August 10th, 2020 (1441ذو الحجة20)

اب وہ شخص یہاں نہیں ملے گا

ڈاکٹر عبدالرحمن رانجھا

جماعت اسلامی صوبہ پنجاب کے امیر چار بار ایم پی اے منتخب ہونے والے.جماعت میں علم اور تقوی سادگی اور درویشی کے اعتبار سے ہر دلعزیز شخصیت ....ڈاکٹر سید وسیم اختر  رمضان کے اس جہنم سے آذادی دلانے والے مہینے میں ہمیں ہمیشہ ہمیش کے لئے چھوڑ کراس دنیائے فانی سے رخصت ہوے اورعید الفطر  اپنے رب کے ہاں جنت الفردوس میں  منانے کا شرف حاصل کرگئے -

ڈاکٹر صاحب بہت ہی شفیق انسان اور باعمل  مسلمان تھے   مجھے کئی بار ان کی میزبانی کا شرف حاصل ہوا.... وہ میرے بچوں سے بھی  بہت پیار کرتے تھے  میرے بیٹے یحییٰعلی کی وفات پر افسوس کرنے بہاولپور سے نہ صرف پھالیہ آئے  بلکہ میرے آبائی گاوں چوٹ خورد بھی پہنچے 
ڈاکٹر صاحب  ایم پی اے اور پارلیمانی لیڈر ہونے کے باجود اکثر عام ٹرانسپورٹ پر سفر کرتے تھے ایک بار لاہور میں چلنے والی لوکل ٹرانسپورٹ پر سوار کر اسمبلی  کے اجلاس میں جا رہے تھے گاڑی میں بیٹھنے کے سیٹ نہ تھی اور گاڑی چھوٹا ہونے کی وجہ سے سیدھا کھڑا بھی نہیں ہوا جارہا تھا رکوع  کےعالم میں  بھیڑ بکریوں کی طرح لدے انسانوں میں سفر کے دوران انہوں  نے کنڈیکٹر سے کہا کہ مجھے مال روڈ پر اسمبلی ہال کے بالکل سامنے اتارنا کنڈیکٹر نے بے پروائی سے کہا مولوی صاحب  آپ نے کون سا اسمبلی کا اجلاس اٹینڈ کرنا ہے تھوڑا آگے موڑ پر اتار دیں گے 
تو ڈاکٹر صاحب نے مسکراتے ہوے فرمایا  ہاں بھئی  میں نے اجلاس میں ہی جانا ہے میں ایم ایم پی اے ہوں اور ابھی جماعت اسلامی کی طرف سے بہاولپور میں  الیکشن  جیتا ہوں میرا نام ڈاکٹر سید وسیم اختر ہےگاڑی کے تمام مسافر اور ڈرائیور وکنڈیکٹر حیران رہ گئے...... 
ڈاکٹر صاحب  اپنے گھر کا سودا سلف خود لینے پیدل  جاتے  دکانداروں اور راستے میں آنے  جانے  والوں سے خیریت  معلوم کرتے  ....صبح کے وقت  دودھ  والی  بالٹیاٹھائے خود واک کرتے ہوے دودھ لینے جانا ان کا معمول  تھا اس طرح وہ راستے میں  سینکڑوں لوگوں سے ملاقات بھی کرتے اور ان کے مسائل بھی سنتے - 
جماعت اسلامی نے ایسی لیڈر شپ  تیار کی ہے کہ جن کی سادگیاور تقوی کو دیکھ کر قرون اولی کی یادیں تازہ ہوتی ہیں.... اللہ ڈاکٹر  صاحب کی مغفرت فرمائے اور انہیں جنت الفردوس میں بلند مقام عطاء فرمائے ----آمین