September 17th, 2019 (1441محرم17)

امریکاکی اگلی منزل … برما

 

 

 سمیع اللہ ملک 

گلوبل ویلیج کی اصطلاح بے معنی ہے۔ دنیا اب بھی اتنی وسیع ہے کہ بوسنیا کے قتل عام کی خبر مسلمانوں کو ملتے ملتے 2 برس لگ گئے۔ کشمیر کے حریت پسندوں سے واقفیت نصف صدی کے بعد ہوتی ہے اور اگر یہ کہا جائے کہ روہنگیا مسلمانوں پر بدترین مظالم ہو رہے ہیں تو لوگ حیرت سے پوچھتے ہیں کہ یہ اراکان یا راکھین کہاں ہے؟ روہنگیا کون ہیں؟
اراکان برما کا چودھواں اور ایک مسلم اکثریتی صوبہ ، اور مغربی ریاست ہے، جس کا رقبہ 51 ہزار 800 مربع کلومیٹر ہے۔ اس کی آبادی (2000ء میں) 40 لاکھ تھی۔ جس میں 80 فیصد مسلمان ہیں۔ 20 فیصد آبادی میں عیسائی، ہندو اور بدھ شامل ہیں۔ دارالحکومت ’اکیاب‘ ہے۔ یہ خطہ زراعت، قیمتی معدنیات، چاول اور مچھلی کی پیداوار کے لیے مشہور ہے۔ اراکان بندرگاہ بھی ہے لیکن اراکان کا برما سے براہ راست کوئی زمینی رابطہ نہیں ہے۔ اراکان کے مشرق میں برما اور کوہ ہمالیہ کی بلند چوٹیاں اسے مکمل طور پر برما سے جدا کرتی ہیں البتہ بنگلادیش اس کے مغرب میں واقع ہے اور اس کے ساتھ اراکان کی 176 میل طویل آبی اور زمینی سرحد ملتی ہے۔ برما 1948ء میں آزاد ہوا۔ اس سے قبل یہ ہندوستان کا حصہ تھا۔ اراکان کا قدیم نام ’روہنگ‘ تھااس لیے یہاں کے باسی روہنگیا کہلاتے ہیں۔ 1947ء کی جدوجہد آزادی میں انہوں نے حصہ لیا تھا لیکن ان کی قسمت بھی کشمیریوں جیسی تھی۔ یہاں اسلام عرب تاجروں کے ذریعے پہنچا۔ یہ آٹھویں صدی عیسوی کی بات ہے جب عرب تاجر پہلی مرتبہ یہاں پہنچے۔ اس کے بعد تیرھویں صدی عیسوی تک آتے آتے آسام سے ملایا تک جگہ جگہ مساجد بن چکی تھیں۔
1430ء میں اراکان میں ایک مسلم ریاست قائم ہوئی۔ اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ اراکان کا بدھ راجا مسلمان ہو گیا۔ اس کا اسلامی نام سلیمان شاہ تھا، اس نے بنگال کے گورنر ناصر الدین شاہ کی مدد سے مسلم مملکت اراکان قائم کی۔ یہ مسلم حکومت ساڑھے 300 سال تک قائم رہی اور 48 مسلمان حکمرانوں نے حکومت کی۔ اس وقت یہ برما(جس کا موجودہ نام میانمر ہے) سے الگ ایک خودمختار اور آزاد مسلم ریاست تھی۔ بعدازاں مسلمان اور بدھ کشمکش سے فائدہ اٹھاتے ہوئے برما کے راجا بودویمیہ نے 1784ء میں اراکان پر قبضہ کر لیا۔ 100 سال تک یہی صورتحال رہی۔ 1885ء میں برطانیہ نے برما پر قبضہ کر کے اسے ہندوستان کا حصہ بنا دیا۔
دوسری جنگ عظیم کے دوران برما پر جاپان قابض ہو گیا۔ اسی جنگ عظیم کے دوران 1942ء میں بدھوں کی انتہا پسند تنظیم ’تھاکن‘ نے منظم طریقے سے مسلم کش فسادات شروع کر دیے۔ یہ ایک خوفناک المیہ تھا، جس کی طرف جنگ عظیم کی وجہ سے کسی نے توجہ نہیں دی۔ اس قتل عام میں ایک لاکھ مسلمان موت کے گھاٹ اتار دیے گئے اور 5 لاکھ ہجرت پر مجبور ہوئے۔ بیشتر بنگال(موجودہ بنگلادیش) آگئے۔ برما کے مسلمانوں میں اس کا شدید ردعمل ہوا اور 10 مئی 1942ء میں برتھی، ڈونگ اور مونگڈو کے علاقوں میں مزاحمت کرکے مسلمانوں نے اپنی حکومت کا اعلان کردیا۔ یہ اراکان کی آزادی کی ایک کوشش تھی، جو اس وقت ناکام ہو گئی جب برطانیہ دوبارہ برما پر قابض ہو گیا۔
جب برصغیر کی تقسیم عمل میں آئی تو 1947ء میں پاکستان اور بھارت آزاد ہوئے اور 1948ء میں برما آزاد ہو گیا۔ شمالی اراکان کے برطانوی ایڈمنسٹریٹر نے جنگ عظیم دوم میں کامیابی کے بعد اور برصغیر کی آزادی کے اعلان سے قبل شمالی اراکان کے بعض اہلِ علم اور سیاسی شخصیات کو یہ پیشکش کی تھی کہ اگر وہ برطانوی حکومت کو شمالی اراکان کی علیحدگی کی درخواست کریں تو ان کی یہ درخواست قبول کر لی جائے گی، لیکن اراکان کے مسلمانوں نے ایسا کوئی باقاعدہ مطالبہ نہیں کیا۔ شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ 1947ء میں برما کے حوالے سے ایک قومی کانفرنس منعقد کی گئی تھی ، جس میں یہ طے پایا تھا کہ برما کا آزاد وفاق قائم کیا جائے گا اور 10 سال گزرنے کے بعد برما وفاق میں شامل ریاستوں کو برما کے ساتھ رہنے یا علیحدہ ہو جانے کا اختیار ہو گا۔
اراکان کے مسلمانوں نے سوچا ہوگا کہ 10 سال کا عرصہ تو کچھ نہیں ہوتا، ہم اس وقت علیحدگی کا فیصلہ کر لیں گے۔جس طرح ریڈ کلف باؤنڈری کمیشن نے پنجاب کی تقسیم میں بدمعاشی کی تھی اورکئی مسلم اکثریتی علاقے بھارت کو دے دیے تھے اور کشمیر کی ریاست کو ان کے عوام کی خواہش کے برخلاف بھارت کو دیا گیا اور نہرو نے وہاں ریفرنڈم کا وعدہ کیا لیکن 70 سال گزر گئے، کشمیری ابھی تک اپنی آزادی کے لیے کٹ مر رہے ہیں۔ اسی طرح برما کے صوبے اراکان کے مسلمانوں کے ساتھ ایسا خوفناک کھیل کھیلا گیا، جس کی تفصیلات رگوں میں خون جما دیتی ہیں۔
1948ء میں برما آزاد ہو گیا۔ نئی حکومت کو کسی اور صوبے یا ریاست سے خطرہ نہیں تھا مگر انہیں اراکان سے اس بات کا خطرہ تھا کہ 10 سال بعد کہیں یہ برما سے علیحدہ نہ ہو جائیں جیسا کہ قومی کانفرنس میں طے ہوا تھا۔ لہٰذا برما کی حکومت نے منصوبہ بندی کے تحت اراکان میں مسلمانوں کا تناسب کم کرنے کے لیے 2 کام کیے۔
1۔ برما کے دوسرے علاقوں سے امیر اور با اثر بدھوں کو اراکان میں زمینیں دے کر انہیں آباد کرنا شروع کیا۔
2۔ ان تمام باشندوں کو جو بنگال اور ہندوستان سے آکر برما میں آباد ہو گئے تھے، انہیں برما کی شہریت دینے سے انکار کر دیا گیا اور انہیں جبرا ًملک بدر کیا جانے لگا۔ لہٰذا آزادی کے ابتدائی چند برسوں میں ہی 30 ہزار مسلمان مشرقی پاکستان (موجودہ بنگلادیش )میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے۔
یہ بات یاد رہے کہ مغل بادشاہ اورنگزیب عالمگیر کے زمانے سے ہندوستان سے لوگ برما جاکر آباد ہونا شروع ہوگئے تھے، ان میں مسلمان بھی تھے اور ہندو بھی۔ پھر برطانوی دور میں بھی بہت بڑی تعداد میں ہندوستان خصوصا بنگال سے لوگ برما میں آباد ہوئے۔ یہ لوگ وہاں کی معیشت پر چھا گئے اور وہاں کے صاحب حیثیت لوگوں میں شمار ہونے لگے۔ 1880ء کے بعد سے ہندوستانیوں کی برما کی طرف بڑے پیمانے پر نقل مکانی ہونے لگی۔ یہ ہندوستانی زیادہ تر اراکان میں آباد ہوئے۔
1931ء کی مردم شماری کے مطابق برما کی کل آبادی ڈیڑھ کروڑ تھی، جس میں سے مسلمانوں کی آبادی پونے 6 لاکھ کے قریب تھی۔ ہندوستانی مسلمانوں کو برطانوی عہد میں وہاں اچھے عہدے ملے۔ ان میں سے بیشتر سرکاری ملازمتوں، بینکوں کی ملازمت اور تجارت میں نمایاں تھے۔ ایسے لوگ جو برسوں سے وہاں آباد تھے انہیں یہ کہنا کہ وہ برما کے شہری نہیں ہیں اور وہ ملک چھوڑ کر چلے جائیں، بڑی ناانصافی کی بات تھی۔ 1953ء میں برسراقتدار آنے والے وزیراعظم اونو نے انہیں شہریت کے حق سے محروم کر دیا جس نے بہت بڑے بحران کو جنم دیا۔ لوگوں نے برما سے دوسرے ملکوں کی طرف ہجرت شروع کردی، جو نہیں گئے انہیں جبرا ًنکالا گیا۔ 1956ء میں 39 ہزار مسلمانوں کو جبرا ًبرما سے نکال دیا گیا۔
ان حکومتی مظالم کے رد عمل میں مجاہدانہ سرگرمیوں کا آغاز ہوا۔ اس تحریک کا بانی قاسم نامی ایک ماہی گیر تھا۔ شمالی اراکان میں شروع ہونے والی اس تحریک کا مقصد پاکستان سے الحاق تھا۔ اس تحریک نے شمالی اراکان کے 80 فیصد حصے پر قبضہ کر لیا۔ یہ سرگرمیاں 8 سال جاری رہیں لیکن قاسم کی مشرقی پاکستان میں گرفتاری اور تحریک سے پاکستان کی عدم دلچسپی کی وجہ سے آزادی کی یہ تحریک دم توڑ گئی۔ پاکستان کی عدم دلچسپی کی وجہ پاک چین تعلقات کا تحفظ تھا۔ چین اور برما کے بہت اچھے تعلقات تھے اور پاکستان بھی خطے میں طاقت کے توازن کے لیے چین سے دوستی کو بہت اہمیت دیتا تھا۔
اراکان میں نسلی فسادات کی ایک لہر فروری 2001ء میں پھوٹ پڑی۔ یہ فسادات اراکان کے صوبائی صدر مقام ’اکیاب‘ میں ہوئے۔ بدھ مت کے پیرو کاروں نے برمی پولیس فورس اور فوج کی پشت پناہی میں 3 بڑے مسلم اکثریتی علاقوں اوہ منگلہ، ناظرپاڑا اور مولوی پاڑہ کو آگ لگا دی، جس میں ایک طرف املاک اور اثاثوں کو نقصان پہنچا تو دوسری طرف ڈیڑھ ہزار مسلمان مارے گئے۔ 150 عورتیں اغوا کر لی گئیں اور کالج کے تمام مسلمان طلبہ نامعلوم مقامات پر پہنچا دیے گئے۔ رائٹر نے 9 فروری کی رپورٹ میں بتایا کہ اکیاب میں 10 ہزار کے قریب مسلمان بے یارو مددگار کھلے آسمان تلے پڑے ہوئے ہیں، اسپتالوں کے سامنے 600 سے زائد مریض تشویشناک حالت میں پڑے ہیں، اسپتالوں میں ان کے لیے جگہ نہیں، بیرونی امداد کو متاثرین تک پہنچانے کے تمام راستوں پر سرکاری رکاوٹیں کھڑی کر دی گئیں، اغوا شدہ عورتوں اور غائب کیے جانے والے مسلم طلبہ کا کوئی سراغ نہیں ملا۔
عالم اسلام تک اپنی بے بسی کی خبر پہنچانے کے لیے برمی مسلمانوں کا ایک وفد پاکستان بھی آیا۔ انہوں نے بتایا کہ ’اکیاب‘ میں 4 سے 10 فروری تک مسلمانوں کا قتل عام کیا گیا اور 3 ہزار مسلمان شہید کر دیے گئے۔ وفد نے درخواست کی کہ اس مسئلے کو عالمی سطح پر اجاگر کیا جائے۔ اگر ان مسلمانوں کو فوری تحفظ فراہم نہیں کیا گیا تو اراکان(یعنی راکھائن)میں مسلمانوں کا نام ونشان مٹ جائے گا۔ برما کی سوشلسٹ حکومت اسی ایجنڈے پر کام کر رہی ہے۔
2009ء میں روہنگیا مسلمانوں کی حالت زار اور ان کی سمندری راستے سے ہجرت کو بڑے پیمانے پر میڈیا کوریج ملی۔ جس پر دباؤمیں آکر آسیان تنظیم نے اس مسئلے کو پہلی بار اٹھایا۔ آسیان ممالک کے اجلاس میں پالیسی بیان دیتے ہوئے میانمر کے وزیر خارجہ نے کہا کہ ہجرت کر کے جانے والے روہنگیا مسلمانوں کو صرف اس شرط پر واپس بلایا جا سکتا ہے کہ وہ اپنی شناخت بنگالی کے طور پر کریں۔ اس کے بعد اس معاملے پر عدم دلچسپی دیکھنے میں آئی اور معاملہ آگے نہ بڑھ سکا۔روہنگیا مسلمانوں کے مسئلے نے ایک بار پھر 2012ء میں شہ سرخیوں میں جگہ پائی۔ جب جون کے مہینے میں فسادات پھوٹ پڑے اور ملک کے دوسرے حصوں میں بھی پھیل گئے۔ مئی 2015ء میں اس مسئلے کو ایک بار پھر میڈیا کوریج بڑے پیمانے پر ملی جب اراکان کے ہجرت کرنے والے پناہ گزینوں کو بنگلادیش نے داخلے کی اجازت نہیں دی اور خلیج بنگال میں ایک خوفناک انسانی المیے نے جنم لیا۔ ذرائع ابلاغ کی جامع اور بھرپور کوریج (یہ کوریج امریکا اور مغربی ممالک میں کی جا رہی تھی) نے اس کثیر الجہتی اور پیچیدہ مسئلے کو دنیا بھر میں نمایاں کر دیا، جس پر برما کی حکمران جماعت یو ایس ڈی پی (یونین سولیڈیرٹی ڈویلپمنٹ اینڈ پارٹی) اور حزب اختلاف کی جماعت این ایل ڈی (نیشنل لیگ فار ڈیموکریسی) کو اپنے اپنے ردعمل دینے پر مجبور کر دیا۔ ایسے وقت میں جب خطے کے تمام ممالک نے ان تارکین وطن کو پناہ دینے سے انکار کر دیا تھا تو انڈونیشیا کے شہر آچے کے باشندوں نے سمندر میں پھنسے سیکڑوں تارکین وطن کو بحفاظت اپنے ساحل پر اتارا۔
بحران کے اسی سال آسیان تنظیم کے اجلاس کی میزبانی ملائیشیا کو کرنی تھی۔ ملائیشیا نے مرکزی اجلاس سے قبل اس مسئلے سے متاثرہ ممالک کا ایک اجلاس بلاا جس میں میانمر نے شرکت سے انکار کر دیا۔ جب حکومتیں اپنے مسائل کو درست طریقے سے حل نہیں کرتیں یا نہیں کر سکتیں تو پیدا ہونے والا خلا کوئی اور طاقت، کسی اور طرح سے پُر کرتی ہے، جو مسائل کو کم کرنے کے بجائے اس میں اضافے کا باعث بنتی ہیں۔ برما کے مسلمانوں کا مسئلہ شناخت کا مسئلہ تھا اور ہے۔ انہیں اس ملک کی شہریت نہیں دی جا رہی ہے جہاں وہ اور ان کے آبا ؤاجداد صدیوں سے آباد چلے آرہے ہیں۔ یہ ایک سماجی، سیاسی مسئلہ تھا جسے 50 سال سے مسلط وہاں کی فوجی حکومتوں نے حل نہیں کیا۔ لہٰذا اب مسئلے میں مذہب کا عنصر بھی شامل ہو گیا ہے اور معاشی عنصر بھی۔
اس بات کا جواز کسی طرح سے بھی نہیں دیا جا سکتا کہ ایک شخص جو میانمر کے صوبے راکھائن (یعنی اراکان )میں پیدا ہوا، اس کے باپ، دادا، پردادا، اور ان کے بھی بڑے وہیں پیدا ہوئے ہوں، اور ان سے کہا جائے کہ تم لوگ برمی یا روہنگیا نہیں بلکہ بنگالی مہاجر ہو لہٰذا تمہیں مستقل شہریت کے بجائے عارضی رہائش کے کارڈ جاری کیے جائیں گے اور ساتھ ہی یہ تشریح بھی کر دی جائے کہ عارضی کارڈ والوں کو سرکاری ملازمت، ورک پرمٹ بھی نہیں مل سکتا۔ میانمر حکومت نے اس مسئلے کو درست طریقے سے ہینڈل نہیں کیا، بہرحال اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ حقوق انسانی کا یہ معاملہ مذہبی رنگ اختیار کر گیا۔
بدھ مت، جو میانمر کا اکثریتی مذہب ہے (سرکاری نہیں)کے بارے میں عام خیال یہی ہے کہ اس مذہب کی تعلیمات میں عدم تشدد کا بنیادی اصول موجود ہے، مگر اس کے باوجود سری لنکا میں ان کی انتہا پسند کارروائیوں کی پوری تاریخ موجود ہے۔ 1958ء میں ایک بدھ راہب ہی تھا جس نے سری لنکا کے وزیراعظم ایس۔ ڈبلیو۔ آر۔ ڈی بندرانائیکے کو قتل کیا تھا۔ سری لنکا میں ان کی شدت پسند تنظیم بدھا بالا سینا BBS آج بھی طاقتور ہے۔ اس تنظیم کا بانی گنانا سارا تھیرو ایک بدھ راہب ہی تھا۔
راکھائن( اراکان)میں 969نامی بدھ تنظیم روہنگیا مسلمانوں کے خلاف پرتشدد کارروائیوں میں مصروف ہے۔ بوجوہ میانمر کی حکومت اور فوج اس تنظیم کی دہشتگرد کارروائیوں کی پشت پناہی کر رہی ہیں، جس کی وجہ سے مسلمانوں کا وہاں رہنا ناممکن بنا دیا گیا ہے۔میانمر کی موجودہ حکمران آنگ سان سوچی وہاں کی مقبول سیاست دان ہیں، انہوں نے فوجی حکومتوں کے خلاف طویل جدوجہد کی، اس لیے انہیں امن کا نوبل انعام دیا گیا، وہ طویل عرصے نظربند بھی رہیں ان کے برسراقتدار آنے پر یہ امید کی جارہی تھی کہ وہ رجسٹریشن کے معاملے کو سیاسی انداز میں حل کرنے کی کوشش کریں گی، لیکن فوج کے دباؤاور بدھ انتہا پسندوں کے دباؤ کی وجہ سے کچھ بھی نہیں ہوا۔ سوچی کو خوف ہے کہ اگر انہوں نے رجسٹریشن قانون میں نرمی کی تو ان کے بدھ ووٹ بینک پر اثر پڑے گا۔اس سارے معاملے کا سب سے افسوسناک پہلو یہ ہے کہ میانمر حکومت ہونے والے ظلم سے انکاری ہے۔ سوچی اور ان کی پوری وزارت خارجہ یہ بیانیہ تشکیل دے رہی ہے کہ ہم روہنگیا مسلمانوں پر ظلم نہیں کر رہے، بلکہ روہنگیا مجاہدین ہم پر ظلم کر رہے ہیں اور ساتھ ہی وہ اگست میں مسلمان عسکریت پسندوں کے اس حملے کا ذکر کرتے ہیں جس میں برمی پولیس والے مارے گئے تھے۔
قارئین! اگر آپ برما کے سفارتخانے کو بذریعہ ای۔میل اپنی تشویش سے آگاہ کریں گے تو وہ اگلے ہی دن آپ کو اپنا ڈرافٹ کردہ خط بھیج دیں گے، جس میں وہ آپ کو سمجھائیں گے کہ ظالم وہ نہیں، روہنگیا ہیں۔ یورپی میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے ان کے وزیر خارجہ نے پوری ڈھٹائی سے کہا کہ میانمر حکومت کسی جنگی جرائم کی مرتکب نہیں ہوئی نہ ہی برما میں نسل کشی جاری ہے۔ آدھے گھنٹے سے زائد کا یہ انٹرویو یو ٹیوب پر موجود ہے۔ یہ غالباTNTنیوز کی پیشکش تھی۔ جولائی 2013ء میں ٹائم میگزین نے سرورق پر بدھوں کے انتہا پسند مذہبی لیڈر دیراتو کی تصویر شائع کی تھی اور بدھ دہشت گردی کی کہانی بھی موجود ہے، لیکن میانمر حکومت کچھ تسلیم کرنے کو تیار نہیں۔اب سوال یہ ہے کہ کیا کیا جائے؟ اس کا جواب انتہائی مشکل ہے کیونکہ ایک فریق (یعنی میانمر حکومت) یہ مان ہی نہیں رہی ہے کہ وہ کچھ غلط کر رہی ہے۔
دوسرا فریق غریب ترین اور بے بس روہنگیا مسلمان ہیں، جو اس بری طرح سے تباہ کیے گئے ہیں کہ سمجھنے سمجھانے کی منزل سے گزر گئے ہیں۔ تیسرا فریق پڑوسی ممالک یعنی بنگلا دیش، تھائی لینڈ، انڈونیشیا اور ملائیشیاہیں۔ انہیں انسانی بنیادوں پر ان روہنگیا مہاجرین کو پناہ دینی چاہیے، جس کے اخراجات اقوام متحدہ برداشت کرے۔چوتھا فریق عالمی برادری ہے وہ تینوں فریقوں پر اخلاقی دباؤبڑھائے تاکہ کوئی مزید المیہ جنم نہ لینے پائے۔ پاکستان یہ کر سکتا ہے کہ چین کے ساتھ اچھے تعلقات کی بنا پر اس سے یہ درخواست کرے کہ وہ اس حوالے سے اپنا مثبت کردار ادا کرے۔ اگر چین نے ایسا نہیں کیا تو امریکا اس معاملے میں براہ راست مداخلت کر سکتا ہے، جیسی مداخلت اس نے عراق یا لیبیا میں کی تھی، اگر امریکا اس خطے میں آگیا تو بڑی خرابی ہو گی۔