November 16th, 2018 (1440ربيع الأول7)

قرارداد بعنوان برما میں مسلمانوں کی نسل کشی کی مذمت

 

نویں صدی عیسوی میں جب مسلمانوں نے برصغیر میں فتح کے جھنڈے گاڑے ،اس وقت وہاں کے بدھ مت ، ہندو برہمنوں کے ہاتھوں ظلم و ستم کا شکار تھے ۔مسلمان سلاطین نے بدھ مت قوم پر اس ناروا ظلم و ستم کو ختم کروا کے انہیں انسانی حقوق سے سرفراز کیا۔ مگر گیارھویں صدی عیسوی میں برما کی حکومت بدھ مت قوم کے ہاتھ میں آئی تو امن کے پرچار بدھ مت حکمرانوں نے مسلمان رہنماؤں کو چن چن کر قتل کرنا شروع کر دیا ۔
پندرھویں سے اٹھارھویں صدی کے دوران برما کے بدھ مت بادشاہوں نے مسلمانوں پر بد ترین مذہبی پابندیاں لگائیں ۔اور مسلمانوں کے لئے بدھ مت کی تعلیمات اور ان کے خطبات سننے کو لازمی قرار دے دیا۔برمی ریاست پر انگریزوں کے تسلط کے بعد انہوں نے بدھوں اور مسلمانوں کے مابین تفرقے کو ہوا دی جس کے نتیجے میں ۱۹۳۰ء میں مشہور زمانہ مسلم کش فسادات شروع ہو گئے ۔ہزاروں مسلمانوں کے علاوہ ۱۱۳ مساجد بھی شہید کر دی گئیں۔
برما کے مسلمانوں نے اپنے تحفظ کے لئے ۱۹۴۵ء میںBMC (برما مسلم کونسل )کے نام سے ایک تنظیم بنائی جس کے سر براہ ’ یو رزاق ‘ کو بھی برمی حکومت نے شہید کر کے اس مسلم تنظیم کو دھشت گر د قرار دیدیا ۔۲۰۰۱ء میں بدھ مت پیروکاروں نے مسلمانوں کے خلاف پر تشدد کاروائیوں کی نئی لہر شروع کی ۔جس میں کثیر تعداد میں مساجد شہید اور مسلمانوں کو نظر آتش کر دیا گیا ۔حکومت نے فوج طلب کر کے عارضی طور پر حالات کو کنٹرول کر لیا ۔مگر گیارہ سال بعد ۲۰۱۲ء میں مسلم آبادی والے شہر اراکان میں بد ترین مسلم کش فسادات بڑھک اٹھے ۔ڈیڑھ ماہ میں بیس ہزار مسلمانوں کو شہید کر دیا گیا۔اڑھائی ہزار نوجوان ٖغائب کر دیئے گئے ،سات سو مسلمانوں کو ہاتھ پاؤں باندھ کر دریا میں بہا دیا گیا ۔۲۳۰۰ خاندانوں کو گھروں کے اندر جلا دیا گیا
مسلمانوں کی نسل کشی کی یہ بد ترین لہر اقوام عالم کی مداخلت پر کچھ مدہم ہوئی مگر اب پوری شدت کیساتھ مسلمانوں کے قتل عام اور ان کی در بدری کی لہر اب رونگیا میانمار میں پھر سے بیدار ہوئی ہے اس نے پورے عالم اسلام کو اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے ۔
جماعت اسلامی حلقہ خواتین پاکستان کے ارکان و کارکنان برما میں مسلمانوں کے ساتھ انسانیت سوز سلوک پر گہرے رنج اور دکھ کا اظہار کرتے ہوئے شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں اوراقوام متحدہ ،او۔آئی۔سی اور اقوام عالم سے مطالبہ کرتی ہیں کہ
) وہ اپنے تمام تر اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے برما کے مسلمانوں پر ہونے والے انسانیت سوزتشدد ،دردناک مظالم اور درندگی ختم کروانے کے لئے فوری عملی اقدامات کریں
)اقوام متحدہ اپنے منشور برائے انسانی حقوق کو نافذکرے اور اس سلسلے میں کوئی سیاسی یا مذہبی دباؤ قبول نہ کرے۔
)اپنے ممبرز ممالک کے ذریعے اپنے سفارتی،معاشی اور تجارتی تعلقات منقطع کرے اور سوشل بائیکاٹ کرے اور اپنی فوج برما میں بھیج کر اس ظلم وستم کوفوری رکوانے کی ہر ممکن کوشش کرے
)میڈیا درندگی کے انسانیت سوز واقعات کے خلاف بھرپور آواز اٹھائے اور زیادہ سے زیادہ مذمتی پروگرام پیش کر کے اقوام عالم کے ضمیر کو بیدار کرے
)برما میں موجود دس لاکھ کے قریب مسلمان باشندوں اور ملک بدر کئے جانے والے لاکھوں مسلمانوں کوبرما کے باشندے تسلیم کرتے ہوئے شہریت اور تمام شہری حقوق دیئے جائیں ۔
)روہنگیا میں موجود جلے کٹے مسلمانوں اور دربدر ہونے والے مسلمانوں کی آباد کاری کے لئے فوری اور تسلی بخش انتظامات کیے جائیں۔
)حکومت پاکستان فی الفوربرما سے اپنے سفارتی تعلقات منقطع کرے ۔
)خطے کے ممالک بشمول ترکی کے ساتھ مل کر ان کے تحفظ کے لئے موثر لائحہ عمل طے کرے ۔