August 10th, 2020 (1441ذو الحجة20)

نوحے لکھنا بڑا آسان کام ہے

شازیہ عبدالقادر

"نوحے لکھنا بڑا آسان کام ہے"
جس کسی نے یہ کہا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلّم وفات پا چکے میں اس کی گردن اڑا دوں گا 
عمر رضی اللہ عنہ بے نیام تلوار لہرائے بپھرے ہوئے تھے کہ سب کو چپ لگ گئی
ایسے میں صدیق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھے 
فرمایا۔۔۔۔ جو کوئی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا خدا مانتا تھا وہ جان لے کہ وہ وفات پا چکے ہیں
اور جو کوئی اللہ پر ایمان لاتا تھا تو وہ جان لے کہ وہ ہمیشہ رہے گا اسے کبھی موت نہیں آئے گی۔۔
(مفہوم واقعہ)
ہمارا ایمان ہے جو دنیا میں آیا اسے ایک دن لوٹ کر جانا ہے
یہ طے ہے،کوئی ایک سانس زیادہ کم نہیں لے سکتا
دنیا ایک دار العمل ہے۔۔۔یہی کچھ کہتے کہتے ہم زندگی کے مختلف امتحانوں،درجوں اور راستوں سے گزرتے رہتے ہیں
نوحے لکھنے والی قوم کبھی ترقی نہیں کرسکتی
نوحے لکھنا چھوڑ کر دیکھئے
جس شان سے کوئی مقتل کو گیا وہ شان سلامت رہتی ہے 
اس جان کی کوئی بات نہیں یہ جان تو آنی جانی ہے
محترم سید وسیم اختر میرے سسرالی آبائی شہر سے تعلق رکھتے تھے۔بانی 5 ارکان میں ایک ہمارے نانا جان سید عبدالعزیز شرقی ملتان سے تھے اور ہندوستان سے ملی کلیم  جائیداد کا ایک حصہ ملتان جماعت کو دیا۔وہی جگہ سرور روڈ پر قائم دفتر جہاں محترم وسیم اختر صاحب بیٹھا کرتے تھے۔
وسیم اختر صاحب سے پہلی بار تعارف۔۔۔     2000 میں اپنی شادی کے موقع پر ان کا ہماری شادی میں شرکت نہ کرنے پر معذرت کا خط آنا تھا۔اور سسر ابو نے ان کا تفصیلی تعارف کروایا۔۔۔۔۔۔۔بعد ازاں گاہے بگاہے منصورہ میں ان کا نام ۔۔۔۔سننے میں آتا رہا۔۔۔مجھے آج بھی یاد ہے ایک رشتہ کے سلسلے میں جب شعبہ ہم سفر جماعت اسلامی کے تھرو جب سید وسیم اختر صاحب سے بات ہوئی تو رعب دار لہجہ سیدی کردار کی گواہی دے رہا تھا۔۔۔اور وہ کہہ رہے تھے کہ بھائی  ذیشان کی ایک جگہ بات تقریبا طے ہونے والی ہے قسمت لکھی ہوئی تو وہیں ہوگی ورنہ پھر ہمارے گھر کی خواتین آپکی سیّدہ بہن سے ضرور ملیں گی۔۔۔۔
مجھے وہ دن بھی نہیں بھولے گا جب میں نے ان کو پہلی بار دیکھا۔۔۔۔ سرخ سفید پٹھانی شکل کے سید ۔۔۔رعب چہرے کے روں روں سے ٹپک رہا تھا اور سید وسیم اختر صاحب تقریر کے عالم میں مجمع کو گرما رہے تھے 
اچھا تو یہ ہیں سید وسیم اختر صاحب!!!!!
مومنانہ شان انکی طبعیت سے چھلکتی تھی۔۔۔۔
جب نائب نظامت لاہور رہی تو بطور امیر صوبہ شوراوں،پروگراموں اور اجتماعات میں سننے کا موقع ملتا رہا۔۔۔۔
الیکشن 2013 کی بات ہے۔۔۔۔
"تحریک اسلامی کا آئندہ لائحہ عمل۔۔۔۔میری گاڑی کے ڈیش بورڈ پر رہتی ہے۔۔میں ریلیکس ہونے اسے پڑھتا ہوں۔۔۔۔ہر بار مجھے وہ رہنمائی دیتی ہے۔۔۔یر رکن ہر کارکن اس کتاب کو پڑھے کم از کم 5 بار ضرور پڑھے "
اور میرے جیسے کارکن نے یہ بات پلے سے باندھ لی ۔۔۔ خواتین نظم نے اس کو اپنے حلقے میں بھرپور عمل درآمد کروایا 
اس کے بہترین اثرات حلقہ خواتین کی افرادی قوت میں دیکھنے میں آئے۔۔۔صاف معلوم ہوتا کہ جماعت کی سمت سمجھنے والے نے تحریک اسلامی کا آئندہ لائحہ عمل گھول کر پی لی ہے
الیکشن میں حکمت عملی اختیار کر کے کسی طرح اسمبلی کا حصہ بنے
لوگوں نے کیچڑ اچھالنے میں کسر نہ چھوڑی۔۔۔۔ہم جانتے ہیں دشمنوں کی مخالفت ہماری پرواز اٹھاتی ہے جبکہ اپنی کمین گاہ سے آئے تیر انسان کو کمزور کردیتے ہیں
سید وسیم اختر صاحب نے وہاں بھی قدم ڈگمگانے نہ دئیے 
پھر ہم سننے لگے کہ پنجاب اسمبلی میں فلاں نکتہ اعتراض ایوان میں اٹھا رہے ہیں
اس ایشو پر صرف سید وسیم اختر صاحب نے قرارداد جمع کروائی ہے
اور تو اور پنجاب اسمبلی سے بہترین کارکردگی کا اعزاز حاصل کیا
~بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا

ہمارا اس پر بھی ایمان ہے کہ رہ خدا کے مسافروں کو اللہ کی راہ میں اٹھائی تکالیف لطف دیتی ہیں۔۔۔سید وسیم اختر حادثات کا شکار ہوئے۔۔،طویل بیماری کاٹی تو یہ ان کے حق میں حجت بنے گی ۔۔۔ان شاءاللہ
روئیں اور نوحے تو وہ کریں کہ جن کے لئے نہ دنیا میں کچھ رہے نہ خدا کے پاس کوئی حصہ ہو
ساری زندگی اقامت دین اور خدمت خلق میں گزارنے والے حیدری کردار ۔۔۔۔۔۔ میرے آپ کے لئے مشعل راہ ہیں۔۔۔۔ یہ وہ لوگ ہیں وہ حزب اللہ ہیں، وہ کارکن ہیں جو مولانا مودودی رحمۃ اللہ کی تیار کردہ پہلی نسل تھی۔۔۔۔
یہ ہمارے لئے ستارے ہیں
یہ ہمارے لئے نشان منزل ہیں
ہم لوگ بہت خوش قسمت ہیں جنہیں ایسے باعمل اور باکردار رہنما نصیب ہوئے کہ مذہبی سیاسی سماجی لیڈرشپ پر رہ کر انہوں نے اپنی زندگیاں اقامت دین کے لئے تیاگ دیں اور دامن پر کرپشن، اقربا پروری، سفارش کلچر اور کسی بدعنوانی، غیراخلاقی عمل کا ایک داغ نہ لگنے دیا
ہمیں رہنمائی دی۔۔۔مشکل خود پر برداشت کی ہمیں آسان راستے دئیے
کیا یہ کردار نوحے کے قابل ہیں؟؟؟ 
نہیں یہ کردار ہماری گردن فخر سے بلند کرنے لائق ہیں
دیکھو یہ شان ہے شھداء علی الناس کا فریضہ انجام دینے والوں کی
اس خاندان سے آبائی شہر کی مناسبت سے لیکر سید وسیم اختر صاحب کی چھوٹی بھابھی مسز ذیشان اختر سے چھ سالہ قریبی تعلق تک 
سب سے اہم چیز صرف تحریکی کردار ہے

اقامت دین کے رستے ہمیشہ کردار زندہ رہتے ہیں اور زندہ کرداروں کو کبھی مارا نہیں جاتا۔۔۔نوحے نہیں لکھے جاتے۔۔۔۔زندہ کردار زندہ قوموں کی امید صبح نو ہوتے ہیں
ڈاکٹر سید وسیم اختر ہمیشہ ہمارے درمیان زندہ رہیں گے ۔۔۔کم از کم جب تک میرے سرہانے ،میری سائیڈ ٹیبل اور میری الماری میں "تحریک اسلامی کا آئندہ لائحہ عمل " رکھی رہے گی جسے میں ڈاکٹر سید وسیم اختر کی طرح فریش ہونے پڑھا کروں گی تب تک تو لازماً۔۔۔۔۔ان شاءاللہ
4جون 2019