December 10th, 2019 (1441ربيع الثاني12)

اجتماعی معاملات کی ذمے داری بہت حساس اور اہم ہے ، دردانہ صدیقی

جماعت اسلامی پاکستان حلقہ خواتین کی مرکزی سیکرٹری جنرل دردانہ صدیقی کا کہنا ہے کہ مسلمانوں کے اجتماعی معاملات کی ذمے داری بے حد حساس اور اہم ہے اور اتنی ہی کڑی اس کی جوابدہی ہے۔ قیادت کے لیے لازم ہے کہ وہ فہم و بصیرت سے مالا مال ہو اوراجتماعیت کو آگے لے کر چل سکے۔ دور حاضر میں اسلام کے احکام اور شعائر کے خلاف کام کرنے والے کسی جھجک کے بغیر ہمارے آفاقی دین کے خلاف صف آرا اور جدید ذرائع اور وسائل سے لیس ہیں تو اللہ کا دین پھیلانے کے لیے ہمیں زیادہ چوکنا اور چوکس ہونا ہوگا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ناظمات اضلاع و شعبہ جات صوبہ پنجاب وسطی کی تربیت گاہ سے خطاب میں کیا۔دردانہ صدیقی نے مزید کہا کہ تنظیم بظاہر خود مقصد نہیں ہوتی بلکہ مقصد کے حصول کا ناگزیر ذریعہ ہے، مؤثر تنظیم وہ ہوتی ہے جو مقصد کی جانب اپنا سفر آگے بڑھائے، ہمیںاپنی پوری زندگی میں اللہ کی بندگی اختیار کرنا ہے اور دوسروں کو بھی اس کی دعوت دینی ہے۔جو ہماری دعوت کو قبول کرلیں اور ہمارا ساتھ دینے کو تیار ہوجائیں ان کی تعلیم وتربیت کا انتظام کرنا بھی ہماری ذمے داری ہے،اس پوری مشق سے جو لوگ تیار ہوتے وہی صالح معاشرے کے قیام اور حکومت وریاست کی سمت درست کرنے میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دعوت کا کام ایک کسان کی طرح آگے بڑھانے میں تنظیم کردار ادا کرتی ہے۔بیج بونے سے لے کر شاخ دار درخت بننے تک تنظیم ہی پیش پیش ہوتی ہے، جماعت کی نظامت سپرد کیے جانے کا مطلب یہ ہے کہ ہماری تمام تر صلاحیتیں آزمائش پر ڈال دی گئی ہیں۔اس ذمے داری سے لمحے بھر کی غفلت نہیں برتی جاسکتی۔ نظامت کی ذمے داری پھولوں کی سیج نہیں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کرپشن فری پاکستان اور کشمیر ایشو پر جماعت اسلامی کے سوا اور کون کھڑا ہے؟ اسلامی فلاحی ریاست کے قیام کے لیے صرف جماعت اسلامی ہی کھڑی ہے۔قبل ازیں دردانہ صدیقی وسطی پنجاب کے 3 روزہ دورے پر لاہور پہنچیں، ڈپٹی سیکرٹری رعنا فضل بھی ان کے ہمراہ ہیں۔