August 26th, 2019 (1440ذو الحجة24)

روہنگیا مسلمانوں کی حالت ِ زار

 

عبدالشکور

بنگلہ دیش میں برما سے ہجرت کرکے آنے والے روہنگیا مسلمانوں کی حالتِ زار جاننے، اور امدادی سرگرمیوں میں حصہ لینے کے لیے ۹سے ۱۱ستمبرکے دوران بنگلہ دیش جانا ہوا۔  ۷۲گھنٹے میں نے ان علاقوں میں گزارے جہاں روہنگین مسلمانوں آکر رُکے ہوئے ہیں۔ جب ہم وہاں پہنچے تو دیکھا کہ ابھی تک کافی بڑی تعداد میں ان خانماں برباد مظلوموں کے قافلے سمندری اور دریائی پانیوں اور دلدلوں کو پار کرکے بے سروسامانی اور بڑی ہی قابلِ رحم حالت میں چلے آرہے تھے۔ ان کے چہرے کیچڑ سے اَٹے ہوئے تھے۔ کسی نے اپنے والد کو اٹھایا ہوا تھا تو کسی نے والدہ کو۔ اس کے علاوہ چھوٹے چھوٹے نومولود بچے بھی ان کے ساتھ ہیں۔ یاد رہے کہ اس علاقے میں بارشیں بہت ہوتی ہیں اور وہ سبھی کھلے آسمان تلے سڑکوں پر رہنے پر مجبور ہیں۔
اس کیفیت کے باوجود دو چیزیں بنگلہ دیش میں ہوئیں۔ بنگلہ دیش حکومت کا پہلا رد عمل یہ تھا کہ ہم ان کو قبول ہی نہیں کرتے، ان کو واپس دھکیلا جائے۔ ظاہر ہے اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کو دھکیلنا ممکن نہیں ہوتا۔ لیکن اس نازک موڑ پر جو کردار جمہوریہ ترکی کی طیب اردگان حکومت نے اداکیا ہے، وہ حددرجہ لائقِ تحسین ہے ۔ انھوں نے روہنگیا مہاجرین کی آبادکاری کے لیے بنگلہ دیش حکومت کو ہر طرح کے مالی تعاون کی مکمل یقین دہانی کرائی ہے۔اسی لیے بنگلہ دیشی وزیراعظم حسینہ واجد نے وہاں کا دورہ بھی کیا اور اس حوالے سے کافی حوصلہ افزا بیانات دیے۔ جس سے اب وہاں کچھ بہتری آنے کا امکان پیدا ہوگیا ہے۔ ملکی و بین الاقوامی این جی او ز یا رفاہی تنظیمیں وہاں پہنچ رہی ہیں۔ الخدمت پاکستان نے یہ طے کیا کہ ہم مقامی رفاہی تنظیموں کے ساتھ تعاون کریں گے، جو ان کے حالات سے واقف ہیں اور مقامی طور پر ا ن کی بہتر انداز سے مدد کرسکتے ہیں۔
چار میدانِ کار ہماری توجہ کا ہدف ہیں۔ پہلا ہدف یہ ہے کہ ان کو کھانے اور ادویات کی فراہمی۔ دوسرا سینی ٹیشن (حوائج ضروریہ) کے لیے انتظام ہے۔ جہاں لاکھوں لوگ ایک چھوٹے سے علاقے میں آکر ڈیرہ لگا لیں تو وہاں خواتین، بچوں اور مردوں کی ان ضرورتوں کو پورا کرنا سخت مشکل ہوتا ہے۔ اس کے لیے ہم نے مقامی مددگاروں کے ساتھ مل کر منصوبہ بندی کی ہے۔ تیسرا پہلو ان کے لیے چھت اور سایے کابندوبست کرنا ہے، تاکہ بارش کے دوران ان لوگوں کے پاس سر چھپانے کے لیے کوئی جگہ موجود ہو۔اور چوتھا میدان ہے پینے کے صاف پانی کی فراہمی۔ اگر یہ کام نہ ہوئے تو اگلے چند ہفتوں میں وہ وبائیں پھیلیں گی کہ لوگوں کو سنبھالنا بڑا مشکل ہوجائے گا۔ ہم انھی چاروں میدانوں میں مقامی رفاہی تنظیموں کے ساتھ مل کر کام کررہے ہیں۔ ان تنظیموں میں بنگلہ دیش کے مقامی باشندے شامل ہیں۔
جہاں تک میانمار کا معاملہ ہے ، تو وہاں نہ کسی این جی او کا جانا ممکن ہے اور نہ کسی این جی او کا وہاں سے آنا ممکن ہے۔ وہ ایک مکمل فوجی انتظام میں گھرا علاقہ ہے۔یورپ کی جن دوچار این جی اوز نے میانمار میں کام کرنے کی اجازت لی ہوئی تھی، ان کو بھی نکا ل دیا گیا ہے۔
بنگلہ دیش میں ترکی ، ملایشیا، انڈونیشیا اور سری لنکا کی رفاہی تنظیمیں ہاتھ بٹا رہی ہیں۔ تاہم، پاکستان کے بارے میں بنگلہ دیش میں احتیاط پائی جاتی ہے کہ ان کی آمد سے ملک میں پتا نہیں  کیا ہوجائے گا۔ اس لیے اسلام آباد سے ویزہ ملنا مشکل ہے۔ برطانیہ ،امریکا اور یورپ میں رہنے والوں کے لیے آسانی ہے کہ ان کو ایئرپورٹ پر بھی ویزہ مل جاتا ہے۔
ہم انڈونیشیا کی ایک تنظیم کے ساتھ مل کر ضروریاتِ زندگی کی فراہمی کا کام کررہے ہیں۔ پہلے ان کے ساتھ مل کر میانمار کے اندر بھی کام کررہے تھے، لیکن اب یہ ممکن نہیں رہا۔ اسی طرح ملایشیا کی تنظیم بھی ہماری معاون ہے۔ برطانیہ اور ناروے کی تنظیمات رابطے میں ہیں۔ ترکی کی سب سے بڑی رفاہی آرگنائزیشن آئی ایچ ایچ [انسانی یاردم]ہے، جو فلسطین میں فلوٹیلا لے کر گئی تھی اورپیشہ ورانہ بنیادوں پر بہت اچھا کام کر رہی ہے۔اس کے علاوہ ’حیرات‘ اور ’جانسیو‘ کے پاس تو باقاعدہ لائسنس تھا، حتیٰ کہ میانمارکے اندر بھی ان کے دفاتر تھے، لیکن اب ان پر پابندی عائد کرکے انھیں وہاں سے نکال دیا گیا ہے۔ اب وہ کاکسز بازار (بنگلہ دیش) میں کیمپ لگاکر کام کر رہی ہیں۔   اسی طرح ترکی کی ’ٹیکا‘ بھی ایک بڑی تنظیم ہے، جسے سرکاری سرپرستی حاصل ہے۔ یہ صدر طیب اردگان کی اہلیہ کے ساتھ گئے تھے۔ ان تمام تنظیموں کے ساتھ ہمارے قریبی رابطے ہیں۔
مقامی لوگوں سے بھی ہماری بات ہوئی، جنھوں نے بتایا کہ ہم  نے بنگلہ دیش کے اندر مہم چلائی ہے اور اس وقت تک اس مد میں کثیر رقم جمع کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ ان مسلمان بھائیوں کی مدد کے لیے بنگلہ دیش کے اندر ہمدردی کی ایک لہر ہے۔ ایک طرف عالمی سطح پر اُٹھنے والے ردعمل نے حکومت پر دباؤڈالا ہے تو دوسری طرف مقامی آبادیوں میں بھی اس پر اچھا ردعمل موجود ہے۔ واپسی پر جہاز میں کچھ کاروباری حضرات سے ملنے کا اتفاق ہوا۔ یہ جان کر خوشی ہوئی کہ وہ اپنے اپنے کام چھوڑ کر اس علاقے میں شیلٹرز بنوانے اور باقی امدادی سرگرمیوں میں حصہ لینے گئے ہوئے تھے۔ بنگلہ دیش کی مقامی مسلم آبادی اس مسئلے کو نظر انداز نہیں کرسکتی کہ ان کی سرزمین پر ان کے بھائی آئے ہوں اور وہ ان کی مدد کو نہ نکلیں۔
آج کی دنیا میں سوشل میڈیا ایک ایسا ذریعہ ہے جس پر کسی کا کنٹرول نہیں۔ چند تصویریں جو پرانی تھیں یا غلط طور پر روہنگیا مسلمانوں سے منسوب کی گئی تھیں، ان کے حوالے سے مخالفانہ پروپیگنڈا کیا گیا۔ لیکن ان چند غلطیوں سے بنیادی حقائق کو جھٹلایا نہیں جاسکتا۔ یہ جو تین چار لاکھ لوگ ہجرت کرکے آئے ہیں، کون کہہ سکتا ہے کہ یہ من گھڑت کہانی ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ کسی تکلیف کی وجہ سے گھربار چھوڑ کر آئے ہیں، اور جو آپ بیتیاں سناتے ہیں وہ رونگٹے کھڑے کرنے والی ہیں۔
میں نے رات کے وقت ایک ایسا کیمپ بھی دیکھا، جس کو کاغذ کے ہلکے سے ٹکڑے کو استعمال میں لاکر صرف سر چھپانے کے لیے بنایا گیا تھا۔ اس میں کم از کم ستر اسّی ایسے بچے تھے، جن کی عمریں لگ بھگ ایک سے تین سال کے درمیان تھیں۔ وہ بے یارومددگار پڑے بلبلا رہے تھے۔ہوسکتا ہے ان کے والدین ان کے لیے کھانے پینے کا بندوبست کرنے گئے ہوں۔ لیکن اس وقت کوئی بڑا ان بچوں کے پاس موجود نہیں تھا۔ جب کوئی انسان ایسی صورتِ حال کو آنکھوں سے دیکھے گا تو کوئی اسے من گھڑت کیسے کہہ سکتا ہے۔ یوں سمجھ لیجیے کہ جو لوگ وہاں پہنچ پائے ہیں،  یہ اس مظلوم آبادی کا صرف ایک حصہ ہے ۔ ایک بڑی تعداد وہ ہے جواَب تک پہنچ نہیں پائی اور جنگلوں میں اس انتظار میں ہے کہ کوئی انھیں یہاں سے نکالے، ورنہ وہ ذبح کردیے جائیں گے۔ یہ ایسے حقائق ہیں جن کی نفی کسی صورت میں ممکن نہیں ہے۔
جن علاقوں میں یہ لوگ پھنسے ہوئے ہیں، ان میں کچھ علاقے تو وہ ہیں کہ جہاں پانی اتنا گہرا نہیں ہے اور چھوٹی لانچوں سے نکالا جاسکتا ہے ۔ لیکن بعض علاقے ایسے ہیں جہاں گہرے پانیوں سے ان کو گزر کر خشکی پر آنا ہوتا ہے، جو کہ صرف بڑی لانچوں کا کام ہے۔ انسانی اسمگلنگ کا کام کرنے والوں کے لیے بھی یہ ایک کاروبار بن چکا ہے کہ وہ رقم لے کر ان لوگوں کو سمندروں اور دلدلوں سے نکال کر خشکی پر لائیں ورنہ وہ سمندر ہی میں موت کے منہ میں چلے جائیں گے۔ جن کا تذکرہ میں کر رہا ہوں وہ بہت قابل رحم ہیں۔ جن لوگوں کے پاس وسائل ہیں وہ انسانی جانوں کو محفوظ مقام پر پہنچانے کا اہتمام کرسکتے ہیں۔یہ بھی ایک اہم میدانِ کار ہے۔ اس کے لیے چاہیے کہ لوگ آگے بڑھیں اور اپنا کردار ادا کریں۔
 روہنگیا بھائیوں کی مدد کرنے والے بہنوں اور بھائیوں سے ہماری درخواست ہے کہ وہ چیزیں بھیجنے کے بجاے زیادہ سے زیادہ نقد عطیات دیں۔ لوگ ہمیں بار بار یہ کہتے ہیں کہ:    ’’ہم چاول اور اس طرح کی دوسری اشیا بھیجنا چاہتے ہیں‘‘۔ چوںکہ چاول وہاں کی مقامی پیداوار ہے، لہٰذا اگر ہم یہاں سے لے کر وہاں بھیجیں گے تو دگنی قیمت میں پڑیں گے۔ انھی دنوں ملایشیا نے ایک بڑی کھیپ غذائی اشیا کی بھیجی ہے۔ ملایشیا بالکل قریب بھی ہے اور ان کے پاس سرکاری وسائل بھی ہیں۔ لیکن ان کے برعکس پاکستان سے افراد نقدی ہی کو ترجیح دیں۔ اگر سامان آ بھی جائے تو اسے ہم براہِ راست نہیں بھیج سکیں گے۔ اسے انڈونیشیا یا ملایشیا کی تنظیموں کو دینا ہوگا اور یوں یہ ایک لمبے روٹ سے ہوکر ادھر پہنچے گا۔
 بنگلہ دیش کی جن تنظیموں کے ساتھ ہم نے کام کیا ہے، وہ وہاں کی رجسٹرڈ تنظیمیں ہیں۔ یادرہے پاکستان سے مالی امداد کا پہنچانا، وہاں کی حکومت شک کی نظر سے دیکھتی ہے۔ اس لیے   ہم مظلوموں کی مدد کے لیے رقم کی فراہمی کو کسی شک و شبہے کا شکار بنانے کے بجاے، انھی کے حوالے کر رہے ہیں، جن کے بارے میں بنگلہ دیشی حکومت اطمینان رکھتی ہے۔
پاکستان کی قومی اور بین الاقوامی ۲۵تنظیموں نے روہنگیا ٹاسک فورس بنائی ہے اور یہ طے کیا کہ پاکستان سے یہ امداد وہاں پہنچائی جاسکے۔ ہمیں اور ہماری لیڈر شپ کو بنگلہ دیشی ہائی کمشنر سے ملنا چاہیے اور انھیں کہنا چاہیے کہ باقی اختلافات اپنی جگہ، لیکن انسانی ہمدردی میں آپ نے جو اقدامات کیے ہیں ہم اس کو خوش آمدید کہتے ہیں۔آپ اپنے حفاظتی اقدامات کو پیش نظر رکھتے ہوئے، مسلم ملکوں سے امداد کے راستے کھولیں جو خود آپ کے لیے بھی فائدہ مند ہیں۔ اسی طرح کراچی میں ۳سے ۴ لاکھ روہنگین مسلمان پچھلے ۵۰ سال سے آباد ہیں، جنھیں ابھی تک شہری حقوق نہیں ملے ہیں۔ وہ پاسپورٹ اور شناختی کارڈ نہیں بنوا سکتے اور ملازمتیں حاصل نہیں کرسکتے۔ حکومت پاکستان ان کو شہریت دے تاکہ ان کی مشکلات دُور ہوں اور وہ زیادہ ذمہ دار شہری کے طور پر خدمات انجام دےسکیں۔