November 16th, 2018 (1440ربيع الأول7)

روہنگیا مسلمانوں کے المیے کو نظر انداز نہ کریں

 

چند سال قبل تک ہم میں سے بہت سے لوگ یہ نہیں جانتے تھے کہ لفظ ’ روہنگیا‘ کا تلفظ کیا ہے اور اس کو کس طرح ادا کرنا ہے۔اب ہمیں یہ معلوم ہوچکا ہے کہ اس روئے زمین پر سب سے زیادہ مصائب اور اذیتوں سے دوچار اقلیت کس حال میں ہے؟
میانمر کی مسلم اقلیت کو طویل عرصے سے جن نا انصافیوں کا سامنا ہے،اب وہ میڈیا کی آئے دن کی شہ سرخیاں ہیں اور اس اسٹوری کو دفن کرنے کی تمام کوششوں کے باوجود روہنگیا کے مصائب ہمارے سامنے آن کھڑے ہوتے ہیں۔ وہ ہم سے ہمدردی اور بامقصد اقدام کا تقاضا کرتے ہیں۔
روہنگیا مسلمانوں کی کہانی سے میری دلچسپی برسوں پرانی ہے۔ تب میں جنوب مشرقی ایشیا میں رہتا ،کام کرتا اور اس خطے کے ممالک میں سفر کرتا رہتا تھا۔اسی زمانے میں ،میں نے یہ پریشان کن جملہ پہلی مرتبہ سنا تھا: ’ روہنگیا جنوب مشرقی ایشیا کے فلسطینی ہیں‘۔
ایک فلسطینی کے طور پر میرے لیے یہ الفاظ ہی کافی تھے۔ اگر روہنگیا کو درپیش مصائب اور ان سے انسانیت سوز سلوک کے بارے میں تفصیل کا فوری علم نہ بھی ہو تو یہ جملہ کافی تھا کیونکہ روہنگیا مسلمانوں کے خلاف بھرپور پروپیگنڈا بھی کیا گیا ہے جس کی وجہ سے انہیں مرکزی دھارے کے میڈیا میں کوریج نہیں ملتی رہی ہے۔
یہ تو بہت بعد میں انکشاف ہوا تھا کہ روہنگیا کے خلاف ریاستی جبر وتشدد کی کارروائیوں میں اسرائیل کا بھی ہاتھ کارفرما تھا اور وہ میانمر حکومت کی مدد کرتا رہا تھا۔ اسرائیل کی مہیا کردہ جنگی ٹیکنالوجی کا بے یارو مددگار روہنگیا کے خلاف بے دریغ استعمال کیا گیا ہے اور انہیں ایک کے بعد دوسری نسلی تطہیر کی مہم کا سامنا رہا ہے۔
اب روہنگیا کی الم ناک کہانی نسلی تطہیر ، قحط اور نسل کشی سے جڑی ہوئی ہے۔اب وقت آگیا ہے کہ الفاظ کو عملی جامہ پہنایا جائے کیونکہ اس مصائب زدہ اقلیت کے المیے کو صرف سوشل میڈیا پر غوغا آرائی تک محدود نہیں کیا جاسکتا۔ فیس بُک پر سارے کے سارے لائیکس اور جذباتی اظہاریے بھی ایک روہنگیا بچے ، ایک عورت یا ایک مرد کے مصائب کو کم کرسکتے ہیں اور نہ ان کے وقار کو بحال کرسکتے ہیں۔
اگرچہ حالیہ مہینوں کے دوران میں روہنگیا کی نسل کشی نے میڈیا میں بڑی توجہ حاصل کی ہے،مگر ایسا کوئی اشارہ نہیں ملا ہے کہ عالمی برادری بھی ان کے مصائب کو کم کرنے کے لیے کوئی بامقصد اقدام کرنے کو تیار ہے۔ چنانچہ ہزاروں ،لاکھوں روہنگیا مسلمان میانمر اور بنگلا دیش کے درمیان سرحد پر پھنس کر رہ گئے ہیں۔
اب یہ ہوا ہے کہ اقوام متحدہ کے اعلیٰ عہدے دار میانمر فوج ، سیکورٹی فورسز اور بدھ مت انتہا پسندوں کے روہنگیا مسلمانوں کے خلاف انسانیت سوز مظالم اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو بیان کرنے کے لیے ’ نسل کشی‘ کی اصطلاح استعمال کرنے لگے ہیں لیکن ابھی تک ان کی نسل کشی رکوانے کے لیے کوئی لائحہ عمل نظر نہیں آتا ہے۔
اگست 2017ء کے بعد سے صرف 6 ماہ میں تقریباً 6 لاکھ 55 ہزار روہنگیا مہاجرین میانمر فورسز کے مظالم سے تنگ آ کر اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور کر دیے گئے یا اہیں زبردستی ان کی بستیوں سے نکال باہر کیا گیا اور وہ جان بچا کر سرحد پار بنگلا دیش کے سرحدی اضلاع میں مہاجر کیمپوں میں رہ رہے ہیں۔میانمر کی فوج نے ریاست راکھین ( اراکان ) میں ان کے خلاف کارروائیوں کو ’ کلیریینس آپریشنز‘ کا نام دیا تھا لیکن یہ دراصل روہنگیا کی نسلی تطہیر ہے۔
فرانس میں قائم ڈاکٹروں کی بین الاقوامی تنظیم ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈرز نے حال ہی میں اپنی ایک رپورٹ میں روہنگیا کی نسل کشی کی مہم کے پہلے ایک ماہ کے دوران میں ہلاکتوں کی ہولناک تفصیل بیان کی ہے۔اس کے مطابق 25 اگست سے 24 ستمبر تک کم سے کم 9 ہزار روہنگیا مسلمانوں کو بے دردی سے قتل کردیا گیا تھا۔ان میں 5 سال سے کم عمر کے 730 بچے بھی شامل تھے۔
پناہ گزینوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم ریفیوجی انٹر نیشنل کے ایرک شوارز نے امریکی نیشنل پبلک ریڈیو کے ساتھ ایک انٹرویو میں اس کی تفصیل یوں بیان کی ہے: ’حالیہ یادداشت میں عظیم ترین جرائم میں سے ایک یہ ہے۔بڑے پیمانے پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں ،صرف چند ہی ہفتوں میں ہزاروں ، لاکھوں افراد کی جبری آبائی علاقوں سے بے دخلی‘۔ روہنگیا عورتوں کی اجتماعی عصمت ریزی کے متعدد واقعات ، اجتماعی قتل عام اور پورے پورے دیہات کو نذر آتش کیے جانے کی رپورٹس منظرعام پر آچکی ہیں۔ان ناقابل بیان مظالم کا سامنا کرنے کے لیے روہنگیا بالکل بے یارو مددگار اور بے آسرا تھے۔
ان کے مصائب کا سلسلہ رُکا نہیں اور ابھی جاری ہے، حال ہی میں میانمر کی حکومت اور بنگلا دیش کے درمیان روہنگیا مہاجرین کی واپسی کے لیے ایک سمجھوتا طے پایا ہے لیکن اس میں ان کے تحفظ کی کوئی ضمانت نہیں دی گئی کیونکہ روہنگیا کا میانمر میں شہریت کا حق سلب کیا جارہا ہے اور انہیں دوسرے قانونی حقوق سے بھی محروم کیا جارہا ہے۔اب ان کے لیے گھروں کو واپسی بھی اتنی ہی خطرناک ہوگی، جتنا وہاں سے فرار پُرخطر تھا۔
دراصل روہنگیا مہاجرین کی واپسی کا منصوبہ میانمر حکومت کے جرائم کو دھونے کی مہم کا ایک حصہ ہے اور یہ ایک طرح سے اس بحران کو مزید طول دینے کے بھی مترادف ہوگا۔ روہنگیا کو اگرچہ اس سفاکیت کا عشروں سے سامنا ہے۔ ان کے خلاف نسلی تطہیر کی نئی مہم کا 2012ء میں آغاز ہوا تھا جب ایک لاکھ سے زیادہ افراد کو ان کے دیہات اور قصبوں سے ریاستی طاقت کے بل پر بے گھر کر دیا گیا تھا اور انہیں جیل نما مہاجر کیمپوں میں ٹھونس دیا گیا تھا۔2013ء میں مزید ایک لاکھ 40 ہزار کو جبری طور پر بے گھر کردیا گیا تھا اور پھر یہ سلسلہ گزشتہ سال اگست تک اسی طرح جاری رہا تھا ۔ تب نسلی تطہیر کی اس مہم میں اور زیادہ شدت آگئی تھی اور میانمر کی سیکورٹی فورسز کی تمام شاخوں اور انتہا پسند بد ھ متوں کے جتھوں نے روہنگیا مسلمانوں کا قتل عام کیا، انہیں ان کے گھروں سے بے دخل کرنا شروع کردیا تھا اور نوبل امن انعام یافتہ آنگ سان سوچی سمیت حکومتی عہدے داروں نے ان تشدد آمیز کارروائیوں کا دفاع شروع کردیا تھا۔
آنگ سوچی کو مغربی میڈیا اور حکومتیں جمہوریت کی ایک علمبردار کے طور پر پیش کرتے رہے ہیں اور انہیں انسانی حقوق کی ہیروئین قرار دیا جاتا رہا ہے لیکن جونہی وہ گھر کی نظر بندی سے آزاد ہوئیں اور 2015ء میں میانمر کی لیڈر بن گئیں تو اہوں نے اپنی سابق مخالف فوجی جنتا کے لیے معذرت خواہانہ رویہ اختیار کر لیا۔ انہوں نے نہ صرف روہنگیا کے خلاف تشدد کی مذمت کرنے سے انکار کردیا بلکہ وہ روہنگیا کی اصطلاح استعمال کرنے سے ہی انکاری ہوگئیں۔
سوچی کو برمی فوج کے روہنگیا کے خلاف سفاکانہ تشدد کی حمایت پر کڑی تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے اور ان کی بالکل درست طور پر مذمت بھی کی گئی ہے۔ان سے اپیلوں پر ہی زوردیا گیا ہے لیکن ابھی تک ایشیائی لیڈروں یا عالمی برادری کی جانب سے میانمر کی فوج اور حکومت کے جرائم کے مقابلے کے لیے کوئی حکمتِ عملی وضع نہیں کی گئی ہے۔
اس کے بجائے ایک بین الاقوامی مشاورتی بورڈ قائم کردیا گیا ہے جو اقوام متحدہ کے سابق سیکرٹری جنرل کوفی عنان کی سربراہی میں ایک مشاورتی کونسل کی سفارشات پر عمل کرے گا۔ توقع کے عین مطابق اس بورڈ کی میانمر حکومت کے ایک آلہ کار کے سوا کچھ حیثیت نہیں ہے تاکہ فوج کے جرائم پر ملمع کاری کی جاسکے۔یہ درحقیقت امریکی کابینہ کے سابق رکن بل رچرڈسن کا ایک جائزہ تھا۔ اہوں نے حال ہی میں اس بورڈ کی رکنیت سے ا ستعفا دے دیا ہے۔
اہوں نے رائٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’ مشاورتی بورڈ سے میرے استعفے کی بڑی وجہ سفیدی کا

کام(وائٹ واش) ہے اور میں اس عمل کا حصہ نہیں بننا چاہتا ہوں‘۔ انہوں نے سوچی پر بھی یہ الزام عاید کیا تھا کہ وہ اخلاقی قیادت کی حامل نہیں ہیں لیکن سوچی کو تو ان کے اخلاقی احساسات سے زیادہ قابل احتساب گردانا جانا چاہیے۔ ان کی قائدانہ حیثیت کو دیکھتے ہوئے انہیں تو ان کی فوجی قیادت سمیت انسانیت کے خلاف جرائم کا براہِ راست ذمے دار قرار دیا جانا چاہیے۔
ہیومن رائٹس واچ کے فل رابرٹسن انسانی حقوق کے گروپوں کی نمائندہ آوازوں میں سے ایک ہیں ۔وہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے میانمر کا معاملہ ہیگ میں قائم عالمی فوجداری عدالت ( آئی سی سی) کو بھیجنے کا مطالبہ کررہے ہیں۔ میانمر نے اس عدالت کے قیام سے متعلق روم معاہدے پر دستخط نہیں کیے تھے لیکن ایسے ملک کا کیس اس طریقے سے ہی آئی سی سی کو بھیجا جاسکتا ہے۔یہ اقدام فوری طور پر کیا جانا چاہیے کیونکہ میانمر کی حکومت نے تو اب تک اپنے اقدامات پر کسی پچھتاوے یا پشیمانی کا کوئی اظہار نہیں کیا ہے۔رابرٹسن نے میانمر کے خلاف اہدافی پابندیاں عاید کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔اس سے ملک کی امیر طاقتور اشرافیہ کی توجہ حاصل ہوگی جو فوج اور حکومت پر حکمرانی کررہی ہے۔
حالیہ برسوں کے دوران میں میانمر نے امریکا اور مغربی طاقتوں کی مدد سے غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے اپنی معیشت کے دروازے کھول دیے ہیں۔اس کے بعد سے اربوں امریکی ڈالرز اس ملک میں براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری کی شکل میں آ چکے ہیں اور 2018ء میں مزید 6 ارب ڈالرز کی سرمایہ کاری متوقع ہے۔یہ بھی ایک طرح سے ایشیا کے بہت سے ممالک ، مغرب اور باقی دنیا کی ایک ناکامی ہے۔
میانمر کو اس کے مظالم کا بھاری غیرملکی سرمایہ کاری کی شکل میں یوں صلہ نہیں دیا جانا چاہیے جبکہ اس نے پورے پورے دیہات کو اجاڑ دیا ہے،ان کے مکینوں کو تہ تیغ کیا ہے یا انہیں مہاجرت کی زندگی اختیار کرنے پر مجبور کردیا ہے۔
حکومت اور فوج (عوام نہیں) پر پابندیوں یا آنگ سان سوچی سمیت میانمر کی قیادت کے خلاف آئی سی سی میں قانونی کارروائی کے بغیر روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی کو نہیں روکا جاسکتا اور یہ بلا روک ٹوک اسی طرح جاری رہے گی۔

                                                                             رَمزی بارود