومت کی کیبنٹ کی میٹنگ ہو رہی تھی تو ڈاکٹر فوزیہ نے اسلام آباد میں کئی دن گزار کر کیبنٹ کی میٹنگ کی سمری کے ایجنڈے میں سیریل نمبر 5 پر ڈاکٹر عافیہ کے کیس کو رکھوایا تھا۔ کیبنٹ میٹنگ نے اس کو پاس بھی کیا کہ امریکا کے ساتھ قیدیوں کے تبادلہ کا معاہدہ کیا جائے گا۔ فارن آفس کو اس کام پر بھی لگا دیا تھا مگر آج تک اس کیس کا کچھ بھی نہیں ہوا۔ ڈاکٹر فوزیہ اس کا نتیجہ حاصل کرنے کے لیے کوششیں کر کر کے تھک گئی مگر آج تک اس کا کچھ پتا نہیں چلا کہ فارن آفس نے کیا کیا؟ کیا امریکی پٹھو حکمران کوامریکا نے منع کر دیا؟ کیا امریکا کے پٹھو حکمران امریکا سے بات کرنے کی جرأت نہیں کر سکتے؟ کیا امریکا سے ڈالر حاصل کرنے کے علاوہ اورکچھ کام نہیں کر سکتے؟۔ صاحبو! اب ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کی ایک اور سبیل سامنے آئی ہے۔ وہ یہ کہ اب امریکا کا صدر اوباما نئے آنے والے صدر کو اختیار حوالے کرنے والا ہے۔ جانے والے صدر کو یہ اختیار حاصل ہے کہ جاتے جاتے وہ کسی بھی قیدی کی سزا معاف کر سکتا ہے۔ مگر اس کی شرط یہ ہے کہ پاکستان کا وزیر اعظم نواز شریف اوباما کو ایک خط میں ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کی درخواست کرے۔ اس لیے ڈاکٹر عافیہ کی والدہ صاحبہ نے نواز شریف کو الیکشن کے دوران کے وعدے اور خود ان سے کراچی کے گورنر ہاؤس میں کیے گئے وعدہ یاد دلایا ہے کہ امریکی صدر اوباما کو صرف ایک لکھ دیں کہ جاتے جاتے وہ ڈاکٹر عافیہ کو رہا کر دے۔ ذرائع تو یہ بھی کہتے ہیں کی کہ اگر اس کے عوض غدارِ وطن ڈاکٹر شکیل آفریدی جس کو امریکا اکثرمانگتا رہتا ہے دینا پڑتا ہے تو اس غدرِا وطن کو امریکا کے حوالے کر کے قوم کی بیٹی اور مظلومہِ اُمت ڈاکٹر عافیہ کی رہائی ہو سکتی ہے تو حکومت ایسا کر دے۔ اس لیے ہم کہتے ہیں کہ نواز شریف وزیراعظم پاکستان، 86 سالہ قیدی ڈاکٹرعافیہ کے لیے ایک خط ضرور لکھ دو۔